جعلی دستاویز پر کلیئرنگ ایجنٹس سے بازپرس نہیں ہوگی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

کراچی

جعلی دستاویز پر کلیئرنگ ایجنٹس سے بازپرس نہیں ہوگی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔04مارچ۔2015ء)محکمہ کسٹمز نے درآمدی مقاصد میں استعمال ہونے والی جعلی دستاویزات کی نشاندہی کی صورت میں متعلقہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ کو مشروط طور پر بری الذمہ قراردینے کا فیصلہ کرلیا ہے اوراس سلسلے میں جلد ہی پبلک نوٹس جاری کردیا جائے گا۔اس سے قبل کسی بھی درآمدی کنسائمنٹس میں ڈیوٹی وٹیکسوں کی رعایتوں کے لیے درآمدکنندگان کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جعلی این اوسی یا جعلی ایف ٹی اے سی کی نشاندہی کی ذمے داری متعلقہ کسٹمزکلیئرنگ ایجنٹ پر عائد کردی جاتی تھی اور اس کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جاتی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ کسٹم ہاؤس کراچی میں طویل دورانیے سے وزارت تجارت سمیت دیگر وزارتوں کے جعلی ترغیبی این اوسیز اور فری ٹریڈ ایگریمنٹس سرٹیفکیٹس کی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں استعمال ہونے کی نشاندہی ہو رہی ہے تاہم اب گڈز ڈکلیریشن جمع کرانے کے بعد بار کوڈ سسٹم کے ذریعے صرف ایف ٹی اے کی جانچ پڑتال کے بعد حقیقی یا جعلی ہونے کا پتا چلایا جارہا ہے لیکن مختلف وفاقی وزارتوں کی جاری کردہ این او سی کی تصدیق بذریعہ فون، فیکس یا ای میل کے ذریعے کی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں کلکٹرکسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ ڈاکٹر منظورحسین میمن نے آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04/03/2015 - 13:55:46 :وقت اشاعت