سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نے سہراب گوٹھ میں ا نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:58:43 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:58:43 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:58:43 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:57:21 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:57:21 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:50:49 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:50:49 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:50:49 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:48:34 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:48:34 وقت اشاعت: 25/02/2015 - 20:45:43
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نے سہراب گوٹھ میں ا نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے مقدمے میں آئی جی سندھ اور ایس ایس پی ملیر کو آج طلب کرلیا

کراچی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 25 فروری 2015ء) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے مقدمے میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور ایس ایس پی ملیر راو انوار کو آج(جمعرات) کو طلب کرلیا ۔بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ماورائے عدالت مقدمے کی سماعت ہوئی ۔

بنچ کے روبرو انیس الرحمن سومرو کے والد انور علی سومرونے پیش ہوتے ہوکر عدالت کو بتایا کہ 12 جون 2014 کو انیس سومرو کو ایس ایچ او سچل تھانے اسماعیل لاشاری نے گرفتار کیا تھا اور ان کے بیٹے کی رہائی کے لیے 5 لاکھ تاوان طلب کیا تھا پیسے نہ دینے پر میرے بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔درخواست گزارانور علی سومرونے عدالت کو مزید بتایا کہ میرے بیٹے کو پولیس نے کالعدم تنظیم کا کارکن ظاہر کیا جب کہ میرے بیٹے کا کسی بھی تنظیم سے تعلق نہیں رہا ہے ۔

سماعت کے دوران انور علی سومرو نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ملزمان اور اْن کے ساتھیوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انور سومرو نے عدالت کو بتایا کہ ایک طرف تو ایس ایس پی ملیر راو انوار انہیں معاملہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25/02/2015 - 20:50:49 :وقت اشاعت