مرگی 70فیصد قابل علاج مرض ہے ،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:18:13 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:16:46 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:16:46 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:16:46 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:10:43 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:10:43 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 22:00:40 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 21:52:56 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 21:52:56 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 21:52:56 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 21:51:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

مرگی 70فیصد قابل علاج مرض ہے ،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

دنیا بھر میں 2اعشاریہ 5 فیصد بچے ناقابل علاج مرگی کا شکار ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں مرگی کا شکار 7فیصد بچے ناقال علاج مرگی کا شکار ہیں ، بھارت میں یہ تعداد 4فیصد ہے، ماہر دماغی امراض آغاخان اسپتال

کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28فروری۔2015ء ) آغاخان اسپتال کی دماغی امراض کی ماہرڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ مرگی 70فیصد قابل علاج مرض ہے ، دنیا بھر میں 2اعشاریہ 5 فیصد بچے ناقابل علاج مرگی کا شکار ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں مرگی کا شکار 7فیصد بچے ناقال علاج مرگی کا شکار ہیں ، بھارت میں یہ تعداد 4فیصد ہے ۔ پاکستان میں دولاکھ افراد مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں جن میں سے 50 ہزار مریض مرگی کا علاج کروارہے ہیں جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد مرگی کے علاج سے دور ہیں،علاج کے نتیجے میں مرگی سے متاثرہ ایک لاکھ افرادمعاشرے کا صحت مند شہری بنایا جا سکتا ہے ۔

۔وہ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی اور نیورولوجی ایویرنیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت مقامی ہوٹل میں مرگی کے مرض سے متعلق آگہی پروگرام کی ڈی وی ڈی کے اجراء کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں ۔ تقریب سے پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے صدراور آغاخان اسپتال کے نیورولوجسٹ پروفیسر محمد واسع شاکر ، سیکریٹری اور ڈاؤ یونیورسٹی کی نیورولوجسٹ ڈاکٹر نائلہ شہباز ،ضیاء الدین اسپتال کے ڈاکٹر رشید سومرو، ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ضیاء الرحمن ، ڈاکٹر عبد المالک اور فارما کمپنی کے نوید اختر نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ پاکستان میں مرگی کے شکار بچوں میں سے 7فیصد کو ناقابل علاج مرگی یعنی لینوٹ کیسٹروٹ سینڈروم لاحق ہے اور اپنی حالیہ تحقیق میں یہ دیکھاہے کہ بچوں کومرگی کی ناقابل علاج شکل لاحق ہونے کی بنیادی وجہ دوسری بیماریوں کے انفیکشنز ہیں اور ان انفیکشنز کے نتیجے میں بچوں کے دماغ پر نفسیاتی اثر مرتب ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں ناقابل علاج مرگی لاحق ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی میں کسی ایک سرکاری اسپتال میں دماغی امراض میں مبتلا 3سوسے 4سو مریض روزانہ آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرگی کی بہت سی اقسام ہیں اور ڈاکٹروں کی اکثریت اس سے لاعلم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مرگی کے مریض کا غلط علاج شروع ہوجاتا ہے یا دوائیں کم دینے کے بہ جائے دواؤن کی تعداد یا خوراک بڑھا دی جاتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا میں مرگی کی 30ادویات ہیں جن میں سے 25ادویات پاکستان میں موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ، مرگی کے ہر عمر کے مریضوں کے علاج کے لیے الگ الگ 50سے زائد گائیڈ لائنز ہیں ۔جس میں ڈاکٹروں

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

28/02/2015 - 22:10:43 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان