بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دورہ زمبابوے کے دوران پاکستان کو شرمندگی سے بچانے والے سب انسپکٹر عبدالمجید کے اہلخانہ کے آنسو
انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اگر خود کش حملہ آور سٹیڈیم کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو بے تحاشا جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام ہوتا
فرزانہ چودھری:
پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں فتح سے ہمکنار ہو رہا ہے اور اللہ نے چاہا تو وہ دن دور نہیں جب ارضِ وطن سے دہشتگردی کے مہیب سائے ہمیشہ کیلئے چھٹ جائیں گے۔ دہشتگردی کیخلاف اس کامیاب جنگ کا کریڈٹ آپریشن ضربِ عضب میں شریک پاک فوج سمیت دیگر سیکورٹی اداروں کے جوانوں کو جاتا ہے۔ جہاں پاک فوج کے سینکڑوں افسروں اور جوانوں نے ملک وقوم کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہیں اس جنگ میں پولیس فورس کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ملک وقوم کی حفاظت اور انسانی جانوں کو دہشت گردی کی نذر ہونے سے بچانے کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والوں میں ایک درخشاں نام سب انسپکٹر چوہدری عبدالمجید شہید کا بھی ہے۔ یوں تو ہمارے معاشرے میں پولیس کا تاثر بہتر نہیں ہے اور عوام اس محکمے کو کرپشن کا گڑھ سمجھتے ہیں اور ان کی پرچھائی سے بھی ڈرتے ہیں لیکن اسی محکمہ پولیس کے جوانوں کا عوام کی جان کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ان شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی نے جہاں قوم کا مستقبل محفوظ بنانے کی راہ ہموار کی ہے وہیں اپنے محمکے کے وقار کو بھی بحال کیا ہے۔29-05-2015 بروز جمعة المبارک رات تقریباً9بجے خودکش بمبار کو فیفا گیٹ فیروز پور روڈ قذافی سٹیڈیم میں سب انسپکٹر پنجاب پولیس چوہدری عبدالمجید نے خودکش بمبار کو سٹیڈیم میں داخل ہونے سے روکنے پر بمبار نے خود کو اڑا لیا اور سب انسپکٹر چوہدری عبدالمجید موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اگر خود کش حملہ آور سٹیڈیم کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا تو بے تحاشا جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام ہوتا کہ یہ ملک ایک مرتبہ پھر غیر ملکی ٹیم کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مکمل طور پر ختم ہو جاتی کیونکہ اس واقعہ کے بعد کسی غیر ملکی ٹیم کا پاکستان میں آنا قریب قریب نا ممکن تھا۔
2008ء میں پاکستان میں سری لنکا کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی کا سبب پنجاب پولیس کی ناقص سیکیورٹی انتظامات تھے، 2008ء سے 2014ء تک پاکستان میں انٹرنیشنل کھیل دفن ہی رہا۔ 2015ء میں زمبابوے کی کرکٹ نے پاکستان میں میں آ کر کرکٹ کھیلنے کی فیصلہ کیا۔ پاکستان دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کے کوچ کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے پر فون پر دھمکیاں بھی دی تھیں اور خود کش حملہ آور کی شکل میں ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کی۔
لیکن حکومتِ پاکستان اور خصوصاً پنجاب حکومت اور کرکٹ بورڈ کی سرد مہری کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ان میں کسی ایک نے بھی سب انسپکٹر چوہدری شہید عبدالمجید کے یتیم بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
زمبابوے کرکٹ ٹیم کی ہمت اور جرأت کواگرچہ خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں انٹرنیشنل کھیل کی بحالی کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کیا تاہم اس دورے کو کامیاب بنانے کا کریڈٹ بہرحال سب انسپکٹر چوہدری عبدالمجید شہید کوہی جاتا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ میچ کے دوران سٹیڈیم کے باہر ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کی خبر نشر نہ کر کے میڈیا نے بھی بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو مات دی کیونکہ دہشت گرد بھی چاہتے تھے کہ پاکستان میں ناقص سکیورٹی انتظامات پر دنیا کے ممالک سوالیہ نشان لگا دیں اور یہاں انٹرنیشنل کرکٹ ہمیشہ کیلئے دفن ہو جائے۔
ہمارے یہاں محکمہ پولیس کو کرپشن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں تھانہ کلچر بہت بدنام ہے کیونکہ انصاف کیلئے آنے والے لوگوں کو ملزم بنا دیا جاتا ہے پولیس کا سلوک ایسا ہوتا ہے کہ ”آئے ہو تو کیا لائے ہو اور جاوٴ گے تو کیا دے کر جاوٴ گے“ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تمام پولیس آفیسرز کرپٹ سوچ نہیں رکھتے بلکہ ہماری پولیس میں ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکاروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو عوام کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ان کی جان ومال کاتحفظ بھی کرتے ہیں۔
پنجاب حکومت کا یہ اقدام اچھا ہے کہ دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کی مالی امداد کر کے ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ کسی کے جگر گوشوں اور پیاروں کی جان کا نعم البدل یہ حقیر سی رقم اگرچہ ہر گز نہیں ہو سکتی مگر اس کے باوجود پنجاب حکومت اس امر کیلئے قابل تعریف ہے۔ تاہم یہاں یہ بات سامنے لانا بھی ضروری ہے کہ شہید سب انسپکٹر چوہدری عبدالمجید شہید کے لواحقین حکومت کی طرف سے ہمدردی کے دو بول اور مالی امداد سے محروم کیوں رہے؟ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ شہید سب انسپکٹر عبدالمجید کی شہادت میڈیا کوریج سے محروم رہی؟ سوال یہ ہے کیا شہید سب انسپکٹر عبدالمجید کی ملک وقوم کے لئے جان کی قربانی میڈیا کوریج کی محتاج ہے؟ جب شہید سب انسپکٹر عبدالمجید شہید کے یتیم بچوں نے ہم سے رابطہ کیا اور ہم سے یہی سوال کیا گیا۔
اگر دہشت گردی کا یہ واقعہ میڈیا میں آجاتا تو وزیراعلیٰ پنجاب فوٹو سیشن کرانے ہمارے گھر پہنچ جاتے۔ شہید سب انسپکٹر کے بچوں نے ہمیں اپنے گھر مدعو کیا تاکہ ہم اس خاندان کے موجودہ حالات کا بچشمِ خود جائزہ لے سکیں۔
محمدرمضان شہید سب انسپکٹر عبدالمجید کی بیوہ کے بھائی ہیں جو ان کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ” والٹن تھانہ پولیس اسٹیشن سے ہمیں رات نو بجے کے بعد فون آیا کہ سب انسپکٹر عبدالمجید بم دھماکے میں زخمی ہیں اور جنرل ہسپتال لاہور میں زیرِ علاج ہیں۔
میں بھائی عبدالمجید کے بیٹوں کو لے کر جنرل ہسپتال پہنچ گیا، وہاں جا کر علم ہوا کہ ان کی شہادت بم دھماکے کے وقت ہی ہو گئی تھی۔ ان کے چہرے پر کوئی زخم نہیں تھا جبکہ ان کی ٹانگوں اور سینے میں خودکش جیکٹ میں موجود بال بیرنگ لگے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کسی نے ڈرل مشین سے ان کی ٹانگوں میں سوراخ کئے ہوں۔ ان کے دونوں بازو کہنیوں تک کالے سیاہ تھے۔
ہمیں اس حادثے میں زخمی پولیس اہلکاروں میں سے کانسٹیبل وزیر خان نے بتایا کہ دہشت گرد رکشہ سے اتر کر قذافی سٹیڈیم کے فیفا گیٹ کی طرف تیزی سے جا رہا تھا جہاں پر اعلیٰ پولیس آفیسرز ڈیوٹی پر موجود تھے۔ سب انسپکٹر عبدالمجید فیفا گیٹ سے چند گز کے فاصلے پر کھڑے تھے، رکشہ سے اترنے والے شخص کو مشکوک دیکھ کر اس کو روکنے کیلئے آگے بڑھے تو اس نے خود کو بم دھماکے سے اڑا لیا اور سب انسپکٹر عبدالمجید موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
اس دھماکے میں26 لوگ زخمی اور تین شہید ہوئے، زخمیوں میں دس پندرہ پولیس اہلکار ہیں۔شہید سب انسپکٹر عبدالمجید کے بڑے بیٹے نے بتایا: ”حکومت پنجاب کو ہمارے باپ کی جانی قربانی کو تسلیم کرنا چاہیے تھا۔ ہم یتیم ہوگئے مگر ہم سے ہمدردی کے دو بول کہنے وزیراعلیٰ صاحب ہمارے پاس نہیں آئے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے علاقے کے ایم پی اے اور ایم این نے بھی ہم سے تعزیت تک نہیں کی۔
ہمارے والد کی شہادت ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ ان کے قل خوانی میں محکمہ کا ایک شخص بھی شریک نہیں ہوا، کوئی سیاسی شخصیت تعزیت کیلئے نہیں آئی، یہ بے حسی ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی رکن میاں اسلم اقبال ہمارے گھر آئے ، پتہ چلا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی تشریف لائیں گے۔“ بیٹی بختاور نے کہا: ” میرے پاپا مجھے بہت پیار کرتے تھے۔
رات کو چاہے جتنی بھی دیر سے گھر آتے مجھے اور میرے بھائی کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر کچھ کھلانے لے جاتے تھے۔ ہماری ہر فرمائش پوری کرتے، اب کون ہمارے ناز نخرے اٹھائے گا۔ پاپا مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور ان کی یہ خواہش میں پوری کروں گی“۔بیوہ روبینہ عبدالمجید نے بتایا: ” اللہ نے ان کو شہید کا رتبہ عطا کیا ہے ہمیں اس پر فخر ہے لیکن انہوں نے بچوں کیلئے جو خواب دیکھے تھے وہ ادھورے رہ گئے ہیں۔
ان کے محکمے والوں نے تسلی دی ہے کہ بچوں کو تعلیم دلوانا ان کی ذمہ داری ہے اور بیٹے کو ان کی جگہ پر ملازمت دیں گے، بڑا بیٹا بی کام پارٹ ون میں ہے، محکمے والوں سے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ بیٹے کو اس کے باپ کی جگہ اے ایس آئی کی جاب دی جائے۔ شہید عبدالمجید کو ہم سے بچھڑے تین ماہ ہوچکے ہیں مگر ابھی تک یہ تمام چیزیں پروسیس میں ہیں۔“بوجھل دل کے ساتھ ہم یہ سوچتے ہوئے واپس آ گئے کہ جو قوم شہیدوں کی قربانیوں کو بھی میڈیا کے ذریعے محسوس کرنا شروع کر دے اسے عرفِ عام میں بے حس کہا جاتا ہے اور کیا پاکستانی قوم واقعی بے حس ہو چکی ہے؟ یہ سوال ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-05

(5) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان