وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کیلئے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں ،تقرریوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:52:03 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:43:22 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:43:22 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:43:22 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:38:21 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:38:21 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:38:21 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:36:58 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:35:30 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:35:30 وقت اشاعت: 28/02/2015 - 18:35:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کیلئے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں ،تقرریوں پر پابندی عائد کر دی،

سانحہ شکارپور میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے ،گرفتاری پر سندھ پولیس اور رینجرز کیلئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان ، , دینی مدارس بارے وفاقی حکومت بھی قانون بنا رہی ہے ،سندھ حکومت بھی قانون سازی کر رہی ہے،سید قائم علی شاہ ، , سندھ کو تین زونز میں تقسیم کرنے اور زونل کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا ،پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28فروری۔2015ء) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ شکارپور میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری پر سندھ پولیس اور رینجرز کے لیے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے پولیس افسروں اور اہل کاروں کو انفرادی طو رپر بھی انعام دینے کا اعلان کیا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ماہ کے لیے سندھ پولیس کے سینئر افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پولیس افسران کو کم از کم ایک سال تک ان کے عہدوں سے نہیں ہٹایا جائے گا ۔

انہوں نے سانحہ شکارپور کا کیس فوجی عدالت میں بھی بھیجنے کا اعلان کیا ۔ یہ اعلانات انہوں نے ہفتہ کو چیف منسٹر ہاوٴس میں منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیے ۔ اس موقع پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خور احمد شاہ ، سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن ، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی بھی موجود تھے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ دینی مدارس کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی قانون بنا رہی ہے اور سندھ حکومت بھی اس حوالے سے قانون سازی کر رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ سندھ کو تین زونز میں تقسیم کرنے اور زونل کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اس پر ایک پریزینٹیشن دی گئی تھی ۔

میں کسی تنازعہ میں نہیں جانا چاہتا ۔ رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہمارے اچھے روابط ہیں ۔ زونل کمیٹیوں کی تشکیل کا معاملہ ہم طے کر لیں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیکرٹری محکمہ داخلہ سندھ عبدالکبیر قاضی کو معطل کرنے پر میں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ہلکا سا احتجاج کیا ہے کیونکہ انہیں کوئی شوکاز نوٹس دیئے بغیر معطل کیا گیا ہے ۔

میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ اس افسر کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ اہم عہدے پر تعینات ہے ۔ ان کے معاملے کی اچھی طرح انکوائری ہونی چاہئے اور انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ انہیں کس جرم میں یہ سزا دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انکوائری کرائیں گے ۔ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ 30 جنوری کو شکارپور میں ایک گھناوٴنا واقعہ رونما ہوا تھا ۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

28/02/2015 - 18:38:21 :وقت اشاعت