بدعنوانی کا خاتمہ کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا،ممنون حسین،
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:28:00 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:28:00 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:24:14 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:24:14 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:24:14 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:14:23 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:14:23 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:14:23 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:11:28 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 22:11:28 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 21:46:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

بدعنوانی کا خاتمہ کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا،ممنون حسین،

قوم بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے اور بدعنوان عناصر سے قطع تعلق کرے،صدر مملکت کا کراچی کے ایکسپو سینٹر میں پاکستان آٹو شو کے افتتاح کے بعد خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ 2015ء)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا،قوم بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے اور بدعنوان عناصر سے قطع تعلق کرے،حکومت متعلقہ فریقین کی مشاورت سے نئی آٹو پالیسی لائے گی،تاہم کار ساز کمپنیاں کاروں کی قیمتوں میں کمی کیلئے بھی اقدامات کریں۔گزشتہ روز کراچی کے ایکسپو سینٹر میں پاکستان آٹو شو کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آٹو انڈسٹری کو ایک مستحکم اور بااعتماد پالیسی فراہم کرکے نہ صرف مثبت پیداواری نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں بلکہ یہ صنعت صارفین کو مناسب قیمت میں بہترین کوالٹی کی مصنوعات بھی فراہم کرسکتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت تمام فریقین کی مشاورت سے نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس میں اس صنعت سے متعلقہ تمام پہلووں کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارسازی کی صنعت کی ترقی دیگر شعبوں کے لئے ایک رول ماڈل ہے، یہ صنعت ٹیکس، ڈیوٹی اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران عالمی کساد بازاری کی وجہ سے کارسازی کی صنعت بحران کا شکار رہی، اس دوران ہماری صنعت نے لچک کا مظاہرہ کیا اور اب آہستہ آہستہ اس صنعت کی پیداواری صلاحیت بحال ہورہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اپنی صنعت کو اتنی ترقی دینی چاہیے کہ باہر سے گاڑیاں نہ منگوانا پڑیں۔انہوں نے کارساز کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ گاڑیوں کی قیمت کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔صدر مملکت نے مقامی گاڑیوں کے معیار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صارفین گاڑیوں کی کوالٹی اور قیمت سے مطمئن نہیں ہیں جس کی وجہ سے درآمدی گاڑیوں کی خریداری کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آٹو انڈسٹری صارفین کو کم قیمت پر گاڑی فراہم کیوں نہیں کرپارہی ہیں؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جس کے جوابات اس صنعت کو تلاش کرنا ہونگے۔صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کا تہیہ کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ قوم بدعنوان عناصر سے قطع تعلق کرلے۔ صدر مملکت نے آٹو انڈسٹری سیکٹر میں خواتین کی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔

صدر مملکت نے بچیوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین اور بچیوں کو چاہئے کہ جس شعبے میں ان کی دلچسپی ہے اس میں وہ بہترین تعلیم حاصل کریں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہمیں غیر ملکی ثقافت کی اندھی تقلید نہیں کرنی ہے اور ہمیں یہ نہیں بھولنا کہ ہم پاکستانی ہیں

11/03/2015 - 22:14:23 :وقت اشاعت