رینجرز والے خود بغیر اسلحہ لائسنس کمبل میں لیکر نائن زیرو آئے، الطاف حسین کا الزام
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:35:46 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:35:46 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:35:16 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:30:11 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:21:33 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:19:20 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:19:20 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:16:11 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:16:11 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:15:32 وقت اشاعت: 11/03/2015 - 16:11:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

رینجرز والے خود بغیر اسلحہ لائسنس کمبل میں لیکر نائن زیرو آئے، الطاف حسین کا الزام

لندن،کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مارچ۔2015ء)ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نائن زیرو پر کس قانون کے تحت چھاپہ مارا گیا ہے، انہوں نے رینجرز پر الزام لگایا ہے کہ نائن زیرو پر ملنے والا اسلحہ رینجرز خود کمبل میں لیکر آئے ہیں اور میڈیا کو دکھایا ہے،ہمارا اس عجیب و غریب اسلحہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میری بہن عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار رینجرز ہو گی،نائن زیرو پر کس قانون کے تحت کارروائی کی گئی ،وقاص کے قتل پر پردہ ڈالنے والوں پر اللہ کاعذاب نازل ہوگا،میں بکتا نہیں اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو میری شکل پسند نہیں، رابطہ کمیٹی فوری طور لائحہ عمل بنائے اور مجھے ایم کیو ایم سے علیحدہ کردے۔

اگر نائن زیرو پر دہشت گرد موجود تھے تو رابطہ کمیٹی کو خود ہی بتا دینا چاہیے تھا ،کسی سے ماضی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو دوسروں کو نہ پھنساتے ۔جو غلطی کر بیٹھے تھے اور پولیس کو مطلوب تھے انہیں نائن زیرو کو مصیبت میں نہیں ڈلوانا چاہیے تھا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روزلندن سے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

الطاف حسین نے کہا ہے کہ کارکن صبر وتحمل سے میری بات سنیں۔ریاست کے اہم ادارے نائن زیرو پر جو ہوا وہ کس قانون کے تحت ہوا،میری بڑی بہن سائرہ بیگم کے گھر پر رینجرز نے چھاپے مارے اور اس دوران 60 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،کیا تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر چھاپے مارنے کا سنا ہے ،آپریشن صرف ایم کیو ایم کے خلاف کیوں کیا جارہاہے،رینجرز کے پاس یقینا دیگر سیاسی جماعتوں کا ریکارڈ بھی موجود ہوگا،کراچی میں ایم کیو ایم کے علاوہ بھی کسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے ،آج کس قانون کے تحت نائن زیرو پر کارروائی کی گئی ،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نے کہا کہ تھا کہ کراچی میں ہر سیاسی جماعت کے عسکری ونگ ہیں،پاکستان کے کچھ لوگ قانون کی زد میں اور کچھ قانون کی ضد میں آتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ہر قسم کی ظلم کی اجازت ہے،پاکستان میں کچھ لوگ قانون سے ماورا ہو جاتے ہیں،ایم کیو ایم ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے ،ہم نے فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا،میرا سوال ہے کہ کیا الطاف حسین مسلمان نہیں ہے؟کیا میں پاکستانی نہیں ؟گھروں میں گھس کر جوزبان استعمال کی جاتی ہے بیان نہیں کر سکتا ،ہمارے کارکنوں پر تشدد کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں،ہمارے ہزاروں کارکنوں کو شہید کر دیا گیا ہے ،ہمارے ساتھ ظلم و بربریت کی انتہائی کر دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی کارکنوں کو صبر کرنے کی تلقین کی ہے ،ہم نے کہا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے فوجی آپریشن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/03/2015 - 16:19:20 :وقت اشاعت