23مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کے نکات اور مندرجات کو فراموش کرنے سے آج ملک بحرانوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:28:23 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:20:27 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:20:27 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:20:27 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:18:25 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:14:52 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:14:52 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:14:52 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:09:46 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:09:46 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 23:00:00
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

23مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کے نکات اور مندرجات کو فراموش کرنے سے آج ملک بحرانوں کا شکار ہے، طارق محبوب،

قرارداد پاکستان پر من و عن عمل کر کے مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب قومی امنگوں کا ترجمان ہے

کراچی (ردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ 2015ء) سنی اتحادکونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کے سربراہ طارق محبوب نے کہا ہے کہ 23مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کے نکات اور مندرجات کو فراموش کرنے سے آج ملک بحرانوں کا شکار ہے۔ قرارداد پاکستان پر من و عن عمل کر کے مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب قومی امنگوں کا ترجمان ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم پاکستان قومی و ملی جذبے سے منانے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے مرکز بیت المصطفےٰ میں سنی اتحاد کونسل اور اے این آئی پاکستان کراچی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں پیر مختار صدیقی، علامہ فیصل عزیزی، مولانا سید بلال شاہ، اے این آئی پاکستان سندھ کے رہنما سید مبشر علی قادری، کراچی کے صدر نعیم صدیقی، جنرل سیکریٹری صمید عالم اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں 23 مارچ کو یوم تحفظ قرارداد پاکستان کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو اسلامک مشن ہال گلشن اقبال میں ہوگی جس میں قومی سیاسی و مذہبی رہنما دانشور اور دیگر خطاب کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح،مفکر پاکستان علامہ اقبال  ، قائد ملت خان لیاقت علی خان کے افکار و نظریات اور 23 مارچ 1940 کی قرار داد پاکستان کے نقاط و مندرجات کو فراموش کرکے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے ملک و قوم کو کرپشن، سیاسی و معاشی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال، بدامنی، لاقانونیت، دہشت گردی، انتہا پسندی، بدحالی، مفاد پرستی، بحرانوں اور مشکلات در مشکلات میں دھکیلا ۔

حکمراں طبقہ عوامی حقوق غصب کر کے ذاتی و سیاسی مفادات کے حصول میں سرگرداں ہے۔ عام انتخابات سے لیکر سینیٹ کے الیکشن تک جمہوری قدروں ، آئین کے اصولوں اور قانون کو نظر انداز کرنے کے عمل نے عوام کا اعتماد مجروع کیا ۔ حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر سینیٹ کے الیکشن میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کی جبکہ عوامی مفادات سے منسلک بلدیاتی الیکشن کرانے کے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں اور بلدیاتی انتخابات 7 سال سے زیر التوا ہیں۔

حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ جس سے حکومت کی نیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ صرف اپنے مفادات کے لیے ہی جمہوریت کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ طارق محبوب کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے قائدین و اکابرین اور علماء و مشائخ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/03/2015 - 23:14:52 :وقت اشاعت