دہشتگردی کی عدالتوں میں زیر سماعت سنگین مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں:ڈاکٹر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:22:24 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:20:03 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:20:03 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:20:03 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:18:41 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:18:41 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:18:41 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:10:33 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:10:33 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:09:06 وقت اشاعت: 27/02/2015 - 22:09:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

دہشتگردی کی عدالتوں میں زیر سماعت سنگین مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں:ڈاکٹر ایس ایم ضمیر،

آئی جی نے اسلام آباد میں کوئی اور بیان دیا ،پنجاب حکومت نے صوبائی اسمبلی میں کوئی اور موقف اختیار کیا ،مشاورتی اجلاس

کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 27 فروی 2015ء)کستان عوامی تحریک کی مشاورتی کونسل کا ہنگامی اجلاس مرکزی نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیرکی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کا یہ کہنا سچ ثابت ہو گیا کہ شریف برادران فوجی عدالتوں کو ناکام اور دہشت گردی کی جنگ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے مشن پر ہیں۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی عدالتوں کو سنگین مقدمات کی سماعت اور فیصلوں سے روک دیا جائے اور یہ سارے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں ڈاکٹر ایس ایم ضمیرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردی کے 70ہائی پروفائل کیسز میں سے ایک ماہ کے اندر 42کے فیصلے ن لیگ کی جادوگری ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی اعبرتناک سزاؤں سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے حکمران بتائیں دہشت گردی کی عدالتوں کی راتوں رات کارکردگی کیسے بہتر ہو گئی؟اجلاس میں قیصراقبال ،لیاقت کاظمی ،الیاس مغل ودیگرشریک تھے۔ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے کہا کہ 6 جنوری کے بعد پنجاب حکومت نے فوجی عدالتوں میں بھجوانے کیلئے دہشت گردی کے 52 مقدمات منتخب کیے جن کی تعداد اب کم ہو کر 10 رہ گئی ہے، اسی برق رفتاری سے کام ہوتا رہا تو پنجاب میں فوجی عدالتوں میں زیر سماعت لانے کیلئے کوئی مقدمہ نہیں بچے گا ۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہی ٹارگٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی عدالتوں نے ایک مہینے کے اندر 70 ہائی پروفائل مقدمات میں سے 42 کے فیصلے کر دئیے ، یہ وہ مقدمات ہیں جو 8سال سے التواء کا شکار تھے اور ان کی اپیلیں تک سماعت کیلئے نہیں لگ رہی تھیں ،فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کے بعد اب دھڑا دھڑ فیصلے ہورہے ہیں یہ فیصلے اس سے پہلے کیوں نہیں ہورہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بات اتنی بھی پیچیدہ نہیں جس کی سمجھ نہ آ سکے اگر یہ کیسز فوجی عدالتوں میں زیر سماعت آئے تو یقینا ان خطرناک مجرموں کو اپنے سرپرستوں ، سہولت کاروں ،مالی مدد فراہم کرنے والوں اور جہاں یہ رہائش پذیر تھے ان ساری جگہوں کے نام بتانے پڑیں گے شاید پنجاب کے حکمرانوں کو یہ بات گوارہ نہیں اس لیے اب وہ دن رات اس کام پر لگے ہوئے ہیں کہ جتنی جلد ہو سکے مقدمات کو نمٹا دیا جائے تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت فوجی عدالتوں سے بالابالا دہشت گردی کے کیسز نمٹائے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کے گرفتار مجرموں اور ملزموں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جائے تاکہ ان کے سرپرستوں اور سہولت کار وں کوگرفت میں لایا جا سکے جب تک دہشت گردوں کے سہولت کارکیفر کردار تک نہیں پہنچیں گے دہشت گردی کا ناسور جڑ سے نہیں اکھڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف دہشت گردی کی عدالتوں کی پھرتیوں پر بھی نظر رکھیں اور ان سے پوچھا جائے کہ یکا یک آپ کی کارکردگی میں اتنی بہتری کیسے آگئی اور تمام رکاوٹیں کیسے دور ہو گئیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی پنجاب نے وفاق میں کوئی اور بیان دیا جبکہ صوبائی اسمبلی میں حکومت نے کوئی اور موقف اختیار کیا۔

پنجاب اسمبلی میں بتایا جارہا ہے کہ پنجاب میں 4 ہزار گھوسٹ مدارس ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دہشت گردی کی جنگ کو مذاق سمجھ رہی ہے ۔قدم قدم پر اس کے قول و فعل کا تضاد اس جنگ کو نقصان پہنچارہا ہے۔

27/02/2015 - 22:18:41 :وقت اشاعت