بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سانحہ پشاور
ایک برس میں پاکستان کے حالات بدل گے خون آلودہ کتابیں، بہتا ہوا لہو اور معصوم بچوں کی لاشوں کا ڈھیر۔ یہ وہ ومنظر تھا جو میڈیا کے نمائندوں نے سانحہ پشاور کی کوریج کے دوران دیکھا۔
ابنِ ظفر:
خون آلودہ کتابیں، بہتا ہوا لہو اور معصوم بچوں کی لاشوں کا ڈھیر۔ یہ وہ ومنظر تھا جو میڈیا کے نمائندوں نے سانحہ پشاور کی کوریج کے دوران دیکھا۔ اس موقع پر والدین کی چیخ وپکار اور معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ کر ہر پاکستانی کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔صحافی نم انکھوں سے کوریج کر رہے تھے اور بعض کیمرے ایک طرف رکھ کر آنکھیں خشک کر رہے تھے یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستانی قوم، سیاست دانوں اور سکیورٹی اداروں نے فیصلہ کیا کہ اب ہر صورت پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرناہے۔
ہنگامی حالت میں اہم فیصلے کئے گئے اور تیزی سے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔ گزشتہ برس 16 دسمبر کو پیش آنے والے سانحہ پشاور کے زخم آج بھی تازہ ہیں اس سانحہ میں 132 طالب علموں سمیت 150 افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔معصوم بچوں کی خود آلود لاشیں سکول سے باہر لائی گئیں تو موقع پر موجود میڈیا کے نمائندگان بھی رونے والوں میں شامل تھے۔
دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں یہ ایک اور بڑی قربانی تھی جس کا اثر براہ راست پوری قوم پر پڑا۔ اسی سانحہ کے بعد حکومت فوج اور عوام ایک پیج پر اکھٹے ہوئے اور شدت پسندی کے خلاف بھر پور جنگ کا فیصلہ کیا گیا۔آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ نیشنل پلان کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں، ان کے رابطہ کاروں اور انہیں فنڈنگ دینے والے سبھی افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔
سانحہ پشاور میں شہید اور زخمی ہونے والے طالب علموں کی بدولت آج کا پاکستان ایک برس قبل کے پاکستان سے کافی مختلف نظر آتا ہے۔ ایک سالہ قبل 11دسمبر کو پشاور آرمی سکول پر سکیورٹی فورسسز کے بھیس میں حملہ کرنے والوں نے خون کی ندیاں بہادی تھی۔اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کے شہر کنٹر میں کی گئی حملہ آوروں کو ٹیلی فون پر افغانستان سے ہی ہدایات دی جا رہی تھیں۔
یہ ٹیلی فونک گفتگو پاکستانی حساس اداروں نے ریکارڈ کر لی اور پھر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ نے افغانستان کا ہنگامی دورہ کیا اور یہ شواہد افغان حکومت کے سامنے رکھ دیے۔ شواہد اس قدد مضبوط تھے کہ افغان حکومت کے پاس بھی ان لمحات میں کوئی چارہ نہ رہا اور اس نے افغانستان میں روپوش کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف افغان حکومت نے نہ صرف کارروائی کا وعدہ کیا بلکہ فوری طور پر افغانستان میں محدود فوجی آپریشن کر کے حکومت پاکستان کو اپنے تعاون کا بھی یقین دلایا تھا۔
اس سلسلے میں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان حملہ آوروں کو باڑہ شین کے درنگ مرکز میں تربیت دی گئی تھی۔حملہ کا مقدمہ پشاور کے تھانہ مچنی گیٹ میں ایس ایچ او شیر علی خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ اس مقدمہ میں کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر شیخ خالد حقانی ،حافظ گل بہادر ،ملا فضل اللہ، سیف اللہ اور منگل باغ کو حملے کی منصوبہ بندی کا ملز م نامزد کیا گیا۔
اسی طرح ٹی ٹی پی کمانڈرز حافظ سعید، حافظ دولت ، سرور شاہ، مولوی فقیر، حافظ گل بہادر، عبدالولی، قاری شکیل، اسلم فاروقی اورنگزیب ، قاری سیف اللہ اور جان ولی کے نام بھی ملزمان میں شامل کئے گئے۔ اس حملے کا مقدمہ حملے میں شریک خودکش بمباروں کے خلاف بھی درج ہو اجن میں ابوذر، عمر ، عمران ،یوسف ، عزیز، قاری اور چمنے عرف چمنو کے نام شامل تھے۔
اسی طرح حملے میں جوگاڑی استعمال ہوئی اس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کا نمبر NE177 تھا جو اسلام آباد سے چرائی گئی تھی۔ اس چوری کی ایف آئی ار بھی وفاقی دارالحکومت میں درج کرائی جا چکی تھی۔ اس حملے میں ملزمان اپنے ہینڈلر سے مسلسل رابطے میں رہے۔سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر جو گفتگو ریکارڈ کی اس سے ابوذر کی شناخت سب سے پہلے ہوئی اس حملے کے منصونہ ساز میں عمر کا بھی اہم کردار بتایا گیا۔
عمر شدت پسندوں کا سینٹر کمانڈر تھا اس حملے میں سات دہشت گردوں نے سکول پر حملہ کیا۔ ان میں سے پانچ نے خود کو انتظامی بلا کے اندر جبکہ دو نے باہر دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ یہ حملہ آور خاردار تاریں کاٹ کر سیڑھی کی مدد سے عمارت کے دروازے سے اندر آئے تھے۔ انہوں نے سیدھے مرکزی آڈیٹوریم کا رخ کیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے تقریب ہو رہی تھی۔
آڈیٹوریم کے پچھلے حصے میں موجود چوکیدار ان کا پہلا نشانہ بنا ۔ دہشت گردوں کو پچھلا دروازہ بند ملا تو انہوں نے مرکزی خارجی اور داخلی دروازوں کا رخ کیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں انسانی لاشوں کا ڈھیر لگا ہو اتھا اور یہیں بچوں کا قتل عام ہوا۔گولیوں کی آوازیں سنتے ہی ہال میں موجود بچوں نے باہر کا رخ کیا۔ جہاں دونوں دروازوں پر موجود شدت پسندوں نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
جب میڈیا کے نمائندے وہاں پہنچے تو مرکزی ہال کے اندر باہر ہر طرف ایک ایک انچ پرخون بکھرا ہو اتھا۔ جن بچوں نے سیٹوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی انہیں چن چن کر سر میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ دہشت ، بربریت اور ظلم کے یہ مناظر ایک برس گزر جانے کے باوجود مکمل احساس کے ساتھ زندہیں۔درس گاہ سے قتل گاہ بننے والے اس سکول میں داخلی گزرگاہ اور ہال کے اندر100 سے زائد لاشیں اور زخمی موجود تھے۔
ہر سیٹ خون آلود تھی اور فرش پرخون جم چکا تھا۔ بچوں کی خون میں لت پت کتابیں اور کاپیاں بکھری پڑی تھیں۔دیواروں پر انسانی اعضاء خون اور بال بیئرنگ چپکے ہوئے تھے ۔ یہ ان دھماکوں کی شدت کا اثر تھا کہ حملہ آوروں نے آخری لمحات میں کئے تھے ۔ ایک خاتون استاد کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے حملہ آوروں سے رحم اور بچوں کو چھوڑنے کی درخواست کی جس کا جواب اس طرح دیا گیا کہ اس خاتون کو بچوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا ۔
سکول کی ہیڈ مسٹریس طاہرہ قاضی بھی بچوں کو بچانے کی کوشش میں شہید ہو گئیں۔ اس حملے کے ساتھ ہی فوجی دستے موقع پر پہنچے اور حملہ آوروں سے مقابلہ شروع کر دیا۔ فوجی دستوں کی آمد اور بھر پور کارروائی نے حملہ آوروں کو انتظامی بلاک تک محدود کر دیا اور وہ جونیئر سیکشن نہ پہنچ سکے۔ اگر وہ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے تو بچوں کی شہادتوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی۔
اس حملے کی صورت حال یہ تھی کہ حملے کے دوران آرمی سکول کے نویں جماعت کا صرف ایک طالب علم زندہ بچا اور اس کے سبھی کلاس فیلوز شہید ہو گئے۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان نے واضح حکمت عملی طے کی اور دنیا بھر میں ان عنا صر کے خلاف کھڑا ہوگیا جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔سانحہ پشاور کے اہم کردار یا تو مارے گئے یا پھر وہ افغانستان روپو ش ہو گئے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں، رابطہ کاروں اورانہیں مالی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی تیزی سے کارروائی شروع کی گئی۔ گزشتہ دنوں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے میں ملوث 4دہشت گردوں کو کوہاٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پھانی پانے والوں میں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمٰن اور عرف نجیب اللہ سہیل یحییٰ شامل ہیں۔
ان مجرموں کا ٹرائل فوجی عدالت میں کیا گیا اور ڈیتھ وارنٹ پر آرمی چیف نے 30نومبر کو دستخط کر دیئے جس کے بعد 2 دسمبر کو انہیں پھانسی دے دی گی جبکہ دو مجرم ابھی اپنی سزا پر عملدرآمد کے منتظر ہیں جن میں تاج محمد عرف رضوان اور عتیق الرحمٰن عرف عثمان شامل ہیں۔سانحہ پشاور کو ایک برس ہو چکا لیکن یہ زخم ابھی بھی تازہ معلوم ہوتا ہے۔اس حملے میں بچ جانیوالے بچے دوبارہ اسی سکول میں تعلیم حاصل کرنے جا رہے ہیں۔
سانحہ پشاور کے معصوم پھولوں کی برسی کے موقع پر شہدا کے لیے سرکاری سطح پر تقریب منانے کا اعلان کیا گیا۔اسی طرح پشاور کی آرکائیوز لائبریری کوبھی لائبریری بھی شہدا پشاور سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس لائبریری کے سامنے شہداء کی یادگار بھی تعمیر کی جائے گی۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف جو کریک ڈاوٴن ہو ایہ اس سانحہ سے قبل اتنا آسان معلوم نہیں ہوتا تھا۔
شدت پسندوں نے بظاہر بچوں پر حملہ کر کے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا جتنا شدید ردعمل سامنے آیا اور جس طرح پوری قوم اکٹھی ہوئی اس کا اندازہ شاید اس حملے کے منصوبہ سازوں کو بھی نہیں تھا۔سچ یہ ہے کہ سانحہ پشاور کے شہدا جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردی سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ گئے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان