بند کریں
پیر جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رینجرز حکام کی تسلیوں کے باوجود شہر پر خوف سایہ فگن رہا
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی، متحدہ کیلئے چیلنج کیوں نہ بن سکیں؟
اسرار بخاری:
بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کی آمد سے قبل ہی کراچی میں ہونے والے انتخابات ملک بھر میں دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن گئے تھے اگرچہ عمومی تاثر یہ تھا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جو دھاک بیٹھی ہوئی ہے اور رینجرز کے آپریشن کے باوجود سیکٹر انچار جوں کے ذریعہ گلی محلوں میں قائم اثرو رسوخ کا پوری طرح خاتمہ نہیں ہوا اس لیے یہ جماعت انتخابات میں کسی بڑی شکست سے تو دو چار نہیں ہو گی لیکن شاید اسے اکثریت کے حصول میں زیادہ کامیابی نہ مل سکے لیکن انتخابات کے نتائج نے اس تاثر کی نفی کی دی دوسرا تاثر یہ تھا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد متحدہ قومی موومنٹ نے مہاجرازم کو انتخابی حکمت بنایا اور وہ کراچی میں اردو سپیکنگ لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی کہ متحدہ ہی ان کے حقوق کی صحیح اور واحد رکھوالی ہے ۔
کراچی کے ضلع وسطی کی 51 یونین کمیٹیوں میں متحدہ نے 50 اور پیپلز پارٹی نے ایک نشست حاصل کی۔کراچی کے 6 اضلاع کی میونسپل کارپوریشن 209 یونین کمیٹیوں پر مشتمل ہیں۔ خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر انتخابات کے بعد یہ تعداد 308 ہو جائے گی۔کراچی کے میئر کے انتخابات کے لیے 105 نشستیں درکار ہیں جبکہ متحدہ 122 نشستوں کی صورت میں سادہ اکثریت سے زائد نشستیں حاصل کر چکی ہے اس لیے اب کوئی شک نہیں کہ کراچی کا مئیر متحدہ قومی موومنٹ کا ہی ہوگا۔
کراچی میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے جو توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں اور خود ان دنوں جماعتوں کے قائدین جو دعوے کر رہے تھے اور وہ درست ثابت نہ ہو سکے۔ تحریک انصاف کے کراچی میں رہنما فیصل واڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ ہم پنے سپورٹرز کو ووٹرز نہ بنا سکے دراصل رینجرز کی موجودگی کے باوجود یہ فضا بنا دی گئی تھی کہ یہ انتخابات کیونکہ متحدہ کی سیاسی بقا کا معاملہ بنا اس لیے یہ تشدید ہنگاموں کا خطرہ ہے یہ خدشہ یا خوف اتنا بڑھا کہ رینجرز کے ڈی جی کی اس تسلی کے باوجود کہ کراچی کے لوگ بلاخوف خطرہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے نہ نکلی۔
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اس صورتحال کا بروقت ادراک نہ کرنے باعث اپنے ووٹرز کو تحفظ کا احساس دلا کر انہیں پولنگ سٹیشنوں تک نہ لاسکے۔ دوسرے یہ رائے بھی قابل غور ہے کہ کو ذہنی طور پرقبول نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے حامی دینی سوچ رکھتے ہیں کہ جبکہ تحریک انصاف کے حامیوں کی اکثریت لبرل اور سیکولر نظریات کی اسیر ہے تاہم متحدہ قومی موومنٹ پر دھونس اور دھاندلی کے الزامات کے باوجود اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا پڑے گا بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تو متحدہ کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے اس کے رہنما وسیم اخترمبارک باد بھی دے دی ہے جو کراچی کے متوقع میئر بھی ہیں۔
پنجاب میں(ن) لیگ نے 2013 کے عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی اپنی برتری کو برقرار رکھا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے بعض حلقوں میں مختلف وجوہ ی بنا پر انتخابات ملتوی ہوئے اور اب تک جن حلقوں میں انتخابات ہوئے ہیں ان کی تفصیل یوں ہے۔ پنجاب کے 12اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی کل 2507 میں سے 2502نشستوں کے غیر حتمی سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن 1043نشستیں جیت کر سب سے آگے ہے دوسرے نمبر پر آزاد امیداور 1040 نشستیں جیت چکے ہیں جب کہ تیسرے نمبر پر تحریک انصاف 260 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔
پیپلز پارٹی 100 نشستیں جیت کر کر چوتھے نمبر پر ہے۔ ق لیگ کی 12 جماعت اسلامی 3 جبکہ دیگر کی 21 نشستیں ہیں۔23 سیٹوں پر الیکشن ملتوی ہوئے۔ کراچی میں ایم کیوایم 456 نشستوں میں سے 268 جیت کر واضح اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ پیپلزپارٹی 62 اور آزاد امیدوار 40 نشستوں پر کامیاب رہے ہیں۔ ان میں ضلع کو نسل کے 1124 نشستوں کے نتائج موصول ہوئے۔ مسلم لیگ ن 471 سیٹوں کے ساتھ سرفہرست ہے ، آزاد امیدواروں نے 448 نشستیں حاصل کیں ہیں جبکہ تحریک انصاف کی 114 نشستیں اور پیپلز پارٹی نے 84 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔
اسی طرح میونسپل کارپوریشن کی 184 نشستوں میں سے 107 پر ن لیگ کامیاب رہی۔ 42 سیٹیں آزاد امیدواروں کے حصے میں آئی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کو 24 نشستیں ملی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور عوامی مسلم لیگ ایک ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔دوسری جانب نتائج موصول کمیٹی کی کل 1172 میں سے 1167 نشستوں کے نتائج موصول وہ چکے ہیں جن کے مطابق آزاد امیداروں کی 543 نشستیں، ن لیگ کی 464 نشستیں، پی ٹی آئی کی 119 نشستیں اور پیپلزپارٹی کو 15 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
اس کے علاوہ ق لیگ کو 6، راہ حق کو 12 ، جماعت اسلامی کو 3 جبکہ جے یو آئی ف 2نشستیں حاصل کر سکی ہیں۔میونسپل کمیٹی کی 5نشستوں پر انتخابات کے نتائج ملتوی کو دئیے گئے۔ کراچی میں مسلم لیگ کو 35 ، تحریک انصاف کو 19 ، جماعت اسلامی کو 16 ، اے این پی کو 2جبکہ دیگر جماعتوں کے 6امیدوار جیتے۔ 2جگہ الیکشن ملتوی ہوا۔ 2013 کے انتخابات، اس کے بعد ضمنی اور بلدیاتی انتخابات ،انتخابی عمل میں جو خامیاں اور کوتاہیاں سامنے آئی ہیں ایک کے بعد دوسرے انتخابات میں انہیں دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پیش کئے گئے جس کی وجہ سے ہر الیکشن کے بعد دھاندلی اور الیکشن عملہ کی جانب سے بے ضابطگیوں کا سوال اٹھتا ہے۔
انتخابی فہرستوں کو درست کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں سے پڑتال کرائی جائے تاکہ اعتراضات نہ اٹھائے جاسکیں اور شفاف انتخابات کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کو اپنایا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان