کراچی، ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 155 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے، ڈاکٹر شاہدحسن صدیقی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:09:59 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:09:59 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:09:59 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:05:38 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:03:48 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:03:48 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 14:03:48 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 13:32:24 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 12:50:09 وقت اشاعت: 26/02/2015 - 12:50:09
پچھلی خبریں -

کراچی

کراچی، ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 155 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے، ڈاکٹر شاہدحسن صدیقی

کراچی(اردپوائنٹ۔تازہ ترین اخبار ۔26 فروری 2015)انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ رواں مالی سال حکومت نے بہت زیادہ بیرونی قرضے لئے بیرون ملک سے ریکارڈ ترسیلات آئیں اور اداروں کے حصص کے فروخت کئے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاصا اضافہ ہوا ان اقدام کے باعث روپے کی قدر میں استحکام آیا۔ جبکہ دوسری جانب پٹرول پر دو مرتبہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کیا اور درآمدات پرریگولیٹری ڈیوٹی اضافی شرح سے عائد کرکے منی بجٹ لگا اس کے باوجود ٹیکس وصولی کے 2810 ارب روپے کے ہدف میں 155 ارب روپے کی کمی کا خدشہ ہے اس کے علاوہ بجٹ خسارے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوگا ۔

خراب امن وامان کی صورتحال اور توانائی کے بحران کے باعث برآمدی ہدف حاصل نہیں ہوگا تاہم افراط زر میں کمی ہوگی قرضوں کا حجم بڑھے گا جس سے مالیاتی ذمہ داریوں اور قرضوں کو محدود کرنے کے ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو درست کرنے کا نسخہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں موجود ہے جس میں ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے اور معیشت کو دستاویزی بنانا شامل ہے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات کے 50 فیصد کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے اگر اس انتخابی منشور پر عمل ہوجائے تو میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی معیشت میں اتنی بہتری آئے گی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

26/02/2015 - 14:03:48 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان