بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ منیٰ سے عالم اسلام سوگوار
سعودی اہلکاروں نے جان پرکھیل کر کئی خاندانوں کابچایا۔۔۔۔ ایک لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکارچوبیس گھنٹے حجاج کی خدمات پر مامور
امیر محمد خان:
لبیک اللھم لبیک۔۔ان صداؤں میں ہرسال لاکھوں فرزندان تو حید اللہ تعالیٰ کے مہمان بن کر اس عظیم ذات کے روبروحاضر ہوتے ہیں اور اپنے گناہو کی توبہ کے طلب گار ہوتے ہیں جو محب وطن ہوتے ہیں وہ اپنے وطن کی خوشحالی،اپنے اہل خانہ کی صحت،اپنی ترقی کیلئے اللہ کے حضورسجدہ میں گڑگڑا کرعاجزی سے دعائیں مانگتے ہیں ‘یہ تعداد کئی سونہیں ہزارنہیں بلکہ لاکھوں میں ہوتی ہے یہ دنیا کا عظیم ترین احتماع ہوتاہے جہاں ہر وقت ضیوف الرحمن عبادت ،سفر میں رہتا ہے۔
تمام ممالک کے سفارت خانے،قونصل خانے انکے حج ڈپارٹمنٹ کوشش کرتے ہیں وہ اپنے حجاج کوبہتر خدمت پہنچا سکیں،سرکاری وغیرہ سرکاری رضاکاروں کی ایک بڑی کھیپ ہر ملک کی جانب سے انتظامات کیلئے حاضر رہتی ہے۔سب سے اعلیٰ انتظام میزبان ملک سعودی عرب کی جانب سے ہوتاہے،یہ سلسلہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی زمانے سے ہوتا آرہا ہے انکی اولادوں نے (بعد میں آنے والے بادشاہوں) اس سلسلے کو آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ضیوف الرحمن کی خدمت کے سلے میں انہیں معدنی تیل،سونے کے کانوں سے مالامال کیا ہے۔اسطرح یہ سعودی عرب عالم اسلام کا مرکزبن گیا ۔
دنیا بھر کے تمام مسلمان ممالک کی نظریں کسی بھی اہم نقطہ پرسعودی عرب کی جانب ہوتی ہیں اور اسلام کیلئے ان کی خدمت کی وجہ سے یہاں کے شہنشاہوں کی رائے کوبنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی جانیوالی بے پناہ معدنی دولت کی بناء پر لاکھوں تارکین وطن کواپنے ہاں جگہ دے رکھی ہے جو اس سعودی عرب کی ترقی کے ساتھ ذرمبادلہ کے ذریعے اپنے ملکوں کی معشیت کو بھی سہرا دئے ہوئے ہیں۔
یہاں سے اسلام کا سب سے اہم رُکن حج ادا کیا جاتا ہے۔جیساکہ اوپر تحریر کیا ہے شاہ عبدالعزیز آل سعودکے زمانے سے ہر سال حج کے مبارک موقع پرسعودی عرب کے تمام ذرائع ضیوف الرحمن کی خدمت پرمامور ہوتے ہیں،دوران حج جہاں وہ خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں ایک علیحدہ شعبہ اس بات کی رپورٹ بھی تیار کرتا ہے کہ انکے انتظامات میں کہاں کہاں خامیاں بھی جسے وہ آئندہ سال حج کے موقع پردور کرتے ہیں اور حج کے خاتمے کے فوری بعدمتعلقہ ادارے آئیندہ سال کیلئے گزشتہ سال کی رپورٹ کوسامنے رکھ کرکام شروع کرتے ہیں۔
2006ء میں جمرات کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارتے وقت بھگدڑمیں کئی حجاج شہید ہوئے،اس واقع کے بعد سعودی حکام نے نہ صرف جمرات پر ہجوم کوکم کرنے کیلئے جمرات پرکئی منزلہ راستہ بنادیا کہ حجاج زیادہ سماع سکیں،نیزکنکریاں مارنے کیلئے آنے کیلئے اورجانے کیلئے علیحدہ راستے متعین کردئے،مزید حفاظت کیلئے مختلف ممالک کوہدایت جاری کی اور سب کے لئے کنکریاں مارنے کے اوقات کارمقرر کردئے چونکہ ہرسال الحمداللہ حجاج کی تعداد میں اضافہ ہی ہورہاہے،جب حرم مکی کاتوسیعی کام کئی کروڑ ریال کی لاگت سے شروع کیا کہ زیادہ تعداد حرم مکی میں داخل ہوسکے تو ساتھ ہی عالم اسلام سے درخواست کرکے وہاں سے آنے والے حجاج کاملک کی آبادی کے حساب سے مقررکروہ کوٹے میں کٹوتی کی گئی۔
حج کی تاریخ کا پہلاسانحہ کئی سال قبل اسوقت ہواجب حجاج ایک زیر زمین راستے سے گزرتے ہوئے حبس اور دم گھنٹے سے شہید ہوگئے تھے۔ اسکے بعد سعودی عرب نے کشادہ راستوں کاجال بچھادیا۔اس سال سانحہ منیٰ نے تمام عالم اسلام کوسوگوار کردیا،سعودی حکام نے اس مرتبہ ضیوف الرحمن کوآراموسکیورٹی کے ترجمان میجرجنرل منصورال ترکی کے دنیا بھر میں داعش کی کاروائیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیکورٹی نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔
جہاں صرف سیکورٹی کے ایک لاکھ سے زائد افراد تعنیات کئے گئے ہیں جوچوبیس گھنٹے منی،عرفات مزدلفہ میں حجاج کی خدمت پر مامور ہیں گے،کئی لاکھ طبی کاعملہ تعینات کیاگیا،رضا کارتنظیمیں بھی سرگرم تھیں مزدلفہ سے واپسی سے سانحہ پیش آیا جس نے سب کوسوگوار کردیا چند سوحجاج نے تمام حفاظتی احکامات کو بالاطاق رکھ کر اور اپنے لئے متعین کردہ راستے اور وقت کی پرواہ کئے بغیر جمرات کی طرف روآنہ ہوگئے اسطرح دوبڑے مجمعے آپس میں آمنے سامنے آگئے پاکستانی عینی شاہدیں کے مطابق کوشش کے باوجود بھی روکنا مشکل تھا کیونکہ جب چندلوگ زمین پر سخت گرمی اور حبس کی وجہ سے گرکربے ہوش ہوگئے تو دونوں جانب سے لوگ گرتے ہی رہے چونکہ پیچھے آنے والوں کو نہیں پتہ کی آگے کیا ہواہے۔
اگرکوئی رکنے کی کوشش کرتا تو وہ بھی گر رہاتھا پیچھے سے دھکاآنے سے۔اسطرح حجاج گرتے رہے اور شہیدوزخمی ہوتے رہے،سکیورٹی پر مامور سعودی اہل کاربچوں،ضعیفوں کوکوشش کرکے ایکطرف کرکے انہیں حفاظت سے بچاتے رہے ،کئی اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل کرکئی خاندانوں کو بچایا،جس میں انکایو نیفارم بھی تار تار ہوگیا۔منی ،میں اس موقع پر خصوصی ہسپتال بنائے گئے تھے انکاعملہ،فضائی ایمبولینس حرکت میں آگئیں اور علاقے کے بہت ہی مشکل سے حفاظتی احصار میں لیکرامدادی کام کیا جس میں وہاں موجود حجاج بھی رضاکاربن گئے اور زخمیوں کو پانی دینے اور انپرپنکھا دینے کے کام کرتے رہے دنیا بھر میں کبر پہنچ جانے کی وجہ سے حج کیلئے آنے والے بیس لاکھ افراد کے خاندان دنیا بھر میں پریشان ہوگے اور اپنے پیاروں کی خیریت کیلئے کوشاں ہوگئے،شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر فوری طور پہ مرکزی حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ خالد نے واقع کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی۔
تادم تحریر769شہید اور 934زخمی ہسپتالوں میں ہیں شہداء میں 144ایران ،اور دوسرت نمبرپر87مراکش کے حجاج ہیں پاکستانیوں کی تعداداب تک35بتائی گئی،سعودی حکام کی جانب سے سفارتخانوں کو شہداء کی تصاویردی گئی ہیں کہ وہ اپنے ملکوں کے حجاج کو پہچان لیں لاکھوں افراد کی موجودگی میں یہ ہی صحیح طریقہ ہے اس کو وجہ سے تاخیربھی ہورہی ہے اور کچھ ممالک جوسعودی عرب کی وحدت،سالمیت،نیزوہ لوگ بھی جواسلام کے دشمن ہیں وہ سعودی عرب تنقید اسلئے نہیں کررہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف ہیں بلکہ وہ اس مذہبی اجتماع سے خوفزدہ اور اسکے مخالف ہیں،سعودی عرب کا سیاسی مخالف سانحہ کے بعد ایک ہی گھنٹہ بعد اپنے شہیدوں کی تعداد300سے زائد بتاکر واویلاکررہا ہے اسطرح وہ اس سانحہ کو بھی اپنی ساست کیلئے استعمال کررہا ہے جوقابل مذمت ہے۔
جبکہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایرانی حجاج کے گروپ لیڈزنے یہ بات تسلیم کی کہ ایران کے حجاج متعین کردہ وقت اور راستے سے ہٹ کر جمرات کیلئے نکلے تھے،اسلئے یہاں یہ بات عام ہے کہ اس کے سانحہ کا سبب وہی ہیں اسکے علاوہ عینی شاہدین بھی اسطرح کی کہانی بیان کررہے ہیں۔پاکستان کوسعودی کابہترین دوست ہونے کے ناطے پاکستان میڈیا میں سعودی عرب مخالف میڈیا کاآلاکاربن کرغلط صورتحال پیش کررہے ہیں۔
یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے اس صورتحال میں یہاں پاکستانی سفارتکاروں کی کارکردگی سے سعودی میڈیا کوشکایات رہیں ہیں کہ انکے پاس کوئی معلومات ہی موجود نہیں پاکستانی حجاج کے متعلق اور نہ ہی دئے گئے ٹیلیفون نمبرز سے کوئی فون اٹھانے کی زحمت کرتا ہے۔کسی بھی طرح اپنی رائے ظاہر کرے سے قبل ہمارے دانشوروں کو جوبغیر کسی تحقیق کے رائے زنی کررہے ہیں سعودی عرب کی تحقیقاتی رپورٹ کاانتظار کرنا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-30

(0) ووٹ وصول ہوئے