ذاتی فائدے کے لیے بلوچستان کے اثاثوں کو بیچاجارہا ہے،محی الدین بلوچ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:19:50 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:09:31 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:07:23 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:06:42 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:04:17 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:03:42 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:03:42 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:01:15 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:01:15 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:01:15 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 19:00:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

ذاتی فائدے کے لیے بلوچستان کے اثاثوں کو بیچاجارہا ہے،محی الدین بلوچ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26فروری 2015ء) خان آف قلات محی الدین بلوچ نے کہا ہے کہ ذاتی فائدے کے لیے بلوچستان کے اثاثوں کو بیچاجارہا ہے۔بلوچستان کے جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بلوچوں کودبایاجارہا ہے۔پاکستان کے قیام سے قبل بلوچستان ایک آزاد اورخودمختا ریاست تھی پاکستان کوایک مستحکم اسلامی ریاست بنانے کی خاطر پاکستان سے الحاق کیا اس ملک کومحفوظ اورمستحکم بنانے کے لیے ہمارے آباؤاجداد نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں مگروقت گذرنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ نے ہماری قربانیاں نظرانداز کرکے ہزاروں بلوچ نوجوانوں کولاپتہ اور قتل کیااوربلوچستان کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے بلوچوں کوغیر ملکی ایجنٹ اورغداری کے طعنے دیے جارہے ہیں۔

بلوچستان کودیگرصوبوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کوکراچی کے مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت دعوی کرتی ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پرکھربوں روپے خرچ کیے ہیں مگر دعوی کے برعکس بلوچ سب سے زیادہ کسمپرسی کی زندگی گذاررہے ہیں۔ہرروزبلوچ نوجوانوں کی تشددزدہ لاشیں برآمد ہورہی ہیں۔

لاپتہ افراد کیبازیابی کے لئے بلوچ نوجوان خواتین اوربزرگوں نے کوئٹہ سے کراچی اوراسلام آباد تک لانگ مارچ کیامگر ان کی شنوائی نہیں ہوئی ۔بلوچوں کوہرروز اغوا اورقتل کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ایساکرنے سے انکی آواز کودبادیا جائیگامگر بلوچ قوم کبھی ہار نہیں مانتی۔پاکستان صرف لاہور تک محدود ہو گیا ہے ، حکومت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بے بس نظرآتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر 31 دسمبر 2015 ء تک بلوچستان کے مسئلہ کوحل نہیں کیاگیا اوربلوچوں کوان کے حقوق نہیں دیے گئے توہم لائحہ عمل طے کرنے میں آزاد ہونگے۔

26/02/2015 - 19:03:42 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان