بند کریں
جمعہ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صوبائی وزیر داخلہ کی خود کش دھماکے میں ہلاکت
کیا یہ فرقہ وارانہ تنظیموں کی باقیات کا حملہ ہے ؟۔۔۔۔ پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے پس پردہ ایک اہم عنصر فرقہ واریت کا رحجان رکھنے والے متشدد گروہوں کو قرار دیا جاسکتا ہے ۔
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ اتوار کے روز اپنے آبائی حلقے اٹک کے گاؤں شادی خان میں ایک خود کش حملے میں جاں بحق ہو گئے ۔اس حملے میں صوبائی وزیر داخلہ سمیت 14دیگر افراد بھی جان بحق ہوئے ہیں ۔ اس حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرتے ہوئے اپنے ساتھ معاونت کرنے والی ایک دوسری تنظیم کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اپنے ڈیرے پر اپنے عزیز کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔پنجاب پولیس کے مطابق اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شجاع خانزادہ کی سکیورٹی پر مامور ڈی ایس پی حضرو شوکت شاہ بھی شامل ہیں۔حکومت پنجاب نے اس عظیم سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم، صدر اور بری فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی شجاع خانزادہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
حقائق کی چھان بین بتاتی ہے کہ صوبہ پنجاب میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہوگئی تھیں۔چند ہفتے قبل جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں کالعدم تنظیم کے رہنما ملک اسحاق اور دیگر تیرہ افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کو مزید محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔
اسی طرح صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے آبائی علاقے میں کالعدم تنظیموں کے متحرک ہونے کے بارے میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد محکمے کے ذمہ داران افراد نے اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا شروع کردیا تھاجبکہ اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام سے بھی ان تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

وطن عزیز کو جانے کس دشمن کی بری نظر لگ گئی ہے کہ مسلسل بد امنی اور شورش نے ہر سو طوائف الموکی بپا کر رکھی ہے اگرچہ عسکری اداروں کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیوں نے دہشت گردوں اوران کے ساتھیوں کو بھاگنے یا چھپنے پر مجبور کر دیا ہے تاہم اس کے باوجود قومی سلامتی کے دشمن یہ دہشت گرد گروپ جہاں موقع پاتے ہیں حملہ کرنے سے باز نہیں آتے ۔
اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے یہ شدت پسند گروہ پاکستان کی سلامتی کے دشمن ہیں اور پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ نے چند ہفتے قبل ببانگ دہل چند عسکری گروپوں کا نام لے کر کہا تھا یہ گروپ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مالی معاوت حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستانی سیکیورٹی فورسز اس حوالے سے بخوبی آگاہ ہیں بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان میں سازشوں کے جا ل بن رہی ہے اور اس نے پاکستان کے متعدد گروہوں کو اپنے ساتھ ملا رکھا ہے ۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور صوبہ بلوچستان میں تو بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو ایک سے زیادہ بار کہنا پڑا کہ پاکستان بھارتی مداخلت کے ثبوت بین الاقوامی دنیا کے سامنے میں پیش کرے گا ۔ اٹک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی جماعت الاحرار کے حوالے سے بھی کرنل شجاع خانزادہ کہہ چکے تھے کہ مذکورہ جماعت کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ مراسم ہیں ۔
اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں میں آ تے جاتے دیکھا گیا بلکہ جن دنوں تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں ان دنوں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ تحریک طالبان کی قیادت کو یہ پیشکش کی گئی ہے کہ جب تک ا ن کے خلاف آپریشن جاری رہتا ہے انہیں افغانستان کے ذریعے بھارت پہنچایا جا سکتا ہے جہاں انہیں معزز مہمان کی حیثیت حاصل ہوگی ۔

فرقہ وارانہ انتہا پسندی
پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے پس پردہ ایک اہم عنصر فرقہ واریت کا رحجان رکھنے والے متشدد گروہوں کو قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ماضی میں بھی بعض حکومتی عہدیدران کو محض اس لئے جان سے ہاتھ دھونا پڑے کہ ان کا تعلق کسی ایسے مذہبی فرقے سے تھا جو متشدد رحجانات کے حاملین کیلئے قابل قبول نہ تھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بد امنی اور شورش بپا کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں مگر ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ غیر ملکی مداخلت اس وقت ہی کامیاب ہوتی ہے جب انہیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے مقامی افراد میسر آتے ہیں ۔ اسے قومی بدقسمتی قرار دیا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر تادم تحریر پاکستان دشمن قوتوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے ۔
قرار دیا جاسکتا ہے فرقہ وارانہ کشیدگی اور لسانی و علاقائی تعصب کو فروغ 1980کی دہائی میں ملا۔1987میں جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ احسان الہٰی ظہیر کی لاہور بم دھماکے میں ہلاکت دراصل فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ہی ایک کوشش تھی یہ الگ بات ہے کہ شیعہ سنی فسادات تو بام عروج پر رہے مگر وہابی شیعہ مخاصمت کو فروغ حاصل نہ ہو سکا ۔ اسی طرح شہر قائد کراچی میں لسانیت کو فروغ دیتے ہوئے مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ مہاجر قومی موومنٹ اب متحدہ قومی موومنٹ بن چکی ہے اس کے باوجود کراچی میں 1980کی دہائی سے لے کر ہنوز جو قتل غارت گری کا بازار گرم ہے وہ کسی طور تھمنے میں نہیں آتا۔ یہ کریڈٹ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کوجاتا ہے کہ انہوں نے آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے اہم کاروباری شہر کوبھی پرامن شہر بنانے کیلے عملی اقدامات کئے اور ان اقدامات کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے ہیں ۔
جیسے کہ ہم نے عید الفطر اور جشن آزادی کے موقع پر ایک پرامن پاکستان کی جھلک دیکھی ہے یقینی طور پر یہ ایک روشن اور محفوظ پاکستان کی جانب اہم پیش رفت ہے ۔ اگرچہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے انتہائی مستعدی سے وطن دشمن قوتوں سے نبر دآزما ہیں تاہم اس کے باوجود شدت پسند موقع ملتے ہی اپنی شرارتیں شروع کر دیتے ہیں ۔ ذیل میں فرقہ واریت کے فروغ میں کردار ادا کرنے والی چند انتہا پسند تنظیموں کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔
اگرچہ ان تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود یہ تنظیمیں کسی نہ کسی طور اپنے مخصوص دائرے میں متحرک ہیں اور اپنے متشدد رحجانات کے بدولت وطن عزیز کی سلامتی کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں ۔
نوٹ : مندرجہ ذیل تحریر کی تیاری میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی سے معاونت حاصل کی گئی ہے۔
سپاہ صحابہ
فرقہ واران کشیدگی کو فروغ دینے بلکہ پاکستان میں فرقے کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھنے میں سپاہ صحابہ کا کردار کو سب سے اہم قرار دیا جاسکتا ہے۔
سپاہ صحابہ کا قیام ایرانی انقلاب کے ردعمل کے طور پرانیس سو پچاسی میں عمل میں آیا تھا۔باور کیا جاتا ہے کہ ایران میں شیعہ انقلاب کے اثرات سے خطے کو محفوظ رکھنے میں سعودی عرب کی دلچسپی سے بھی فائدہ اٹھایا گیا اور ابتدائی طور پر اس تنظیم کے قیام کے لیے سعودی فنڈنگ کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔انیس سو اناسی میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر علامہ ساجد نقوی نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی بنیاد رکھی تو جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا حق نواز جھنگوی نے انہیں چیلنج کیا۔
یہ سلسلہ جلد ہی ایک مہم میں تبدیل ہوگیا جو آڈیو کیسٹس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔مناظرے اور مباہلے کے چیلنجوں پر مبنی لفظوں کی یہ جنگ اس وقت خونی معرکے کی بنیاد بن گئی جب انیس سو اٹھاسی میں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے پارہ چنار میں تحریک جعفریہ پاکستان کے رہ نما علامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کر دیا گیا جس کے ڈیڑھ سال بعد 1990 میں سپاہ صحابہ کے رہ نما مولانا حق نواز جھنگوی کو بم حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے لاہور میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل صادق گنجی کو قتل کیا گیا۔ صادق گنجی کے قتل کی ذمہ داری سپاہ صحابہ کے رکن ریاض بسرا پر عائد کی گئی۔ریاض بسرا کے خلاف پنجاب پولیس نے راولپنڈی میں ایرانی فضائیہ کے زیرِ تربیت عملے پر حملے کے مقدمے میں بھی تفتیش کی۔سپاہ صحابہ کے بانی قیادت جس میں مولانا حق نواز جھنگوی کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا ضیا الرحمان فاروقی اور مولانا اعظم طارق نمایاں تھے، شیعہ سنی تنازع کی بھینٹ چڑھے۔
سپاہ صحابہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ تھی۔ اس کے مرکزی رہنما مولانا ایثارالقاسمی ایک بار اور مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔اگست 2001ء میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے سپاہ صحابہ سمیت سات تنظیموں کو خلاف قانون قرار دے دیا لیکن نومبر 2002 میں جیل میں بند مولانا اعظم طارق کو اس لیے رہا کر دیا گیا تا کہ وہ وزارت عظمی لیے صدرمشرف کے حمایت یافتہ امیدوار میر ظفر اللہ جمالی کو واحد اکثریتی ووٹ دے سکیں۔
قرار دیا جاتا ہے کہ جب سپاہ صحابہ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کی گئی اس وقت تک یہ تنظیم اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ عملی طور پر ملک کے74اضلاع پر اس کا کنٹرول تھا جہاں مقامی انتظامیہ اس تنظیم کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی۔اس تنظیم کے تحصیل کی سطح پر 255یونٹس بن چکے تھے۔ غیر ملکی سطح پر یہ تنظیم اپنے غیر ملکی سرپرستوں کے طفیل اس قدر پھیل چکی تھی کہ سعودی عرب سے کینیڈا تک سترہ ملکوں میں اس کا اثر و نفوذ پایا جاتا تھا۔
سپاہ صحابہ کے تربیت یافتہ اور پیشہ ور کارکنوں کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔
لشکر جھنگوی
دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق کے باعث جلد ہی لشکر جھنگوی اور افغان طالبان کے رابطے اور تعاون کی اطلاعات سامنے آنے لگیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اب لشکر جھنگوی کے اہداف تبدیل ہو رہے ہیں، اس کا ثبوت آنے والے دنوں میں تب ملا جب لشکر جھنگوی نے کراچی میں غیر ملکی تیل کمپنی کے چار امریکی کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔
لشکر جھنگوی کی امریکہ دشمنی کے معاملے میں مزید پیش رفت تب ہوئی جب جنوری دو ہزار دو لشکر جھنگوی کے جنگجو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور پھر قتل میں بھی ملوث پائے گئے۔پھر یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا، اسی سال مارچ میں شیریٹن ہوٹل کراچی کے سامنے گیارہ فرانسیسی انجیئنروں کی ہلاکت ہو یا اسلام آباد کے سفارتی علاقے میں پروٹسٹنٹ چرچ پر حملہ، تفتیش کرنے والے اداروں نے لشکر جھنگوی کو ہی ملوث پایا۔
چرچ حملہ کیس میں ملوث ملزموں کے بارے میں پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزموں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے ردعمل میں چرچ پر حملہ کیا تھا۔اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے لشکر جھنگوی پر پابندی عائد کر دی۔ بعض اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کے اندر بھی اکتوبر دو ہزار دو میں دو دھڑے وجود میں آ گئے تھے اس بار ریاض بسرا کا موقف تھا کہ مشرف حکومت کے دوران بھی دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں جبکہ مخالف دھڑے کے راہ نما قاری عبدالحئی کا کہنا تھا کہ فوجی حکومت کے دور میں زیرِ زمین چلے جانا زیادہ بہتر ہے۔
بہرحال تنظیم کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مئی دو ہزار دو میں ریاض بسرا مبینہ طور پر پنجاب کے علاقے وہاڑی میں اس وقت مقامی دیہاتیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔
اس وقت تک ملک اسحق ایک سو زائد افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جا چکے تھے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ جیل میں رہ کر بھی اپنے ساتھیوں کی موثر طور پر راہنمائی کرتے رہے۔

اس کا عملی ثبوت اس وقت ملا جب سنہ دو ہزار نو میں فوجی صدر دفاتر پر حملے کے دوران وہاں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حکومت نے لاہور کی جیل میں قید ملک اسحق کو راتوں رات راولپنڈی منتقل کیا اور اغوا کاروں کے ساتھ ان کے مذاکرات کروائے گئے۔ یہ مذاکرات کامیاب تو نہ ہو سکے لیکن یہ بات واضح ہو گئی کہ ملک اسحق جیل میں رہ کر بھی ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث رہے۔
گزشتہ سال عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد انہوں نے تنظیم اہل سنت والجماعت (سابق سپاہ صحابہ) میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے لشکر جھنگوی سے اعلان لا تعلقی کر دیا۔بلا ٓخر ملک اسحٰق کو مظفر گڑھ کے علاقہ میں ان کے دو بیٹوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا جس سے وقتی طور پر لشکر جھنگوی نامی گروہ اعلیٰ قیادت سے محروم ہو گیا ۔

تحریک طالبان پاکستان
پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا اعلان دسمبر 2007 میں کیا گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کے اثرات ابھی ذہنوں پر نمایاں تھے اور جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف شہری علاقوں میں بھی نفرت انتہا پر تھی۔
بیت اللہ محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان میں شامل جنگجو افراد اور تنظیمیں پہلے بھی اپنے اپنے علاقے میں سرگرم تھے لیکن ایک تنظیم کی چھتری تلے ان کا اکٹھ ایک نئی بات تھی۔ تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان کے اندر امریکی و اتحادی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں، پاکستان کے شہری علاقوں میں بم دہماکوں اور خود کش حملوں، کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس کے خاتمے کیلئے پاک فوج کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کرنا پڑا ۔
تحریک طالبان پاکستان کے پہلے امیر بیت اللہ محسود نے پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے جنگجوں کے حوالے سے ہی کہا تھا کہ خود کش حملہ آور ہمارے ایٹم بم ہیں۔بیت اللہ محسود پانچ اگست 2009 کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تو حکیم اللہ محسود نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور جنگ و جدل کی سرگرمیوں میں بے پناہ تیزی پیدا کر دی۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے ایک بعد ملا فضل اللہ تحریک طالبان کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آیا تاہم اب آپریشن ضرب عضب کی بدولت تحریک طالبان منظر سے غائب ہے اور منتشر ہو چکی ہے ۔

تحریک طالبان پنجاب
نچ اپریل 2009 کو صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں امام بارگاہ پر حملے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اگلے روز اس حملے کی ذمہ داری جس تنظیم نے قبول کی اس کا نام اجنبی تو نہیں البتہ حیران کن ضرور تھا۔ جنوبی پنجاب کے لہجے میں گفتگو کرنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور خود کو تحریک طالبان پنجاب کا ترجمان قرار دیا۔
اس وقت تک پنجاب میں کئی دہشت گرد حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا پتہ چل چکا تھا جس میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی شامل تھا۔ چکوال کا حملہ غالبا وہ پہلی کارروائی تھی جس کی باضابطہ ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب نے قبول کی۔اس سے پہلے پنجابی طالبان کا ذکر تو آتا رہا تھا۔ پنجابی طالبان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوں کو کہا جاتا تھا جو پاکستان کے قبائلی علاقے یا صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتون طالبان کے شانہ بشانہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف نبرد آزما تھے۔
یہ لوگ اس علاقے میں بھی گروہوں کی شکل میں رہتے تھے یوں ان کی مقامی افراد کے مقابلے میں الگ شناخت بن چکی تھی۔صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد ان شدت پسندوں کی توجہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کی جانب ہوئی۔
بڑی تعداد میں یہ جنگجو قبائلی علاقوں کو چھوڑ کر صوبہ پنجاب کی طرف آئے اور اس علاقے میں ان کی کارروائیوں میں اچانک نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ جب یہ کارروائی زیادہ تعداد اور زیادہ منظم انداز میں ہونے لگیں تو تحریک طالبان پنجاب کا نام بھی کثرت سے استعمال ہونے لگا۔تحریک طالبان پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کی ساخت کے بارے میں بعض بنیادی معلومات پاکستانی تفتیشی اداروں کے پاس اس وقت آئیں جب صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔
پاکستانی تفتیش کار کہتے ہیں کہ ان کی تشویش اس وقت بہت بڑھ گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ تحریک طالبان پنجاب دراصل صوبہ پنجاب میں کئی سالوں سے سرگرم مختلف شدت پسند تنظیموں کا ایک ملغوبہ ہے۔اس تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان پنجاب کے لوگ ملوث ہیں۔
یہ گروپ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے جس میں سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار وغیرہ کے کارکن شامل ہیں۔یہ گروہ بھی پاکستان کے عسکری اداروں کی کامیا ب کاروائیوں کے نتیجے میں منتشر ہے اور پس پردہ چلا گیا ہے ۔
سپاہ محمد
سپاہ محمد کا قیام1993میں عمل میں آیا جب دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم انجمن سپاہ صحابہ اہل تشیع کو نظریاتی و فکری محاذ پر چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علما اور مساجد پر حملے کر رہی تھی۔
بظاہر انجمن سپاہ صحابہ کا قیام تحریک نفاظ فقہ جعفریہ کے جواب میں تھا لیکن جلد ہی اعتدال پسند شیعہ رہنماؤں سے بغاوت کر کے ایک شدت پسند گروپ نمودار ہوا اور غلام رضا نقوی کی قیادت میں سپاہ محمد کے نام سے تنظیم قائم کر لی، جس کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔1996ء میں سپاہ محمد کے سالار اعلی غلام رضا نقوی کو گرفتار کر لیا گیا ان پر قتل و اقدام قتل کے متعدد وارداتوں کا الزام تھا اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
ان کی عدم موجودگی میں علامہ مرید عباس یزدانی اور منور عباس علوی نے سپاہ محمد کی قیادت سنبھالی۔ ستمبر انیس سو چھیانوے میں علامہ مرید عباس یزدانی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا اور تنظیم کی قیادت منور عباس علوی اور جیل میں بند غلام رضا نقوی کے ہاتھ میں چلی گئی۔جنوری1997 میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا ضیاالرحمان فاروقی کو بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا، اس دوران سپاہ محمد میں ایک نئے شدت پسند گروپ کے ابھرنے کی اطلاعات بھی سنی گئیں جن کی قیادت میجر ریٹائرڈ اشرف علی شاہ کر رہے تھے۔
اگست 2001 میں مشرف حکومت نے دیگر جنگجو گروپوں کے ساتھ سپاہ محمد پر بھی پابندی عائد کر دی اور ایجنسیوں نے جنگجو تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔
محترم قارئین !
مندرجہ بالا فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو اگرچہ کالعدم قرار دے دیا گیا ہے اس کے باوجود ان تنظیموں سے وابسطہ افراد مختلف گروہوں میں منقسم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور حکومتی اہلکاروں پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح پاک فوج نے متشدد رحجانات کے حاملین کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اسی طرح پنجاب پولیس سمیت دیگر صوبوں کی پولیس کو بھی چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ ہوکر چلے اور وطن عزیز کو دہشت گردی کے عفریت سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان