بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ذاتی ٹیکس کی وصولی
بارکوڈکے بغیر نوٹسز بھیجے جارہے ہیں ایف بی آر پاکستان
شاہ جی:
سرکار ملک چلانے کیلئے شہریوں س ٹیکس وصولی کرتی ہے۔ عام شہریوں سے لئے گئے ٹیکس سے ہی سرکار کانظام چلتا ہے۔ دنیابھرمیں ملکی نظام اسی طرح چلایاجاتاہے اور عوام کی فلاح وبہود کے لیے قومی خزانے کے لیے دفن حاصل کی جاتی ہے۔ ہماری سرکارکوشکوہ ہے کہ متعدد افراد ٹیکس جمع نہیں کرواتے لیکن سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی یہاں سانس لینے کی بھی پوری قیمت اداکررہاہے۔
وہ اپنے کسی عزیز سے گفتگو کرتاہے تو اس پر بھی سرکار کوٹیکس اداکرتاہے۔دوسری جانب کئی بااثر افراد بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ہماری حکومتی شخصیات سے لیکردیگر سیاسی قیادت پربھی ٹیکس چوری اور کرپشن کے الزامات عام ہیں۔اس سلسلے میں اس قدر خبریں شائع ہوچکی ہیں کہ اب یہ معمول کی بات لگتی ہے۔ان افراد کی ٹیکس چوری سے ملکی خزانے کوجونقصان پہنچتا ہے وہ سرکار عام تاجروں اور شہریوں سے پورا کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔
اب توصورتحال اس سے بھی کہیں آگے جاچکی ہے۔موجودہ حکومت نیاٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کی مہم میں خاصی سرگرمی کامظاہرہ کررہی ہے۔ عوام پر نئے ٹیکس لگانے کے عمل کی حوصلہ افزئی نہیں کی جاسکتی لیکن ٹیکس وصولی مہم کو تیز کرنے اور اسے شفاف بنانے کے عمل کی تعریف کرنی چاہئے۔بدقسمتی سے یہ عمل تیزتو کیاگیا لیکن اس کی شفاقیت کویقینی نہیں بنایا جاسکا۔
ایک رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈآف ریونیو کے ماتحت اداروں کی جانب سے ٹیکس دہندگان کوغیر قانونی طور پر ریکوری نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے ملک بھرمیں قائم ریجنل ٹیکس آفسز کے حکام کی جانب سے ٹیکس دہندگان کوریکوری کے ایسے نوٹس جاری کئے ہیں جن پر کسی قسم کابار کوڈ موجود نہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایف بی آر کوفیلڈفارمشنزکے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں حکام کی جانب سے ٹیکس دہندگان کوجعلی نوٹس جاری کرکے بلیک میل کیاجارہاتھا، جس پر ایف بی آر نے کچھ حکام کے خلاف کارروائی بھی کی تھی اور اس کے بعد ایف بی آر نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا اور تمام فارمشنز کو ہدایات جاری کیں۔
ان ہدایات میں کہاگیا کہ آئندہ آڈٹ اور ریکوری کاکوئی نوٹس بغیر بارکوڈکے جاری نہیں کیاجاسکے گا اور بغیر بارکوڈوصول ہونے والے ٹیکس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ اب دوبارہ بعض فیلڈفارمشنز کے افسران کی جانب سے ٹیکس دہندگان کوبغیر بارکوڈ کے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ یادرہے کہ ریکاڈپرلائے بنا محض اپنے عہدے کافائدہ اُٹھاتے ہوئے ایسی مبینہ جعل سازیاں پہلے بھی ریکاڈپر آچکی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایسے ٹریفک وار ڈنز بھی پکڑ ے گئے جو جعلی چالان بک پر چالان کرکے خزانے کی رقم غین کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایف بی آر بھی یہی کام کررہاہے۔سرکار کیلئے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے میں ہی ایسی بے ضابطگیاں اور مشکوک اقدامات ہونگے توعام شہری ٹیکس دیتے وقت ابہام کاشکار رہے گا۔ شاید اہلکار محکمے کیساتھ ساتھ اپنا ٹیکس بھی وصول کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس بارے میں زیادہ بہتر توسرکاری بتاسکتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیاسرکارہی بتاسکتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیاسرکاری اہلکاروں کے نفسیاتی ٹیسٹ میں ان کے ذہنی رحجانات کااندازہ نہیں لگایاجاتا؟ آخرکیون نفساتی امتحان کے باوجود ایسے افراد بھرتی ہوجاتے ہیں جومنفی رحجانات کے حامل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے