بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رینجرز اختیارات اور وفاق اور سندھ آمنے سامنے
وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرکے رینجرز کو مکمل اختیارات کیساتھ تین ماہ کی توسیع دینے سے وفاق اور سندھ میں رینجرز اختیارات پر جاری تنازعہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ قبل ازیں سندھ حکومت کو ڈاکٹر عاصم کیس میں تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کی تبدیلی کے باوجود عدالت سے خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا
ادیب جاودانی:
وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرکے رینجرز کو مکمل اختیارات کیساتھ تین ماہ کی توسیع دینے سے وفاق اور سندھ میں رینجرز اختیارات پر جاری تنازعہ نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ قبل ازیں سندھ حکومت کو ڈاکٹر عاصم کیس میں تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کی تبدیلی کے باوجود عدالت سے خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی دانست میں رینجرز کیلئے وفاقی حکومت کے اختیارات غیر آئینی ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا دھمکی آمیز بیان سامنے آیا ہے کہ وفاق کو جو کرنا ہے کرکے دیکھ لے۔ پی پی پی کے سابق چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وفاق نے سندھ پر حملہ آور ہو کر آئینی حکمرانی کا اصول پامال کردیا ہے۔
آصف علی زرداری کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا وفاق کے اقدام کو سندھ پر حملے سے تشبیہ دینا غلط ہے اور رینجرز کے اختیارات کا تسلسل سندھ حکومت کے خط سے ہوا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سندھ پر حملے کو غلط مفروضے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کوئی نئی بات نہیں ہے۔
سندھ حکومت کی رینجرز سے متعلق شرائط مانی گئی ہیں اور جو بات نہیں مانی گئی وہ تنازع نہیں ہوسکتی ہے۔وفاقی وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ کسی کو وفاق کے فیصلے پر اعتراض ہے تو عدالت جائے۔ بہرحال سندھ اور وفاق کے درمیان کشمکش کے عالم میں اب رینجرز کم سے کم دو ماہ کیلئے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور فرقہ وارانہ قتل کیخلاف آزادانہ کارروائیاں کرسکیں گے ساتھ ہی دہشت گردی کی مالی معاونت کے شبے میں یا انہیں کسی بھی طریقے سے مدد کرنیوالے کسی بھی شخص کو نوے روز کیلئے حراست میں رکھ سکیں گے ان اقدامات کیلئے سندھ رینجرز کو صوبائی حکومت کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
سندھ رینجرز پر وفاق سالانہ نو ارب روپے خرچ کرتی ہے اور وفاق حکومت ہی انکی کفیل ہے جبکہ سندھ رینجرز وفاق کا ماتحت ادارہ ہے اب قانونی بحث یہ چھڑ گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے اہلکار کیمطابق وفاقی حکومت نے اس ضمن میں موقف اختیار کیا ہے کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ وفاق کا بنایا ہوا قانون ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس قانون میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کی قرار داد مسترد کرنے پر سندھ نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کا سندھ اسمبلی کی قرار داد کو رد کرنا غیر قانونی ہے۔ صوبے کی حاکمیت اور منتخب حکومت کے اختیار کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ آئین کے آرٹیکل 147کے تحت صوبے کے پاس اختیار ہے کہ وہ مشروط اور غیر مشروط اختیارات دے۔ یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی نے رینجرز کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرار داد میں کہا تھا کہ سندھ رینجرز صوبائی حکومت کے کسی بھی دفتر یا کسی ادارے پر چیف سیکرٹری سے پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھاپہ نہیں مار سکیں گے اور نہ ہی وہ پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کی معاونت کرینگے۔
قرار داد کیمطابق رینجرز ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کارروائیاں کرسکیں گے۔ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کیلئے رینجرز کو پولیس کے اختیارات بھی دیئے گئے تھے جس کی مدت رواں ماہ پانچ دسمبر کو ختم ہوگئی تھی۔ صوبائی حکومت اور رینجرز حکام کے درمیان تعلقات میں تناوٴ پٹرولیم کے سابق مشیر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوا۔
رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں تناوٴ ابھی تک موجود ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اس معاملے پر سندھ کے مشیر اطلاعات نے تو مسلم لیگ (ن) حکومت کو ہمیشہ سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے اگرچہ یہ سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی معاملہ ہے لیکن اسکے باوجود سندھ حکومت اور پی پی پی کے سیاستدانوں کی منصوبہ بندی یہ نظر آتی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اور نوے کی دہائی کی سیاست یاد دلا کر وفاقی حکومت کو دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔
کور کمانڈر کراچی نے ایک روز قبل سندھ رینجرز کے اختیارات بارے سخت الفاظ میں پیغام دیا تھا اس معاملے پر وفاق یعنی سیاسی و عسکری قیادت کا باہم اتفاق اپنی جگہ ملک کی سیاسی جماعتوں کراچی کی مختلف تاجر و سیاسی و مذہبی تنظیموں سمیت فضا سندھ رینجرز کوملنے والے اختیارات بارے ہم خیال ہے۔ سندھ میں حزب اختلاف کی جملہ جماعتیں رینجرز کے اختیارات اور ان کی کارروائیوں کی بھرپور حامی ہیں۔
سندھ حکومت کا رینجرز اختیارات کو عدالت میں چیلنج کرنے کا امکان کم ہی ہے اور اگر عدالت جائے بھی اس کی کامیابی کے امکانات بارے یقین نہیں اور نہ ہی سندھ حکومت ڈاکٹر عاصم کی پشت پناہی سے دستبردار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جن کی پشت پناہی نے سندھ حکومت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں رینجرز، وفاق اور فوج کیساتھ انکے تعلقات میں بگاڑ آیا ہے۔
بہتر لگتا یہی ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں دو ماہ کے اضافے کی یہ مدت اسی طرح گزارے گی جسکے بعد اس میں آئندہ کی توسیع کا تنازعہ شروع ہوگا۔ بہتر ہوگا سندھ حکومت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی اور کراچی کے امن کی خاطر رینجرز کے اختیارات کے معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائے اور شہر قائد کی روشنی بحال کرنے اور ملک سے دہشت گردی کے عفریت سے نجات کیلئے سکیورٹی اداروں کی بھرپور مدد کرے تاکہ ملک سے دہشت گردی کا صفایا اور کراچی کا امن بحال ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان