بلدیاتی اداروں کے ملازمین گزشتہ تین سالوں سے تنخواہوں اور مراعات سے محروم ہیں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:46:37 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:45:41 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:45:41 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:45:41 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:34:43 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:33:37 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:32:44 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:32:44 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:31:47 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:31:47 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 19:31:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

بلدیاتی اداروں کے ملازمین گزشتہ تین سالوں سے تنخواہوں اور مراعات سے محروم ہیں ،سید ذوالفقارشاہ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03مارچ۔2015ء)میونسپل ورکرز ٹریڈیونیز الائنس کے صدر سید ذوالفقار شاہ،چیئر پرسن کنیز فاطمہ،جنرل سیکریٹری عبد الرؤف بلوچ نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین گزشتہ تین ، ساڑھے تین برسوں سے تنخواہوں و دیگر مراعات ، اوور ٹائم ، یونیفارم الاؤنس ، صابن ڈسٹر سمیت کئی مراعات سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ ریٹائرمنٹ کے وقت دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انہیں اپنے قانونی واجبات لیو انکیشمنٹ ، پراویڈنٹ فنڈ، پینشن ، کموٹیشن کی ادائیگی کے لئے دو سے تین برس تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح وفات پاجانے والے ملازمین کے لواحقین کاغذات کی تکمیل کے بعد تین سے چار برس تک قانونی واجبات لیو انکیشمنٹ ، گروپ انشورنس، فنانشیل اسٹنسٹس ، پروانڈنٹ فنڈ ، گریجویٹی ، پینشن کی ادائیگی کے لئے طویل انتظار کرنا پڑرہا ہے۔

بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ وہ آج کے ایم سی ورکشاپ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر الائنس کی اسٹیرنگ کمیٹٰی کے اراکین ملک محمد نواز ،اشراف اعوان ،نذیر جسکانی ،طاہر رحمانی ،غلام حسین شاہ ،پرویز جدون، ماسٹرسیموئیل بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے مالی بحران کی اصل وجہ پی ایف سی ایوارڈ کا 2010ءء کے بعد اعلان نہ ہونا ہے۔

جس کے تحت بلدیاتی اداروں کی OZT(آکٹرائے ضلع ٹیکس)گرانٹ میں ہر سال 20%فیصد اضافہ ہونا تھا جو کہ نہ ہونے سے بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں اور تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگیاں تک کرنے سے بلدیاتی ادارے قاصر ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیہ جنوبی کراچی کے ملازمین گزشتہ تین ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی سے عرصہ دراز سے محروم چلے آرہے ہیں انہیں ہر ماہ ایک تنخواہ ادا کی جاتی ہے لیکن پچھلے تین تنخواہوں کا بیک لاک تاحال کلیئر نہیں ہوسکا۔

اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کو علاج معالجہ ، اضافی ڈیوٹیوں کی ادائیگی پر اوور ٹائم یونیفارم کی کیش پے منٹ ، ٹیکنیکل ملازمین کو صابن ڈسٹر برش کی فراہمی تک کی حاصل سہولت کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔یہی نہیں بلکہ اربوں روپوں کی قیمتی مشینری کی تین سال سے مرمت نہ ہونے سے انہیں ناکارہ کردیا گیا ہے۔ ڈرائیور حضرات کو گاڑیوں میں انجن آئل ڈالنے اور پنکچر لگانے تک کی سہولت سے محروم کردیا گیا ہے۔

جس کی وجہ سے گاڑیاں معمولی خرابی کی وجہ سے ورکشاپ میں کھڑی کردی جاتی ہیں اور شہر میں مرحلے وار کچرا کنڈیاں ختم ہونے سے بڑی کچرا کنڈیوں پر کچرے کا دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے فیول کوٹہ میں کمی کردی گئی جس کی وجہ سے کچرا ٹھکانے لگانے کے نظام میں خرابی پیدا ہوگئی جبکہ شہر میں 1980ءء سے لے کر 1986ءء تک سینٹری ورکرز کی تعداد 14ہزار سے زائد تھی جو کہ کم ہوتے ہوتے اب 10ہزار سے بھی کم ہوگئی ۔

جبکہ شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آبادی میں اضافہ کی وجہ سے کچرے کی پیداوار بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔گاڑیوں کی تعداد میں خرابی کی وجہ سے مسلسل کمی فیول کوٹہ میں کمی اور سینیٹری ورکرز کی تعداد میں مسلسل کمی کی وجہ سے شہر میں کچرے کا نظام تباہ ہورہا ہے اور ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ موجودہ حکومت جان بوجھ کر تین ، ساڑھے تین سالوں سے فنڈز میں اضافہ نہ کرکے گاڑیوں کو ناکارہ کررہی ہے تاکہ سولیڈ ویسٹ منجمنٹ کے نظام کو پرائیویٹائز کرنے میں آسانی پیدا ہوسکے۔

حکومت سندھ بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی تحویل میں مرحلہ وار لے رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنا کر اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو براہ راست حکومت سندھ نے اپنی ماتحتی میں کرلیا۔ اسی طرح سے ماس ٹرانزٹ ماسٹر پلان کو حکومت سندھ اپنی تحویل میں لے چکی ہے۔

حکومت سندھ سولیڈ ویسٹ منجمنٹ بورڈ کے قیام کے بعد اور کچرے ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری حاصل کرنے کے بعد اب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن و ڈی ایم سیز سے باغات و تفریحات اور سول ڈیفنس جس کے تحت فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ قائم ہے کو قبضہ میں لینے کی تیاری کررہی ہے۔اس مقصد کے تحت حکومت کا محکمہ قانون دو نئے اداروں کے قیام کے لئے تیاریاں کررہا ہے۔

جن میں ایک سول ڈیفنس اینڈ ریسکیو اتھارٹی اور دوسرا ہارٹیکلچر اینڈ ریکوریشن بورڈ شامل ہے ان اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد بلدیہ کراچی کے کام کا دائرہ محدود کرنے اور ان کے اختیارات کم کرنا ہے تاکہ ان کے ذریعے حکومت سندھ آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرسکے ۔ سندھ حکومت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تین سال قبل اپنی تحویل میں لے چکی ہے جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں سمیت صوبہ بھر میں جمع ہونے والے کچرے کو اکٹھا کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03/03/2015 - 19:33:37 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان