بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قائداعظم رحمتہ علیہ ایک عہد سازشخصت
قائداعظم نے مسلم لیگ کی شمع کواپنے خون جگر سے تابندگی بخشی آپ رحمتہ علیہ عزم واستقلال یقیں محکم اور عمل پیہم سے ایک آزادوطن تخلیق کیا! قائداعظم رحمتہ علیہ استحصال سے پاک اور عدل وانصاف پرمبنی معاشرہ قائم کرنے کے خواہاں تھے
ڈاکٹرمحمد یعقوب مغل:
قائداعظم کاشمار عصر حاضرکے ان عظیم ترین رہنماؤں میں ہوتاہے جنہوں نے نہ صرف عوام کو آزادی دلائی بلکہ ان کیلئے ایک علیحدہ وطن بھی حاصل کیا‘جہاں وہ اپنی زندگی قرآن مقدس کی تعلیمات اور اسلامی روایات کے مطابق بسر کر سکیں۔ قائداعظم کایہ کارنامہ قومی آزادی کے تمام رہنماؤں افضل ہے۔
دیگررہنماؤں نے آزادی کی جدوجہد ایسی ریاستوں کے اندرکی جوکہ پہلے سے موجود تھیں۔ صرف قائداعظم ہی ایسے رہنماتھے جنہوں نے ایسی ریاست کے حصول کی جدوجہد کی جس کاکوئی وجود نہیں تھا۔ آپ جنوبی ایشیا کیا یک تاریخ ساز شخصیت تھے آپ نے اپنے عزم واستقلال ‘یقین محکم اور عمل پیہم سے ایک آزاد وطن تخلیق کیا۔قائد کاقانون کی بالادستی پرپختہ یقین تھااور انہیں بلاشبہ جمہوری اقدار کاترجمان کہا جاسکتا ہے۔
قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ہندوستانی اخبار”ٹائمز“ نے لکھا۔پاکستان کاقیام موجودہ دور کاایسا واقعہ ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ واقعہ بتاتاہے کہ آج کاانسان کس طرح تاریخ کواپنے عزم واستقلال کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے۔ پاکستان صرف ایک شخص مسٹر جناح کی تصوراتی دنیاتھا اور جسے انہوں نے بالآخر حاصل کیااور اسلامی مملکت بتانے کیلئے علمی اقدامات اٹھائے۔

قائداعظم رحمتہ علیہ پاکستان میں استحصال سے پاک اور عدوانصاف پرمبنی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے اسی لئے قائداعظم نے دولت مندوں کواپناانداز فکرتبدیل کرنے کامشورہ دیااور سرکاری افسروں پر زوردیاکہ وہ ایسی فضاپیداکریں کہ ہرشخص کے ساتھ انصاف ہوتانظرآئے اور ہرشخص کواپنا حق مل سکے۔ سرمایہ داروں‘جاگیرداروں اور نوابوں کوتنبیہہ کرتے ہوئے آپ نے بڑے واضح الفاظ میں کہاکہ پاکستان میں کسی بھی طبقے کولوٹ مارکرنے اور اجازہ داری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان میں رہنے والے ہرشخص کویکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔پاکستان امیروں ،سرمایہ داروں،جاگیر داروں اور نوابوں کی لوٹ مار کے لئے نہیں بتایاگیا۔پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے قائم ہواہے۔یہ غریبوں کاملک ہے اور غریبوں کوہی یہاں حکومت کرنے کاحق ہے۔پاکستان میں ہرشخص کامعیار زندگی اس قدر بلندکیاجائے گاکہ امیروغریب کاکوئی فرق نہیں رہے گا۔
پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیر فانی اصولوں کی روشنی میں مرتب کیاجائے گا۔ قائداعظم نوکرہی کومن مانی کرنے کے قطعاََاجازت نہیں دنیاچاہتے تھے۔قائداعظم نے واضح الفاظ میں کہاجاتا کہ”حاکمیت کے تکبر کانشہ ٹوٹناچاہئے،اب آپ حاکم نہیں آپ کاحکمران طبقے سے تعلق نہیں،اب آپ کوملازموں کی طرح فرائض بجا لانے چاہئیں۔
سیاست آپ کاکام نہیں،آپ کاکام خدمت ہے جوسیاسی جماعت اکثریت حاصل کرے گی وہی حکومت کی خدمت کریں،سیاستدانوں کی حیثیت میں نہیں بلکہ خادموں کی حیثیت میں ۔مجھے احساس ہے کہ قدیم روایات قدیم ذہنیت قدیم نفسیات ہماری گھنٹی میں پڑی ہوئی ہے اور ان سے نجات پاناآسان نہیں ۔اب یہ آپ کافرض ہے کہ عوام کے سچے خادموں کی حیثیت سے کام کریں۔ قائداعظم رحمتہ علیہ بحیثیت قانون دان عدلیہ کی آزادی کی اہمیت کوجانتے تھے،اسی لئے انہوں نے ہمیشہ قانون کا اہمیت کو جانتے تھے،راسی لئے انہوں نے ہمشیہ قانون کااحترام کیااور آزاد اور بے داغ عدلیہ کے حامی رہے۔
قائداعظم چاہتے تھے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد سچے اسلامی اصولوں اور نظریوں پرقائم کریں جس طرح اللہ کاحکم ہے۔مملکت کے مسائل کے بارے میں فیصلے مشوروں اور باہمی بحث وتمحیص سے کیاکرو۔قائداعظم رحمتہ علیہ نے پاکستان کے دستور کے بارے میں ایک انٹرویو کے دوران فروری 1948ء میں فرمایاکہ”پاکستان کادستورابھی بنناہے اور یہ پاکستان کی دستورساز اسمبلی بنائے گی۔
یقین سے کہہ سکتاہوں کہ یہ جمہوری نوعیت کااوراسلام کے بنیادی اصولوں پرمشتمل ہوگا۔اسلام اور اس کے نظریات سے ہم نے جمہوریت کاسبق سیکھاہے۔اسلام نے ہمیں اسلامی مساوات،انصاف اور ہرایک کے ساتھ رواداری کادرس دیا ہے۔ ہم ان عظیم روایات کے وارث اور امین ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے معماروں کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔
قائداعظم رحمتہ علیہ نے قوم کوصاف الفاظ میں خبردارکیاکہ پاکستان میں ایسے لوگوں کوبرگز برداشت نہیں کیاجائے گا جو پاکستان اور پاکستانی قوم کے بدخواہ ہوں۔چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔قائداعظم عام آدمی خصوصاََ مزدور طبقے کی فلاح وبہیود چاہتے تھے،آپ نے ولیکاٹیکسٹائل مل کے افتتاح کے موقع پر6ستمبر1947ء کوفرمایاتھاکہ مجھے امیدہے کہ آپ نے اپنے کارخانہ کاپلان تیارکرتے وقت کاریگروں کیلئے مناسب رہائشی مکانات اور دوسری آسائشون کاخاص طور پر اہتمام کیا ہوگا۔
کیونکہ کوئی بھی صنعت اس وقت تک حقیقتاََ فروغ نہیں پاسکتی جب تک اس کے مزدور مطمئن نہ ہوں۔ یکم جولائی1948ء کوبینک دولت پاکستان کاافتتاح کرتے وقت عوام کوواضح الفاظ میں بتایا کہ قدرت نے آپ کو ہر چیز عطا کی ہے آپ کے پاس غیر محدود وسائل موجودہیں۔آپ کی مملکت وسائل موجودہیں۔آپ کی مملکت کی بنیا پر رکھی جاچکی ہے۔ اب اس کی تعمیرآپ کاکام ہے۔
پس تعمیر کیجئے جس قدر جلداور جتنی عمدگی سے آپ کرسکیں،آگے بڑھئے،میں آپ کی کامیابی کیلئے دعاکرتاہوں۔ قائداعطم رحمتہ علیہ پاکستان کوایک عظیم اسلامی ریاست بناناچاہتے تھے تاہم انہوں ے نے اپنے آپ کواسلام کا خادم سمجھا۔ 17اپریل1948ء کوگورنمنٹ ہاؤس پشاور میں قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدکی حیثیت سے کیااور جتنا کچھ میری بساط میں تھا‘اس کے مطابق اپنی ملت کی خدمت کیلئے کام کیا۔
میری مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحادپیداکروں۔ 30اکتوبر1947ء کولاہور کے شہریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا”میں آپ سے صرف یہ کہناچاہتاہوں کہ ہم میں سے ہرشخص جس تک میرا بھی پیغام پہنچے نہ صرف پاکستان کیلئے اپناسب کچھ قربان کردینے کاعہد کرے بلکہ اس عزم کابھی اظہار کرے کہ ہمیں پاکستان کواسلام کاقلعہ بناناہے اور میں پاکستان کے ہرفردکوخاصطور پراپنے جوانوں کویہ تاکید کرنا چاہتا ہوں کہ تندہی ہمت اور مستقل مزاجی کے صحیح اوصاگ کام لیتے ہوئے دوسروں کی رہنمائی کریں اور آئندہ نسلوں کیلئے ایک اچھی اور اعلیٰ مثال قائم کریں۔

ایمان تنظیم اور اتحاد کاسبق:
23جنوری1948ء کوجہاز”دلاور“ کے افتتاح کے موقع پر فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا پاکستان کے دفاع کومضبوط سے مضبوط بنانے میں آپ میں سے ہرایک کواپنی جگہ انتہائی اہم کرداراداکرناہے۔اس کیلئے آپ کانعرہ ہوناچاہیے کہ ایمان ‘تنظیم اور اتحاد‘آپ کویہ کمی ہمت استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پوری کرنے پڑے گی کیونکہ اصل چیززندگی نہیں بلکہ ہمت صبروتحمل ارعزم صمیم جیسے اوصاف ہیں جوزندگی کوصحیح طورپرزندگی بناتے ہیں۔
2اپریل1948ء کواسلامیہ کالج پشاور میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے قائد نے فرمایا:آپ کواپنے صوبے کی محبت اور اپنی مملکت کی محبت کے درمیان امتیاز کرناسیکھنا چاہیے۔مملکت کی محبت بلکہ مملکت کی طرف سے عائدکردہ قرض ہمیں ایک ایسی سطح پرلے آنے کیلئے وسیع تربصیرت اور بلندترحب الوطنی کی ضرورت ہوتی ہے۔مملکت کافرض اکثر تقاضاکرتاہے کہ ہم اپنے ذاتی،مقامی یاصوبائی مفادات کومفادعامہ کے تابع کرنے کیلئے ہمہ وقت تیارہیں۔
مملکت کافرض پہلے ہے اور اپنے صوبہ، اپنے ضلع اپنے قصبے اور اپنے گاؤں کافرض بعدمیں آتاہے۔ 27اپریل1948ء کوکراچی چیمبرزآف کامرس کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا میں آپ کی توجہ حکومت پاکستان کی اس خواہش کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں کہ ملک کوصنعتی بنانے کے ہر مرحلے پر نجی سرمایہ کاری کاشریک عمل رکھا جائے۔ حکومت نے اپنے انتظام وانصرام میں جن صنعتوں کولے رکھاہے ان میں جنگی نوعیت کااسلحہ برقابی طاقت کی افزائش ریلوے کے ڈبے بناناٹیلی فون تار اور بے تار برقی آلات بنانا۔
دوسری تمام صنعتی سرگرمیاں نجی سرمائے کیلئے کھلی رکھی گئی ہیں۔جسے ہروہ سہولت دی جائے گی جوایک حکومت صنعت کے قیام اور ترقی کیلئے دے سکتی ہے۔حکومت ایسے حالات پیداکرنے کی ہرممکن کوشش کرے گی جن میں صنعت اور تجارت کوفروغ حاصل ہوسکتاہو۔ پاکستان کے معدنی وسائل کے جائزے لئے جائیں گے۔نقل وحمل کے ذرائع کوترقی دینے کے منصوبے بنائے جائیں گے۔
بندرگاہیں تعمیرکی جائیں گی اور صنعتی سرمایہ کاری کیکارپوزیشن قائم کی جائے گی۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی کامیابی کاراز جاننے کی کوشش کی جائے توایک انکشاف سامنے آتاہے کہ لندن میں موجود چاریونیورسٹیوں میں سے ”لنکنزان“میں قائداعظم نے داخلہ صرف اس لئے لیا کہ اس جامعہ میں ایک بڑے بورڈ پردنیا کے بڑے بڑے قانون دانوں کے ناموں میں حضرت محمد مصطفی کانام مبارک سرفہرست تھا یہ عشق نبی ﷺ کی سیڑھی کا پہلازینہ تھا جو قائداعظم نے طے کیا۔
آپ نے محبت رسولﷺ سے سرشارہوکرعہدکیاکہ حضورﷺ کی امت کیلئے علیحدہ مملکت بناؤں گا۔پھر1947ء میں پاکستان کے قیام سے قائداعظم نے ناممکن کوممکن کردکھایا۔ بحیثیت گورنرجنرل قائداعظم کی حیثیت بے مثل تھی۔ان کی حیثیت مروجہ طرز حکومت میں محض ایک روایتی سربراہ مملکت کی نہیں بلکہ انہیں وہ حیثیت حاصل تھی جوکہ بانی پاکستان اور بابائے قوم کیلئے وقف تھی۔
قائداعظم کے کارناموں اور تاریخی کردار پرتبصرہ کرتے ہوئے اسٹینلے والپرٹ نے تحریرکیاکہ چندافراد نے تاریخ کے دھارے کوب دلنے کی نمایاں کوشش کی اور صرف چندنے دنیاکانقشہ تبدیل کیا‘ لیکن شایدہی کسی رہنماکوقومی ریاست قائم کرنے کااعزازحاصل ہواہو۔محمد علی جناح نے یہ تینوں کارنامے سے سرانجام دیئے۔ قائداعظم ایک ہمہ گیرسرگرم عمل سیاسی رہنماتھے۔
یہ ان کی سچی اور پرخلوص جدوجہد کانتیجہ تھاکہ بے شمار شواریوں اور کاوٹوں کے باوجود ایک مقتدر مملکت پاکستان وجودمیں آئی وہ ایک عظیم پارلیمانی رہنماتھے،ان کامنطقی استدالال لاجواب ہوتاتھا۔ ایک ایسے رہنماتھے جن کوخریدانہیں جاسکتاتھا وہ انتہائی اخلاقی جرات کے پیکر تھے۔انہوں نے بلاخوف وڈرمسلمان برصغیر کے مفاد کودنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی شخصیت تدبر حوصلہ احساس ذمہ داری سالمیت بے باکی اورمقصد سے وابستگی کاآئینہ دار تھی۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان