بند کریں
پیر جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
روہنگیا مسلمان، ان کا قصور یہ ہے کہ وہ بے قصور ہیں
انسانی حقوق کا علمبردار اور ثناخواں اقوام متحدہ کہاں ہے؟۔۔۔ بچے، جوان اور بوڑھے بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ انکی لاشیں بے گورو کفن ہر طرف بکھری پڑی ہیں
سلیم بخاری:
بہزاد لکھنوی نے کیا خوب کہا تھا
اس دور میں اے دوست زبوں حالی مسلم
دیکھی نہیں جاتی ہے مگر دیکھ رہا ہوں
انہوں نے نصف صدی قبل جو بات کہی تھی وہ آج بدترین شکل ہمارے سامنے موجود اورعالمی ضمیر کا منہ چڑاتی نظر آرہی ہے۔ روہنگیا کے مسلمان بے گھر ہو کر آج سمندرکے کھلے پانیوں پر کسمپرسی کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔
بچے، جوان اور بوڑھے بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ انکی لاشیں بے گورو کفن ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ مسلم امہ اپنی ہی مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار ہے۔ کسی میں ہمت نہیں کہ وہ سابقہ برما اور موجودہ میانمار کی حکومت کے ظالمانہ اقدام پر اسے ٹوک یا روک سکے۔ روہنگیا کے یہ مسلمان اپنے ہی وطن میں بے وطن بنا دئیے گئے ہیں۔ مگر ان کے دکھوں کا مزید ماتم کرنے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کون لوگ تھے اورکہاں سے آئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے۔
کیوں ان سے ان کی شناخت چھیں لی گئی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ لوگ انڈو آریان اور میانمار کی ریاست رخائن کے باسی ہیں۔ اس ریاست کو مقامی زبان میں آراکان بھی کہا جاتا ہے۔ برمی حکومت راہب دہشت گردوں کے دباوٴ میں آکر یہ موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ روہنگیا کے لوگ مقامی نہیں بلکہ برطانوی راج کے دوران بنگال سے نقل مکانی کر کے برما کے قریب واقع ایک ریاست رخائن میں آبسے تھے۔
جسے 1862ء میں قبضہ کر کے باقاعدہ برما کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہاں کتنے مسلمان آباد تھے یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ شواہدبتاتے ہیں کہ برطانیہ نے جو پہلی مردم شماری 1872ء میں کرائی تو اس ریاست میں 60 ہزار کے لگ بھگ مسلمان رہتے تھے جو کہ دوسری مردم شماری جو 1911ء میں کروائی گئی اس کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر دو لاکھ کے قریب ہوگئی تھی۔ یہ مسلمان امن سے زندگی بسر کر رہے تھے کہ 1942ء میں ایک سانحے نے صورت حال کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔
دوسری جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی اور روہنگیا مسلمانوں کی ایک خاص بڑی تعداد برطانوی فوج میں بھرتی ہو چکی تھی۔ ایک معمولی واقعے کے نتیجے میں ان مسلمان برطانوی فوجیوں اور مقامی بدھ راہبوں کے درمیان تصادم ہوگیا اور قتل و غارت گری کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہاں فرقہ واریت کی بنیاد پڑی اور تب سے یہ خطہ لسانی اور مذہبی منافرت کا شکار رہا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برما پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک فوجی آمریت قائم رہی ہے اور 1990ء سے 2001ء تک کا عرصہ اس لحاظ سے بدتر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان حکومتوں نے قوم پرست قوتوں اور تھیرا واڈا بدھ بھکشوں کو ساتھ ملا کر اپنی حکمرانی کو طول دینے کی جو کوشش کی اسکے نتیجے میں مقامی برمیوں نے روہنگیا کے مسلمانوں کو ہم وطن ماننے سے انکار کردیا۔
مگر اس کے پیچھے ایک اور خوفناک سازش پوشیدہ تھی وہ یہ کہ ان بدھ راہبوں کو یہ خدشہ تھا کہ جس رفتار سے مقامی بدھ عوام اسلام قبول کر رہے تھے اس سے کہیں ریاست میں مسلمانوں کا تناسب زیادہ نہ ہو جائے۔ لہٰذا باقاعدہ پلاننگ کے تحت مسلمان علاقوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا گیااور مسلمانوں سے شناخت کی تمام دستاویزات کو زبردستی چھیننے کی مہم کا آغاز ہوا چونکہ ان دہشت گردوں کو اس مذموم مہم میں حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اس لیے اس پر زیادہ شور و غوغا نہیں ہوا۔
اس کے بعد آنے والے سالوں میں تو نہ صرف مسلمانوں کے بے دریغ قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا بلکہ ان کی خواتین کی آبروریزی، عورتوں کے شکموں سے ملنے والے بچوں تک کو ہلاک کرنا، گھروں کو دن دیہاڑے نذر آتش کرنے جیسے جرائم کا لامتناعی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ یہ سب کچھ اس جدید دور میں ہو رہا ہے جبکہ میڈیا بہت مضبوط شکل میں موجود ہے اور کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں جو تصاویر اور ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آ چکی اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں اس کے بعد میانمار کے بدھ بھکشووٴں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔
مگر مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگے۔ کہاں ہے وہ امریکہ جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے، کہاں ہے اقوام متحدہ جس کا چارٹر انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ دینے کا دعویدار ہے، کہاں ہے یورپی یونین جو برداشت اور بھائی چارے کی مبلغ ہے، کہاں ہے او آئی سی جو مسلمانوں کی نمائندہ تتظیم ہونے پر مضر ہے، کہاں ہے عرب لیگ، کہاں ہے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم اور کہاں ہیں مسلمان ممالک کے قد آور رہنما؟
ان سب کو چپ کیوں لگی ہے کیا یہ بھی عالمی حکمت عملی ہے کہ جب تک مسلمان کسی خطے میں تباہی کے دھانے تک نہ پہنچ جائیں ان کی داد رسی نہ کی جائے مسلمان چاہے فلسطین کے ہوں یا مقبوضہ کشمیر کے، عراق کے ہوں یا شام کے، یمن کے ہوں یا لیبیا کے، بوسنیا کے ہوں یا روہنگیا کے، وہ قتل ہوتے رہیں وہ لٹتے اور بے وطن ہوتے رہیں سب خاموش تماشائی بنے ہیں۔
ان بے سروسامان مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ صرف مسلمان ہیں وہ اگر کسی مخصوص مسلک سے تعلق رکھتے تو کئی عرب اور دوسرے ممالک ان کی مدد کو آ چکے ہوتے۔ وہ اگر عیسائی ہوتے تو امریکہ اور یورپ اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ انہیں شہریت دے کر اپنے ملکوں میں بسا چکے ہوتے۔ اسرائیل کی مثال لے لیں جو فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے اور لاکھوں افراد کے قتل کے بعد بھی امریکہ اور یورپی یونین کی آنکھوں کا تارابنا ہوا ہے۔
صابرہ اور شتیلا کے مہاجرین کیمپوں پر بمباری کے نتیجے میں ہر طرف پھیلی انسانی لاشوں کو کون بھول سکتا ہے مگر کیا مجال اس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے اور اب یہی رویہ امریکہ اور یورب نے میانمار کے ساتھ اپنا رکھا ہے کہ وہ روہگن مسلمانوں کا قتل عام کرے یا نسل کشی کی کوشش اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ایک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سانگ سوچی جو میانمار کی حزب مخالف کی رہنما ہیں اور جنہیں امن کا نوبل پرائز بھی مل چکا ہے، نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور آج تک اس ضمن میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف کچھ کہنے پر آمادہ نہیں کیونکہ وہاں انتخابات قریب ہیں اور سوچی کو توقع ہے کہ وہ جیت کر حکومت بنانے کے قابل ہو جائیں گی۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے روہنگن مسلمانوں کی حمایت میں کچھ کہا تو فوجی آمر ان کے خلاف ایسے اقدامات کریں گے کہ ان کے حکومت کرنے کے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔ اگر ان کی سوچ کا محور یہ ہے تو وہ قدآور شخصیت کہلانے کی مستحق نہیں ہیں اور ان کی بے حسی کو مجرمانہ غفلت قرار دیا جانا چاہیے۔

اب ایک نظر ڈالتے ہیں اپنی حکومت کے رویے پر۔ ایک طویل خاموشی کے بعد آخر کار وزیر اعظم نواز شریف کو یہ احساس ہو ہی گیا کہ کوئی روہنگن مسلمان کشتیوں میں سوار سمندر کے کھلے پانیوں پر عالمی بے عملی پر نوحہ کناں ہیں۔ کیا تین رکنی کمیٹی کی تشکیل ان لاچار مسلمانوں کے دکھ بانٹنے کے لیے کافی ہے، بحریہ ٹاوٴن کے سربراہ ریاض ملک کو خدا نے توفیق دی اور انہوں نے دس کروڑ روپے کی مالی امداد کا اعلان کر دیا۔
حکومت کو سوچ بچار کی بجائے فوری عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت فی الفور پاک بحریہ کے جہاز روانہ کرے جن میں خوراک، ادویات، ڈاکٹر اور نرسیں ہوں جو کھلے سمندر میں تیرتے ان مظلوموں کا دکھ کم کر سکیں۔
مسلم تنظیمیں جن میں او آئی سی، موتمر عالم اسلامی، عرب لیگ اور دیگر ادارے شامل ہیں، پر لازم ہے کہ وہ مقدور بھر روہنگیا کے مسلمانوں کی امداد کے لیے اقدامات کریں۔
اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر جس نے پاکستان پر تیس لاکھ افغان مہاجرین مسلط کر دیئے تھے جنہیں ہم کئی دہائیوں سے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ اس عالمی ادارے کو اپنے کردار کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان روہنگن مسلمانوں کی آبادکاری کے لیے کام کرنا چاہیے تھا مگر اس ادارے کا عملہ تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش میں بیٹھا کیا گل کھلا رہا ہے وہ اب ایک کھلا راز ہے۔
ان کی کرپشن کے قصے اخباروں میں شائع ہو چکے ہیں۔
اب روہنگن مسلمانوں کی بدقسمتی کی انتہا دیکھیں کہ جب انہیں میانمار سے نکالا جاتا ہے تو ان سے سب شناختی دستاویزات اس لیے چھین لی جاتی ہیں کہ بعد ازاں کسی وسیلے سے انہیں واپس ان کے ملک لایا جائے تو کہہ کر انہیں واپس کر دیا جائے کہ وہ تو میانمار کے شہری ہی نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی دوسرا ملک انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں لہٰذا آج ان کا درجہ بوٹ پیپلز کا ہے جو جب اپنے ملک میں تھے تو قتل کرکے زمین میں دفن کر دیا جاتا اور اب جب کھلے آسمان تک پانی پر تیر رہے ہیں تو سمندر برد کر دیئے جائیں گے۔
تو پھر کیا، کیا جائے۔ ایک تجویز تو یہ ہے کہ تمام مسلمان ملک میانمار سے اپنے سفیر واپس بلا لیں اور اپنے ملکوں سے میانمار کے سفیروں کو نکال کر اس ملک کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ اب وہ لمحہ آ گیا ہے کہ مسلمان رہنما مل بیٹھ کر روہنگن مسلمان افراد کی بحالی کے ٹھوس اور مثبت اقدام کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان