بند کریں
پیر فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سعودی عرب کی مدد کیلئے پرعزم حکومت کا عالمی برادری سے سیاسی حل کا مطالبہ
گو کہ یمن کی صورتحال کا براہ راست تعلق پاکستان سے نہیں ہے لیکن وہاں پھنسے ہوئے سینکڑوں پاکستانیوں کے انخلاء کے مسئلہ نے اہل پاکستان کی نیندیں حرام کر دی ہیں
نواز رضا:
یمن کی بگڑتی صورت حال سے جہاں پورے عالم اسلام میں اضطراب کی لہر دوڑگئی ہے وہاں پوری پاکستانی قوم بھی پریشانی کا شکار ہو گئی ہے گو کہ یمن کی صورتحال کا براہ راست تعلق پاکستان سے نہیں ہے لیکن وہاں پھنسے ہوئے سینکڑوں پاکستانیوں کے انخلاء کے مسئلہ نے اہل پاکستان کی نیندیں حرام کر دی ہیں وزارت خارجہ میں یمن کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا جس کے ذریعے وزیراعظم محمد نواز شریف کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جارہا ہے۔
یمن کی صورت کے تناظر میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت مسلسل اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور یمن کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے جنگی بنیادوں پر فیصلے کئے جا رہے ہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں نے بھی معمول کی سرگرمیاں ترک کرکے اپنی تمام تر توجہ یمن کی صورت حال پر مرکوز کر دی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردراری کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کا انعقاد غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
اجلاس میں یمن کی تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یمن کی صورت حال پر یکساں تشویش ہے۔ پوری قوم حرمین شریفین کی سلامتی کو مقدم جانتے ہوئے سعودی عرب کیلئے ہر ممکن امداد کرنا چاہتی ہے تاہم اس بارے قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو یمن کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے پاکستان کو اس جنگ سے اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنا ہو گا۔
اس بارے میں حکومت پاکستان نے بھی یمن کی صورت حال پر دوٹوک موقف اختیار کر رکھا ہے وفاقی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے اگر سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ لا حق ہوا تو پاکستانی عوام سعودی عرب کے دفاع میں اس کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے حکومت پاکستان نے یمن میں بگڑتے حالات کے پیش نظر پاکستانیوں کوبروقت یمن چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا لیکن بیشتر لوگوں نے حکومت کے مشورے پر توجہ نہ دی جس کے باعث وہ مشکلات کا شکار بھی ہوئے۔
انہیں نکالنے کے لئے اب تک پاک بحریہ اپنے دو فریگیٹ بھی یمن بھجوائے جا چکے ہیں جب کہ پی آئی اے کے جہاز بھی پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے اس کام میں حصہ لے رہے ہیں۔سعودی عرب جس کی بحریہ اور فضائیہ کئی مسلمان ممالک سے بڑی ہے تاہم اس کی زمینی فوج کی تعداد قدرے کم ہے لیکن سعودی عرب کے پاس اس قدر مضبوط عسکری قوت ہے جو بخوبی اپنے مادر وطن کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے سعودی عرب کا دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے سعودی عرب جو ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی پشت پر کھڑا رہا ہے جب اس پر مشکل وقت آیا تو اس نے پاکستان سے فوجی امداد مانگی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا اعلیٰ سطح پر رابطہ قائم ہے پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی قیادت سے بات چیت کے بعد پاکستان واپس آگیا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت کے بعد پاکستان دو تین روز میں اس بات کافیصلہ کر لے گا کہ وہ سعودی عرب کی کیا مدد کر سکتا ہے؟ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک سعودی عرب میں اپنی افواج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا لیکن پا کستان کے سیاسی حلقوں میں سعودی عرب کی فوجی امداد کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے یمن میں فوج بھجوانے کے حوالے سے سیاسی جماعتیں منقسم ہیں لیکن سعودی عرب کی سالمیت کو لاحق خطرات کے سوال پر ان سب جماعتوں میں برادر اسلامی ملک کی ہر ممکن امداد کرنے پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
”اکا دکا“ مذہبی جماعتیں اس امداد کو فرقہ واریت کے زاویے سے بھی دیکھ رہی ہیں مگر فی ا لحقیقت اس کے شواہد ہر گز موجود نہیں۔بہرحال وزیراعظم محمد نواز شریف کو اس وقت اپنی سیاسی زندگی میں ایک بار پھر بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ اس نازک صورت حال میں جو بھی فیصلہ کریں گے پوری قوم کو اعتماد میں لیں گے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان کا ہر شہری سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات سے پریشان ہے۔
اسی وجہ سے بعض سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کی فوج سعودی عرب بھجوانے کے لئے مظاہرے بھی کر رہی ہیں۔ اگرچہ مخصوص دینی و سیاسی جماعتیں دبی دبی زبان میں سعودی عرب کی امداد کے تناظر میں حکومت پر نکتہ چینی بھی کر رہی ہیں لیکن قومی سطح پر سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہر ممکن امداد کرنے پر دو رائے نہیں۔ جس رات سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعودالفیصل نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ قائم کیا تو اگلے روز ہی وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا جس میں سیا سی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔
اجلاس میں سعودی عرب کی مدد کرنے سے تو کسی کو انکار نہ تھااور اصولی فیصلہ بھی یہی تھا لیکن صورت حال واضح نہیں تھی کہ پاکستان سعودی عرب کی کیا مدد کر سکتا ہے، اس لئے پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب عرب لیگ کے اجلاس کی وجہ سے وفد کی روانگی موخر کر نا پڑی تو اگلے روز وزیر دفاع خواجہ آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ میں یمن کی صورت حال کے تناظر میں پالیسی بیان دیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کا وعدہ کر رکھا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب فوج بھجوانا پڑی تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
اگرچہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے یمن کی صورت حال کے حوالے سے تندو تیز بیانات دئیے ہیں اور وزیراعظم محمد نواز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کی صورت حال کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، کیونکہ دیگر معاملات پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو سکتی ہے تو سعودی عرب اور یمن کے تناظر میں کیوں نہیں ہو سکتی۔ بظاہر سید خورشید شاہ کے بیان سے اس تاثر کو تقویت ملتی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کی امداد کرنے کی مخالفت کر رہی ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سعودی عرب کی امداد کی حمایت کر کے اس سلسلے میں معمولی شکوک و شبہات بھی دور کر دئیے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ نے بھی سعودی عرب میں فوج بھجوانے کے معاملہ پر حکومت کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کیا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا انتباہ کیاکہ حرمین شریفین پر حملے کی بات کرنے کی باتیں کرنے والوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات بھی کہی ہے اصولی طور پر عربوں کو اپنے معاہدات کے تحت اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دیا جاناچاہیے۔
جمعیت علما ء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ نے بھی یمن کی تازہ ترین صورت حال پر غور کرنے کے لئے پارٹی مرکزی مجلس قائمہ کا اجلاس 5اپریل 2015ء کو طلب کر لیا ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں بھی مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اب ایک بار پھر وقت نے انہیں اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے وہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کر سکتے ہیں مغربی میڈیا پاکستان کے فوجی دستوں کی سعودی میں موجودگی کے بارے میں شرپسندی پر مبنی خبریں نشر کر کے یمن میں پھنسے پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہا ہے۔
فوج کے ترجمان نے سعودی عرب میں فوج کی موجودگی کے بارے میں وضاحت کر دی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی افواج ”صمصام5- مشترکہ جنگی مشقوں“ میں مصروف عمل ہیں۔ جن میں 292 پاکستانی فوجی حصہ لے رہے ہیں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہر سال اس نوعیت کی مشقیں ہوتی ہیں گذشتہ سال اس سلسلے میں جہلم کے قریب مشقیں ہو چکی ہیں۔ یمن کی صورت حال سے خوش اسلوبی سے نمٹنے کے لئے حکومت، اپوزیشن اور فوج کو اسی طرح ایک ”صفحہ“ پر ہونا پڑے گا جس طرح دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس میں اقوام متحدہ ، اسلامی ممالک کی تنظیم ،رکن ممالک کے سربراہان اور بین الاقوامی برادری سے یمن کے بحران کے سیاسی حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے سعودی عرب کی سلامتی و خود مختاری کی خلاف ورزی پر پاکستان سخت رد عمل کا اظہار کرے گا اب دیکھنا یہ ہے دیگر سیاسی جماعتیں کس حد تک وزیر اعظم کی”آواز میں آواز“ ملاتی ہیں اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں مل جا ئے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان