بند کریں
اتوار جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیر داخلہ خودکش حملے کا شکار
حکومت پنجاب کیلئے بڑا چیلنج
صوبائی وزیر داخلہ خانزادہ کی شہادت تمام پاکستانیوں کا دکھ ہے لیکن وہ جس طرح پنجاب میں کالعدم شدت پسند جماعتوں کے خلاف آپریشن میں پرجوش کردارادا کررہے تھے اوربالخصوص گذشتہ دنوں کو کالعدم لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق کی دونوں بیٹوں سمیت ہلاکت کے بعد انہیں دھمکیاں بھی مل رہی تھیں اور عام طور پر جوابی کارروائی کے طور پر ان کیلئے خطرات کے خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا تھا ۔
اگرچہ مسلمانوں کا عقیدہ ایمان ہے کہ موت کا وقت معین ہے اور کانپ تقدیر نے ازل سے لکھ دیا ہے کہ کس کی موت کب اور کس انداز سے ہوگی تاہم انسانوں کی حفاظتی تدابیر سے بے نیاز نہیں کیا گیا حدیث مبارکہ ہے ” اونٹ کے پاؤں باندھ دو پھر توکل کرو “ اس لئے موجود صورتحال میں جب دہشت گردی کے تاریک سائے پر لمحے وطن عزیز پر چھائے ہوئے ہیں اور ایک بے یقینی سی ہے کہ نہ جانے کون کب دہشت گردی کا شکار ہوجائے توایسے افراد جو دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ لڑرہے ہوں ان کیلئے خصوصی حفاظتی انتظامات توکسی صورت نظرانداز نہیں کئے جانے چاہئیں ۔
کیا اس سے پنجاب حکومت اور پولیس کی نااہلی کا اندازہ نہیں ہوتا کہ اگر صوبہ کا وزیر داخلہ بھی محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی خود کو کیسے محفوظ سمجھ سکتا ہے ۔ بجاطورپر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سجاع خانزادہ پر حملہ کوئی فوری جزباتی ردعمل نہیں ہے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہوگی ، کس فرد کو خود کش بمبار بننے پر آمادہ کیا ہوگا ۔ کوئی انسان اچانک جان دینے پر آمادہ نہیں ہوجاتا اس کی طویل برین واشنگ کی جاتی ہے ، اسے جذباتی طور پر بے انتہا اشتعال کے جنون میں مبتلا کیا جاتا ہے تب وہ اس قبیح فعل کیلئے تیار ہوتا ہے ۔
خود کش حملہ آور تنہا نہیں آیا ہوگا اسے کسی گاڑی وغیرہ میں کچھ لوگ لائے ہوں گے ، اگر وزیر داخلہ کے ڈیرے میں بھی حفاظتی انتظامات کی ضرورت کومحسوس نہیں کیا گیا تو پھر اس غلفت پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔ اگر بالفرض وہاں واک تھروگیٹ نہیں تھا تو ہر آنے والے کی تلاشی کا اہتمام کیوں نہ کیا گیا ۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اول تو شاید حملہ آور کو اندر آنے کی جرأت ہی نہ ہوتی دوسری صورت میں وہ گیٹ پر ہی خود کو اُڑانے پر مجبور ہوجاتا اس طرح بہت زیادہ جانی مالی نقصان سے بچاجاسکتا تھا ۔
جہاں تک شجاع خانزادہ پر حملے کا تعلق ہے دیکھا جائے تو اس کی وجہ اگرچہ سکیورٹی کافول پروف انتظام نہ ہونا ہے مگر اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردوں نے پنجاب میں بہت بڑا ٹارگٹ حاصل کرکے پنجاب حکومت ، پولیس اور سکیورٹی اداروں کو چیلنج کیا ہے ۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گوج کی کامیابیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا تین ہزار سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت ، ان کی پناہ گاہوں ، اسلحہ خانوں اور کنٹرول اینڈ کمانڈسسٹم کی تباہی جن کا زندہ ثبوت ہیں جنوبی اورشمالی وزیرستان میں آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کو یہاں سے افغانستان فرار ہونا پڑا جبکہ نامعلوم تعداد میں وہ پاکستان میں روپوش ہوگئے جو یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
اس تازہ سانحہ کی ذمہ داری اکرم محسود کی سربراہی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک گروپ نے قبول کرلی ہے ، اس نے دس دن کے اندر ملک اسحاق کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا ۔
شجاع خانزادہ کو فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد ان کے چچا تاج محمد خانزادہ سیاست میں لائے ۔ وہ 28اگست 1943ء کو اٹک میں پیدا ہوئے 1969ء میں انہیں کمیشن ملا 71ء جنگ میں بھی بھرپور حصہ لیا ۔
انٹیلی جنس بیورو میں سات سال تک خدمات انجام دیتے رہے ۔
پاکستان میں طویل مدت کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں بھی ان کابڑا کردار ہے ، جب زمبابوے کی ٹیم سکیورٹی کے حوالے سے بے یقینی کاشکار تھی تو انہوں نے براہ راست زمبابوے کرکٹ ٹیم کے ذمہ داروں سے بات کی اور انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیکر پاکستان آنے پر آمادہ کیا ۔ اس طرح پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کا سلسلہ بحال ہوا ۔
یہ تمام میچز لاہور میں ہی کھیلے گئے ۔ 2013 ء کے الیکشن میں انہوں نے (ن) لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ۔ پنجاب میں انسداددہشت گردی مہم میں ان کا کردار بہت نمایاں رہا ہے ۔ وہ اتوار کے روز اپنے گاؤں شادی خان میں واقع اپنے ڈیرے پر مقامی لوگوں سے ان کے مسائل سن رہے تھے ۔ حضرو کے ڈی ایس پی شوکت شاہ بھی یہاں موجود تھے ، کہتے ہیں خود کش حملہ آور ملاقاتی کے روپ میں آیا ، شجاع خانزادہ کوسلام کرکے ہاتھ ملایا اور ساتھ ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد خود کو دھماکہ سے اُڑادیا ۔
دھماکہ کی شدت سے پوری چھت زمین بوس ہوگئی ۔ شجاع خانزادہ ملاقاتیوں سمیت اس میں دب گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ واقعہ کے دو گھنٹے بعد تک یہاں موجود لوگوں کو ان کی آواز سنائی دیتی رہی جبکہ ان کی نعش چھ گھنٹے کے اندر نہیں ملبے سے نکالا جاتا تو صرف شجاع خانزادہ بلکہ دیگر کچھ افراد بھی بچ سکتے تھے مگر شہادت ان کا مقدر تھی ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے فوج اسے تکمیل تک پہنچانے میں دل وجان سے مصروف ہے ، اسی طرح سول حکومت کو بھی اپنی تمام ترصلاحتیں وطن عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنے پر صرف کر دینی چاہئیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-20

(0) ووٹ وصول ہوئے