پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کیلئے نظام صحت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ،ڈبلیو ایچ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 07/03/2015 - 14:17:24 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 14:17:24 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 14:16:04 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 14:12:10 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 14:12:03 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:57:35 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:57:35 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:55:21 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:55:21 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:55:21 وقت اشاعت: 07/03/2015 - 13:53:12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کیلئے نظام صحت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ،ڈبلیو ایچ او

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07مارچ۔2015ء) عالمی ادارے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مشیر مریم قیصر اور ایما ہینکوکس نے کہا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کیلئے نظام صحت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے خاص طور پر سرکاری کوالٹی کنٹرول لیبارٹریاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں ایک پریس بریفنگ میں کیا۔

مریم قیصر نے کہا کہ لیبارٹری اسٹاف کی مہارت اور کارکردگی کے باوجود اس ضمن میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی معیارات کو پورا کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر، آلات اور سسٹم کو بھی جدید بنانے کی ضرورت ہے جو لیبارٹری کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کے تحفظ کے لیے ادویات کی موثر ریگولیشن ضروری ہے اسی طرح مارکیٹ میں موجود ادویات کا معیار اور کارکردگی بھی یقینی بنانی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے لاہور کے المناک حادثے کے بعد ڈبلیو ایچ او نے اپنے جائزے میں نیشنل فارما سیوٹیکل کنٹرول لیبارٹریوں کو بھی شامل کیا ہے اور اس جائزے کے بعد اس شعبے کی کارکردگی بڑھانے کی تجویز دی ہے تاکہ نتائج کے بارے وثوق سے اعتبار کیا جاسکے۔سرکاری فارماسیوٹیکل کوالٹی کنٹرول لیب کا مقصد مارکیٹ میں دستیاب مریضوں کے لیے ادویات کا قابل بھروسہ تجزیہ اور ان کی رپورٹ شائع کرنا ہے اور ادویات مینوفیکچررز کے کوالٹی کنٹرول کے مرحلے سے گزر چکی ہیں۔

ان لیبارٹریوں کو معیار کے مطابق پورا نہ ہونے والی ادویات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ایسی ادویات کے بارے میں ریگولیٹری اتھارٹی کی توجہ حاصل کی جاسکے اور اتھارٹی اس کی مزید تحقیقات کرسکے۔ قابل اعتماد، خود مختار اور قواعد کا پابند لیبارٹری تجزیہ مریضوں کے تحفظ کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے جو غیر معیاری ادویات کے خلاف حکومت کی کوششوں میں بھی معاون ہوگا۔

یہ لیبارٹریاں جعلی ادویات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مارکیٹ کے تحفظ، غفلت، گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز، گڈ ڈسٹری بیوشن پریکٹسز کی خلاف ورزی اور جعلی ادویات کے معاملے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سرکاری کوالٹی کنٹرول لیبارٹریوں کو مزید موثر بنانے کے لیے زیادہ تربیت اور انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ اس مصرف میں ہمیں مزید ورک شاپس کے انعقاد کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

07/03/2015 - 13:57:35 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان