بند کریں
جمعہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سٹریٹ کرائمز میں خوفناک اضافہ
سی پی او نے ٹائیگر فورس تشکیل دے دی
احمد جمال نظامی:
پنجاب کے دوسرے اور وطن عزیز کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں چوری ، ڈکیتی اور راہزنی ی وارداتوں میں مسلسل اضافہ توجاری ہے ہی مگر گزشتہ چند ماہ سے سٹریٹ کرائم میں بھی حد سے زیادہ اضافہ سامنے آرہا ہے۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر دندنانے والے جرائم پیشہ افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے دوسرا بازار شہریوں کو سٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی صورت میں لوٹنے میں مصروف ہیں اورپولیس سٹریٹ کرائم میں ملوث تمام گروہوں کے خلاف بتدریج کارروائی کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے جس پر شہریوں کی طرف سے شدیداحتجاج سامنے آرہاہے مگر فیصل آباد کی پولیس نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے عوامی احتجاج کو روکنے کی عجیب وہ غریب منطق نکالی ہے کہ انصاف کے حصول اور اعلیٰ پولیس افسران تک شنوائی کے لیے پرامن مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جا رہے ہیں اور تاحال درجنوں کے حساب سے ان شہریوں کے خلاف احتجاج کی پاداش میں مقدمے درج کئے گئے ہیں جو اپنا کوئی پرسان حال نہ دیکھ کر اپنے جمہوری حق احتجاج کے ذریعے اپنی آواز اعلیٰ پویس حکام تک پہنچانے کی سعی کرتے ہیں۔
تاہم سٹریٹ کرائم کے حوالہ سے فیصل آباد شہر کے تمام پررونق علاقوں اور چوکوں میں بھی جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دن کے اوقات میں بھی انتہائی بارونق اور پرہجوم شاہراہوں اور چوکوں میں جرائم پیشہ افراد شہریوں سے موبائل فونز، خواتین سے پرس اور فیملیز تک کو گاڑیوں سے روک کر لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں مگر فیصل آباد کی پولیس عملاََ کار کردگی دکھانے سے یکسرمحروم نظر آ رہی ہے۔
فیصل آباد کی پولیس خود اس صورت حال پر بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے ۔ شاید اسی لیے گزشتہ ہفتے فیصل آباد پلیوس کی طف سے کوئی ایک مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا جس سے ایک مرتبہ پھر یہ تاثر اُبھر کر سامنے آیا کہ پولیس اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے امن و عامہ کی صورت حال کو عوام کے حق میں تبدیل کرنے کی بجائے ایسے ہی اوچھے ، ہتھکنڈوں پر انحصار رکھتی ہے کہ مقدمات کے عدم اندراج سے حقائق کو مسخ کر کے عوامی آواز کو دبایا جا سکے۔
فیصل آباد میں سٹریٹ کرائم میں اس حدتک اضافہ ہو چکا ہے کہ روزانہ درجنوں کے حساب سے ایسی وارداتیں ہو رہی ہیں کہ جن کو شہری خود پولیس کو رپورٹ کرنا پسند نہیں کر رہے لیکن وارداتوں کی بارش جاری ہے اور عوام چوروں ،ڈاکووٴں کے رحم و کرم پر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو ہر مقام زندگی پر غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ فیصل آباد میں سٹریٹ کرائم کی خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر گذشتہ روز سی پی او فیصل آباد افضال احمد کو ثر نے پولیس لائنز میں پولیس کا سپیشل سکواڈ تشکیل دیا۔
جس کو ٹائیگر سکواڈ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس موقع پر سی پی او فیصل آباد کے ہمراہ ایس ایس پی آرپشنز عرفاناللہ خان، ایس پی لائل پور ٹاوٴن علی وسیم، ایس پی مدینہ ٹاوٴن جمیل ظفر، ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر حافظ مہتدا سمیت دیگر پولیس افسران موجود تھے ۔ ٹائیگر سکواڈ میں 60 عدد موٹر سائیکلوں پر 120 جوان تعینات ہونگے جو فیصل آباد کی مختلف جگہوں پر گشت کریں گے ، ٹائیگر سکواڈ کا افتتاح ایس ایس پی آپریشنز عرفان اللہ خان نے خود موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کیا ، جس کے بعد ٹائیگر سکواڈ کے دستے اپنی اپنی بیٹ کی جانب روانہ ہوئے، سی پی او فیصل آباد نے تمام جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ڈیوٹی کونیک نیتی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیں ،اچھی ڈیوٹی کرنے پر ملازمین کو انعامات جبکہ ڈیوٹی میں غفلت لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔
ٹائیگر سکواڈ پولیس لائنز سے روازنہ شام چار بجے نکلے گا اور رات بارہ بجے تک مقرر کروہ جگہوں پر گشت کرے گا ۔ سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے ٹائیگرفورس کا قیام بلاشبہ خوش آئند ہے اور وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے لیکن اس کی کارکردگی کے حصول کے بغیر اس فورس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ٹائیگر فورس بھی اگر ہماری پولیس کے روایتی کلچر کی طرح پولیس محکمے پر ایک نیا بوجھ بن کر سامنے آئی کہ جس کے بعد شہریوں کے احتجاج میں اضافہ ہو گیا کہ یہ فورس جرائم پیشہ افراد اور سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کی بجائے شاہراہوں اور چوکوں میں عوام کو ہی اپنی دیہاڑی بنانے کے لیے لوٹ مار کرنے اور تنگ کرنے میں مصروف ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
دراصل محکمہ پولیس کا امیج اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ عوام قطعی پولیس کے کسی نعرے اور دعوے پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایک طرف جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ اور دوری طرف شاہراہوں ، چوکوں پر پولیس کی طرف سے شریف شہریوں کی پگڑی اچھالنا اور تھانوں چوکیوں میں ظلم کا شکار ہونے والوں کی ابتدائی رپورٹ تک درج نہ کرنا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پولیس افسران کے دعووٴں اور بھڑکوں کے باوجود غریب اور شریف شہری کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی البتہ تھانوں میں موجود محرر، اہلکار اور تھانبداران کی بری طرح تذلیل کرتے ہیں اور شہریوں کا یہ گلہ عام ہے کہ وہ ظلم اور چوروں ، ڈاکووٴں کی بربریت کا شکار ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر تھانوں چوکیوں میں لٹتے ہیں مگر وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں بنتا۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-22

(0) ووٹ وصول ہوئے