بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شہدائے جموں اور ڈوگرا راج
ریاستوں اور مملکتوں میں جب فسادات ہوں تو حکمران اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود ظاہری طور پر ہی سہی کچھ نہ کچھ غیر جانبداری کا تاثر ضرور قائم رکھتے ہیں۔ ہری سنگھ وہ حکمران تھا جس نے تمام رکھ رکھاوٴ اور ظاہری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی نہ صرف کھلم کھلا سرپرستی کی
پروفیسر حافظ محمد سعید:
1947کے موقع پر ہندوستان کے وہ علاقے جہاں ہندو یا سکھ اکثریت میں تھے وہاں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا۔ ایسے ہی جموں میں بھی لاکھوں مسلمان بے رحمی و بے دردی سے شہید کئے گئے۔ بعض جگہ مسلمانوں نے ہندووٴں اور سکھوں کا ڈٹ کر جم کر مقابلہ کیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاہم اکثر مقامات پر مسلمانوں کا قتل عام یک طرفہ تھا جس کی تیاری پہلے سے ہو چکی تھی البتہ جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا المیہ اور سانحہ سب سے الگ تھا۔
ہندوستان میں کانگریس بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے فارمولے اور مقولے پر عمل پیرا رہی لیکن جب جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تو ریاست کے مہاراجہ ہری سنگھ کی بغل میں بھی چھری تھی اور منہ میں بھی چھری تھی۔ ریاستوں اور مملکتوں میں جب فسادات ہوں تو حکمران اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود ظاہری طور پر ہی سہی کچھ نہ کچھ غیر جانبداری کا تاثر ضرور قائم رکھتے ہیں۔
ہری سنگھ وہ حکمران تھا جس نے تمام رکھ رکھاوٴ اور ظاہری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی نہ صرف کھلم کھلا سرپرستی کی بلکہ کوٹ میرا تحصیل اکھنور میں خود اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں پر گولی چلا کر قتل عام کا آغاز کیا۔ جب مہاراجہ کا مسلمانوں کے ساتھ اس قدر منتقمانہ رویہ تھا تو اس کے فوجیوں، سپاہیوں، ہندو بلوائیوں اور RSSکے غنڈوں کو بھلا کون روک سکتا تھا۔
جب تقسیم ہند کا حتمی فیصلہ ہو گیا تو ہندووٴں کی نیم عسکری تنظیمRSSنے جموں میں رضاکاروں کی بھرتی شروع کر دی۔ مہاراجہ نے پنجاب کی سکھ ریاستوں سے تعاون حاصل کیا اور سادہ لباس میں ملبوس سکھ فوجی ریاست میں بلوائے گئے۔ RSS کے مسلح تربیت یافتہ رضاکاروں اور سکھ فوجیوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار کے قریب تھی جبکہ مہاراجہ کی اصل ریاستی طاقت 13بٹالین ڈوگرا فوج اور پولیس کی نفری اس پر مستزاد تھی۔
ان سب نے مل کر ریاست کشمیر اور بالخصوص جموں میں مسلمانوں کی آبادیاں لوٹ لیں اور ان کا بے پناہ و بے دریغ قتل عام کیا۔جموں میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ المناک اور خون کے آنسو رلا دینے والا باب ہے۔ اس کی تفصیل جاننے سے پہلے مختصراً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈوگرے کون تھے؟ وہ 80فیصد مسلمان آبادی والی ریاست کے حکمران کیسے بنے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے حد سے بڑھے ہوئے معاندانہ رویہ کی وجہ کیا تھی؟ان حقائق و معاملات کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا جموں میں مسلمانوں کے قتل عام سے گہرا تعلق ہے۔

ڈوگرا راج کا بانی گلاب سنگھ دو روپے ماہوار پر رنجیت سنگھ کی فوج میں بھرتی ہوا۔ یہ نہایت ہی دھوکے باز اور انتہا درجے کا خودغرض شخص تھا۔ اس کی بے رحمی کو دیکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے 1819ء میں جموں جاگیر کا انتظام اس کے سپرد کر دیا۔ جب سکھوں اور انگریزوں کی باہم آویزش شروع ہوئی تو گلاب سنگھ درپردہ انگریزوں سے سازباز کر چکا تھا۔ سکھوں کو انگریزوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے بطور تاوان اپنے علاقے جن میں جموں کشمیر بھی شامل تھا انگریزوں کو پیش کر دیے۔
انگریزوں نے مارچ 1846ء میں جموں کشمیر کا 84ہزار مربع میل کا علاقہ 75 لاکھ نانک شاہی (آج کے پچاس لاکھ کے برابر) کی معمولی رقم، چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس سودے بازی میں ریاست کی سرزمین 14پیسے فی ایکڑ اور باشندے سات روپے پچاس پیسے فی کس کے حساب سے فروخت ہوئے۔اس طرح 80 فیصد مسلمان آبادی والی ریاست میں ڈوگرا راج کی بنیاد پڑی۔
گلاب سنگھ کو چونکہ انگریزوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لئے اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں توسیع کی غرض سے قرب وجوار کی مسلمان جاگیروں مظفرآباد، راجوری، بھمبر، پونچھ اور دیگر علاقوں پر چڑھائی شروع کر دی۔اس طرح وہ اپنی ریاست میں توسیع کرتا چلاگیا۔
ڈوگروں کا ریاست جموں کشمیر پر قبضے کا دورانیہ ایک سو سال پر محیط ہے اس عرصہ میں انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم روا رکھے زبان انہیں بیان کرنے اور قلم احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہے ۔
ڈوگرے مذہباً ہندو تھے، نسلی برتری کا شکار اور ذات پات کی تفریق کے سختی سے قائل تھے یہی وجہ تھی کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ حاکم اور رعایا والا نہیں بلکہ ہندو اور مسلمان والا تھا۔ ظلم، جبر، استحصال، بیگار، غربت، جہالت، عزتوں کی پامالی، دین پر پابندی، اسلامی شعائر کی توہین اور ٹیکسوں کے ذریعے معیشت و زراعت کی تباہی یہ ڈوگرا دور کی عام سوغات تھیں۔
گلاب سنگھ نے اپنے اقتدار کی بنیاد اس اصول پر رکھی تھی کہ جہاں تک ممکن ہو اسلام کو دفنا دو، مسلمانوں کو مٹا دو اور ہندو مذہب کو فروغ دو۔ 1885ء میں پرتاب سنگھ تخت نشین ہوا تو اس کے دور میں سرکاری سطح پر شدھی، سنگھٹن اور ہندو مہا سبھا کی تحریکوں کی سرپرستی کی گئی۔
اسلام اور مسلمان دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز جموں تھا اس لئے کہ یہ گلاب سنگھ کا جائے پیدائش اور ڈوگرا راج کی سیاسی و انتظامی طاقت کا مرکز تھا۔
لیکن جس طرح فرعون کے گھر موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ایسے ہی ڈوگرا دور میں اسلام کے تحفظ کی پہلی موثر آواز جموں سے ہی اٹھی۔ 29اپریل 1931ء کو جموں میں خطبہ عیدالاضحیٰ کی بندش، جموں پولیس لائنز میں ایک ہندو کانسٹیبل کے ہاتھوں توہین قرآن کے واقعات نے جموں کے مسلمانوں کے ایمان کو گرما اور تڑپا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد 13جولائی 1931ء کو سری نگر میں اذان مکمل کرتے 22کشمیری مسلمانوں کی مظلومانہ شہادت۔
ایک سال میں یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے یہ تین واقعات تحریک آزادی کشمیر کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے۔ آزادی کی یہ تحریک سری نگر کی جامع مسجد کے مقدس ماحول اور منبر ومحراب میں پلی، بڑھی اور جوان ہوئی۔ اس تحریک کی بنیاد کلمہ طیبہ پر تھی۔ جب قیام پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اس کی بنیاد بھی کلمہ طیبہ پر تھی اس لئے دونوں تحریکوں کا یکجا ہونا فطری امر تھا۔
یہی وجہ تھی کہ جب ہندوستان کے طول و عرض میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ گونجا تو اہل کشمیر نے بلاتامل اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر لیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ نہ لگتا تو جموں اور کشمیر کے مسلمان اپنا مستقبل کبھی بھی پاکستان سے وابستہ نہ کرتے ۔ اسی طرح اگر اہل کشمیر کے مسائل و معاملات اور مطالبات سماجی، انتظامی یا ذاتی نوعیت کے ہوتے توجموں کے مسلمانوں کو خون کے دریا سے نہ گزرنا پڑتا لیکن چونکہ وہ اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر چکے تھے اس لئے مہاراجہ ہری سنگھ، کانگریس اور انگریز کی طرف سے ان کو بہت ہی بھیانک اور المناک سزا دی گئی۔
بڑے منظم طریقے سے ان کے قتل عام کی منصوبہ بندی کی گئی۔ مہاراجہ کی 13بٹالین فوج میں ایک بٹالین مسلمانوں کی تھی اسے غیر مسلح کر دیا گیا۔ مسلمان پولیس افسروں اور سپاہیوں کو برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں جن مسلمانوں کے پاس اسلحہ تھا وہ بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔
جموں میں قتل عام کے منصوبے کی نگرانی جموں کے گورنر چیت رام چوپڑا اور ہری سنگھ کی بیوی تارا دیوی نے خود کی۔
ریاست کا وزیراعظم مہر چند مہاجن بھی پیش پیش تھا۔ مہاجن نے آنکھوں میں آنسو بھرتے اور چہرے پر بظاہر دوستانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے جموں کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی جان ومال اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔مہاجن نے یہ بھی کہا کہ آپ سب کے پاکستان جانے کا انتظام سرکاری سطح پر کیا جائے گا۔ چنانچہ جموں کے مسلمانوں کا قافلہ تقریباً 60بسوں میں پاکستان جانے کیلئے تیار ہو گیا۔
جب یہ قافلہ سانبہ سے چند میل کے فاصلے پر مہوا کے قریب پہنچا تو وہاں ڈوگرافوجی پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے پہلے اہل قافلہ سے نقدی اور قیمتی اشیاء چھینیں، پھر اندھا دھند قتل عام شروع کر دیا اس کے بعد نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اہل قافلہ میں سے بمشکل چند افراد ہی جانیں بچا کر بھاگ سکے تھے۔ ٹائمز آف لندن کے مطابق صرف جموں کے ڈھائی لاکھ مسلمان شہید کر دیئے گئے اور 5 لاکھ سے زائد افراد پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ایک رات میں 24مسلمان دیہات کو شعلوں میں جلتے دیکھا۔ 123دیہات کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ ایسے بھی گاوٴں تھے جن کے تمام مردوں، بچوں اور بوڑھوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا۔
یہ ہے جموں کے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت صغریٰ کا مختصر تذکرہ لیکن اب یہ سب کچھ کس کو یاد ہے؟ کون جانتا ہے کہ جموں کے مسلمانوں کی پاکستان سے محبت کیسی آزمائش بن گئی اور ان کو اس آزمائش و محبت کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑی ؟ مگر آفرین ہے ان اہل وفا پر کہ جان، مال، عزت، آبرو، عزیزواقارب، گھربار، کاروبارسب کچھ قربان کر کے بھی وہ پاکستان کے ساتھ محبت و تعلق میں ثابت قدم رہے۔
جموں کے مسلمانوں نے اپنا فرض پورا کر دیا اس کے بعد ضروری تھا کہ ہمارے حکمران اپنا فرض پورا کرتے، بھارت کے ساتھ تعلقات، معاملات، مذاکرات، روابط اور تجارت میں مسئلہ کشمیر سر فہرست رکھتے۔ UNکی قراردادوں پر عملدرآمد کی سنجیدہ و موثر اور نتیجہ خیز کوششیں کرتے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل و مصائب کو اپنے مسائل سمجھتے۔ ان کی قربانیوں، محبتوں، شجاعتوں اور شہادتوں کی قدر کرتے۔
کشمیر کی آزادی کیلئے اسی طرح جان توڑ جدوجہد کرتے جس طرح اہل کشمیر نے قیام پاکستان کے لئے کی تھی۔ سچی بات یہ کہ اہل کشمیر کی محبتوں ، قربانیوں اور شہادتوں کا سفر آج بھی جاری ہے۔ابوقاسم شیہد نے مقبوضہ جموں کشمیر میں جس طرح دس سال مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خاتمہ کے لئے جہاد زندگانی میں بسر کئے ، بھار ت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف جہاد کیا جرات وبہادری سے جام شہادت نوش کیا،کشمیری قوم نے ابوقاسم کی شہادت پر جس جذبہ ایمانی ،یکجہتی اور غیرت ملی کا ثبوت دیا،ریاست بھر میں شہید کی نماز جنازہ اداکی گئی،جنازے میں اسلام زندہ باد،پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اورپاکستانی پرچم لہرائے گئے بلاشبہ اس سے کشمیری قوم کے حوصلے بلند اور غاصب وظالم بھارتی حکمرانوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔
اب توبھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑاہے کہ ہماری فوج کو مقبوضہ وادی میں مشکل ترین حالات کا سامنا ہے۔ را کا سابق آرمی چیف امر جیت سنگھ کہتا ہے کہ ریاست میں رائے شماری ہوئی تو کشمیری آزادی کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقبوضہ وادی میں آزادی کی تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور اہل کشمیر آزادی کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔
ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا کررہے ہیں؟قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہہ کر اس کی اہمیت و افادیت واضح کر دی تھی۔ اس کے بعد بانی پاکستان کی زندگی نے وفا نہ کی تو ہمارے حکمرانوں نے کشمیر سے وفا کرنا چھوڑ دی۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کشمیر کی حیثیت کو جانا ہوتا اس کی آزادی کو اپنی آزادی سمجھا جاتا تو کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان