کراچی کا ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی جرم کا شکارہے ، گیلپ پاکستان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:54:33 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:54:33 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:51:49 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:50:55 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:45:08 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:40:43 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:40:43 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:38:04 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:38:04 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:38:04 وقت اشاعت: 03/03/2015 - 13:37:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی کا ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی جرم کا شکارہے ، گیلپ پاکستان

کراچی /لندن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔03مارچ۔2015ء) گیلپ پاکستان سروے میں کہاگیاہے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہائش پذیر ہر دوسرا گھرانہ کسی نہ کسی طرح کے جرم کا شکار ہو چکا ہے،سٹریٹ کرائمز‘ کے لحاظ سے اورنگی ٹاوٴن سرفہرست ہے جبکہ نیو کراچی میں رہنے والوں نے ان جرائم کا باقی شہر کی نسبت کم سامنا کیا، لیاری انفرادی لحاظ سب سے خطرناک علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں کی قریباً نصف آبادی کبھی نہ کبھی لٹ چکی ہے، ملیر، سائٹ، صدر، گڈاپ، بن قاسم، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ میں جرائم کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے، گلشن اقبال، لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی ایسے علاقے ہیں جہاں 30 فیصد خاندان جرائم کا سامنا کر چکے ہیں،کراچی میں موبائل فون چھینا جانا سب سے زیادہ پیش آنے والا جرم بن چکا ہے ،اس کے بعد پرس چھینے جانے اور پھر موٹر سائیکل چھیننے کا نمبر آتا ہے،گھروں میں ڈکیتی صبح کے وقت اور رات گئے زیادہ ہوتی ہیں، رہن سہن سے ’امیر‘ دکھائی دینے والا طبقہ راہ چلتے زیا دہ لٹتا ہے، مردوں کے مقابلے میں راہ چلتی خواتین کو لوٹنے کی وارداتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے نشریاتی ادارے کیلئے گیلپ پاکستان کے کراچی میں کروائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کراچی شہر کی قریباً نصف آبادی رہزنی، ڈکیتی یا چوری یا اسی نوعیت کے کسی نے کسی ناخوشگوار تجربے سے گزر چکی ہے۔کراچی کے اٹھارہ ٹاوٴنز میں 17 نومبر 2014 سے 27 نومبر 2014 کے درمیان ہونے والے اس سروے میں مختلف عمر، طبقے، قومیت، لسانی گروہوں اور پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کبھی ان کے یا ان کے گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد ساتھ جرم کی کوئی واردات ہوئی ہے؟۔

جن جرائم کی فہرست ان افراد کے سامنے رکھی گئی ان میں راہزنی (راہ چلتے موبائل فون یا پرس وغیرہ کا چھینا جانا)، موٹر سائیکل یا گاڑی کا چھینا جانا، ڈکیتی، بھتے کی وصولی اور اغوا شامل ہے۔کراچی میں رہنے والے 46 فیصد افراد نے کہا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی فرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار سٹریٹ کرائم کا شکار ہوا ہے جبکہ سروے میں شامل ہر چار میں سے ایک فرد نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس جرم کا نشانہ بن چکا ہے۔

اس سروے کے مطابق ’سٹریٹ کرائمز‘ کے لحاظ سے اورنگی ٹاوٴن سرفہرست ہے جبکہ نیو کراچی میں رہنے والوں نے ان جرائم کا باقی شہر کی نسبت کم سامنا کیا۔اورنگی ٹاوٴن میں رہنے والے خاندانوں میں سے 65 فیصد کسی نہ کسی نوعیت کے جرم کا سامنا کر چکے ہیں جبکہ نیو کراچی میں سب سے کم تناسب یعنی 28 فیصد گھرانوں نے جرائم سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

کراچی کا علاقہ لیاری انفرادی لحاظ سب سے خطرناک علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں کی قریباً نصف آبادی کبھی نہ کبھی لٹ چکی ہے۔سروے میں شامل 43 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر جرم کی واردات ہو چکی ہے۔افراد کے ساتھ جرم کی وارداتوں کا سب سے کم تناسب نیو کراچی میں پایا گیا جہاں صرف آٹھ فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جرم کی واردات کا سامنا کیا ہے۔

جن علاقوں میں رہنے والی نصف یا اس سے زائد آبادی زندگی میں کم از کم ایک بار کسی نہ کسی جرم کی واردات کا سامنا کر چکی ہے ان میں لیاری کے علاوہ ، کیماڑی، جمشید ٹاوٴن، بلدیہ، اور لیاقت آباد شامل ہیں۔اس کے علاوہ ملیر، سائٹ، صدر، گڈاپ، بن قاسم، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ میں جرائم کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے۔سروے کے مطابق گلشن اقبال، لانڈھی اور شاہ فیصل کالونی ایسے علاقے ہیں جہاں 30 فیصد خاندان جرائم کا سامنا کر چکے ہیں۔

کراچی میں رہنے والے 35 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا فون کبھی نہ کبھی چھینا جا چکا ہے۔کراچی میں موبائل فون چھینا جانا سب سے زیادہ پیش آنے والا جرم بن چکا ہے جس کے بعد پرس چھینے جانے اور پھر موٹر سائیکل چھیننے کا نمبر آتا ہے۔کراچی میں رہنے والے 35 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا فون کبھی نہ کبھی چھینا جا چکا ہے۔موبائل فون چھیننے کی سب سے زیادہ وارداتیں بلدیہ ٹاوٴن میں پیش آتی ہیں جہاں آباد گھرانوں میں سے نصف کسی رہزن کے ہاتھوں، کبھی نہ کبھی اپنے فون سے محروم ہو چکے ہیں۔

سرو ے کے مطابق تناسب کے لحاظ سے شہر کے باقی علاقوں کی نسبت موبائل فون چھینے جانے کی سب سے کم وارداتیں نیو کراچی میں ریکارڈ کی گئیں جہاں رہنے والے ایک چوتھائی گھرانے اپنے موبائل فون سے محروم ہوئے۔کراچی میں 14 فیصد خاندان ایسے ہیں جن کے کسی نہ کسی فرد کا فون ایک سے زیادہ مرتبہ چھینا گیا ہے۔موبائل فون بھی انہی لوگوں کے زیادہ چھینے جاتے ہیں جو حلیے اور رہن سہن سے ہی امیر دکھائی دیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ راہ چلتے وارداتیں کرنے والے افراد اس خاندان کے لوگوں کو زیادہ شکار بناتے ہیں جو رہن سہن سے ’امیر‘ دکھائی دیں۔سروے میں شامل افراد کے مالی پس منظر کا جائزہ ثابت کرتا ہے کہ امیر طبقے کے ساتھ سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں سب سے زیادہ اور متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے ساتھ کم و بیش ایک جتنی ہی پیش آتی ہیں۔سٹریٹ کرائمز کا شکار ہونے والے گھرانوں کی بڑی تعداد، یعنی 63 فیصد امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی طرح موبائل فون بھی انہی لوگوں کے زیادہ چھینے جاتے ہیں جو حلیے اور رہن سہن سے ہی امیر دکھائی دیں۔ سروے کے مطابق گجراتی بولنے والے افراد کے سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے شکار ہونے کے واقعات زیادہ ہیں۔سروے میں شامل افراد میں سے 32 فیصد ایسے گجراتی بولنے والے تھے جو کسی نہ کسی شکل میں جرم کا سامنا کر چکے ہیں۔دوسرا نمبر سرائیکی بولنے والوں کا ہے جن کے نشانہ بننے کا تناسب 20 فیصد ہے۔

لیکن اگر گھرانوں کی بات کی جائے تو پنجابی اور سرائیکی بولنے والے خاندان کے ساتھ واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔سندھی بولنے والی خواتین کے ساتھ پرس چھیننے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔سروے میں شامل 48 فیصد پنجابی اور سرائیکی افراد نے کہا کہ ان کے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ان وارداتوں کا شکار ہو چکا ہے۔ پشتو بولنے والے گھرانوں میں یہ تناسب سب سے کم 32 فیصد ہے۔

گجراتی بولنے والی خواتین پرس چھیننے والوں کا خاص نشانہ ہیں جن کے ساتھ اس واردات کا تناسب سب سے زیادہ ہے جبکہ ان کے مقابلے میں سندھی بولنے والی خواتین کے ساتھ پرس چھیننے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اسی طرح بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں پنجابی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔کراچی میں رہنے والے مردوں کے مقابلے میں راہ چلتی خواتین کو لوٹنے کی وارداتیں بہت کم ہوتی ہیں۔

سروے بتاتا ہے کہ صرف 14 فیصد خواتین کے ساتھ موبائل فون چھینے جانے کی واردات ہوئی جبکہ مردوں میں یہ تناسب 31 فیصد ہے۔اسی طرح عام تاثر کے برعکس مردوں کے پرس عورتوں سے زیادہ تعداد میں چھینے جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں میں یہ تناسب دو اور دس کا ہے۔بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔رات کا اندھیرا واردات کے لیے موزوں؟۔

عمومی تاثر کے برعکس جرائم کی بیشتر وارداتیں معمولی فرق کے ساتھ دن کے اوقات میں بھی اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی اندھیرا چھا جانے کے بعد۔البتہ بعض وارداتیں ایسی ہیں جو دن کے وقت میں زیادہ دیکھنے میں آئی ہیں۔سروے میں شامل افراد میں سے بیشتر نے کہا کہ ان کی گاڑی دن کے وقت چھینی گئی تھی جبکہ گاڑی چھینے جانے کا سب سے زیادہ امکان صبح سویرے ہوتا ہے جب لوگ دفتر جا رہے ہوتے ہیں۔

تقریباً 42 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی گاڑی دوپہر بارہ بجے سے پہلے چھینی گئی تھی۔خواتین کے پرس چھیننے کی کارروائی سہ پہر کے وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جن خواتین کے پرس چھینے گئے ان میں قریباً نصف کے ساتھ یہ واقعہ دن 12 بجے سیسورج غروب ہونے کے درمیان پیش آیا۔بھتے کی واردات دن کے وقت ہونے کا تناسب سورج ڈھلنے کے بعد کے وقت سے کچھ زیادہ ہے۔

یہ واردات عموماً دوپہر کے بعد اور رات سے پہلے پیش آتی ہے۔گھروں میں ڈکیتی صبح کے وقت اور رات گئے زیادہ ہوتی ہیں۔سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔اسی نوعیت کے سروے کے ذریعے باقی ملک سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار اس عمومی تاثر کی تصدیق کرتے ہیں کہ سٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کراچی میں باقی ملک کے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔

مثلاً ملک کے باقی شہروں کی نسبت کراچی میں موبائل فون چھیننے کے دوگنا زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔ اسی طرح موٹر سائیکل بھی کراچی ہی میں سب سے زیادہ چھینے جاتے ہیں۔لیکن بعض جرائم ایسے ہیں جن میں ملک کے دیگر شہر کراچی سے آگے نکل چکے ہیں۔مثلاً ڈکیتی ایسا جرم ہے جو کراچی کی نسبتاً باقی ملک میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین سے راہ چلتے زیورات چھینے جانے کی وارداتیں بھی کراچی سے زیادہ ملک کے دیگر شہروں میں پیش آتی ہیں۔

03/03/2015 - 13:40:43 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان