بند کریں
جمعہ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین -
پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کا سال مکمل
خصوصی عدالت میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت سنگین غداری کیس کی سماعت کو24دسمبر کو ایک سال مکمل ہوگیاسابق جنرل پرویز مشرف اور مقدمہ کے مرکزی ملزم کیس میں دو بار عدالت کے روبرو پیش ہوئے
محمدصلاح الدین خان:
خصوصی عدالت میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت سنگین غداری کیس کی سماعت کو24دسمبر کو ایک سال مکمل ہوگیاسابق جنرل پرویز مشرف اور مقدمہ کے مرکزی ملزم کیس میں دو بار عدالت کے روبرو پیش ہوئے ا ن پر 31مارچ کو جسٹس طاہر صفدر نے فرد جرم عائد کی کہ انہوں نے 3 نومبر 2007ء کو ملک کا آئین معطل کرتے ہوئے بطور آرمی چیف غیر آئینی اور غیر قانونی ایمرجنسی لگائی،پی سی او ججز کی تعیناتیاں کی اور حلف لیا،چیف جسٹس سمیت 60 سے زائد ججز کو معطل کرکے ان کے گھروں میں نظر بند کیا، آئین میں ترامیم کرتے ہوئے آرٹیکل 270-AAA کا اضافہ کیا، بنیادی انسانی حقوق معطل کیئے جبکہ ملزم پرویز مشرف نے عائد کردہ تمام الزمات کے صحت جرم سے انکار کیا۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں جسٹس طاہر صفدر اور جسٹس یاور علی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 8جنوری 2015ء کو کیس کی مزید سماعت کرنا ہے تودوسری جانب خصوصی عدالت کے 21نومبر کے حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کیس میں شریک ملزمان سابق وزیراعظم شوکت عزیز،سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کی تین اپیلوں کا فیصلہ ہونے تک خصوصی عدالت کو مزید سماعت کرنے سے روک دیا ہے اور ان اپیلوں کی مزید سماعت 3فروری تک ملتوی کی ہے۔
21نومبر کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی جانب سے دائر درخواست میں کیس کے مذکورہ تین شریک ملزمان و دیگر کو شامل تفتیش کرنے اور وفاق کو ترمیم شدہ درخواست (شکایت) دوبارہ جمع کروانے کی کا حکم دیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا۔اب ان تین شریک ملزمان شوکت عزیزنے ایڈووکیٹ وسیم سجاد، عبدالحمید ڈوگر نے ایڈووکیٹ افتخار گیلانی اور حامد خان نے ایڈووکیٹ خواجہ حارث کے توسط سے خصوصی عدالت کے اکیس نومبر کے فیصلے کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہیں۔
کیس میں پرویز مشرف کی جانب سے وکیل دفاع نے اب تک متفرق 30سے زائد درخواستیں دائر کی ہیں جبکہ پراسیکوشن کی جانب سے 5درخواستیں دائر کی جاچکی ہیں،کیس میں 24 گواہوں سے تفتیش کی گئی اور بیانات قلمبند کئے گئے ان میں سے 9گواہ خصوصی عدالت میں پیش ہوئے اپنا اپنا بیان ریکارڈ کروایااور وکیل دفاع کی جانب سے ان پر جراح کی گئی۔حکومت اور چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد غداری کیس میں 1973ء میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق خصوصی کورٹ کے قیام اور اس کے ججز کا انتخاب کیا گیا، وزارت داخلہ کے سیکر ٹری محمد شاہدخان نے خصوصی عدالت میں مشرف کے خلاف شکایت درج کروائی تھی جبکہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی محمد خالد قریشی کی سربراہی میں،دیگر افسران ڈائریکڑز ایف آئی اے خالد رسول اور مقصود الحسن پرمشتمل مقرر کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)نے اپنی تحقیقات 16دسمبر 2013 کو مکمل کی تھیں اس سے پہلے مقدمہ کا ریکارڈ کیبنٹ ڈویڑن کے پاس تھا بعد میں یہ ریکارڈجے آئی ٹی نے پراسیکوشن کے حوالے کیا۔
، 9گواہ خصوصی عدالت میں پیش ہوئے ان گواہوں میں سابق سیکرٹری داخلہ محمد شاہد خان۔سیکشن آفیسر کلیم احمد۔کیبنٹ ڈپٹی سیکرٹری (ر)سراج احمد۔ڈپٹی سالی سیٹر وزارت قانون تاج عمر خان۔پروڈیوسر پی ٹی وی طالب حسین۔ایس او وزارت قانون بالاچ خان۔جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے محمد خالد قریشی۔دیگر جے آئی ٹی ممبران ڈائریکٹرز ایف آئی اے مقصود الحسن، خالد رسول شامل ہیں۔
خصوصی عدالت پہلے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے عقب میں واقع نیشنل لائبریری میں قائم کی گئی جہاں پرویز مشرف 17 فروری اور 31مارچ کو پیش ہوئے۔پہلے مشرف کے وکلاء کا پینل شریف الدین پیر زادہ،انورمنصور خان،ابراہیم ستی،رانا اعجاز،فیصل چوہدری ،احمد رضا قصوری وغیر پر مشتمل تھی بعد ازاں جب چند ماہ بعد کیس کی سماعت فیڈرل شریعت کورٹ میں منتقل ہوئی تو یہ وکیل دفاع بیرسٹرفروغ نسیم ،شوکت علی خان ،فیصل چوہدری پر مشتمل ہوگئی۔
جبکہ حکومت کی وکلاء ٹیم میں پراسیکو ٹراکرم شیخ ،طارق حسن،نصیر الدین نیر،اکرم چوہدری،چوہدری عصمت اللہ،چوہدری حسن مرتضیٰ مان،بیرسٹر نتالیہ کمال، بیرسٹر سجیل شہر یار وغیرہ شامل ہیں۔دوران سماعت پرویز مشرف کی تین نومبر کی ایمرجنسی کی تقریر کا متن اور اصلی ڈی وی ڈی پیش کی گئی،جے آئی ٹی کی تفتیشی پراگراس پرمبنی9 کیس ڈائریوں کا ریکارڈ پیش کیا گیا جبکہ وزیراعظم ،صدرہاؤس ،پارلیمنٹ کے ریکارڈ کے حوالے سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ نہیں مل سکا وہ ضائع ہو چکا ہے،پرویز مشرف کے وکیل دفاع فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ پرویز مشرف کو سنگل آوٹ کرکے ٹرائل کیا جارہا ہے وہ غدار نہیں وہ چالیس سال فوج کے افسر رہے ،حکومت اور عدلیہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے مشرف نے بطور صدر وزیر اعظم کے ایڈوائسی خط و دیگر سے مشاورت کے بعد ایمرجنسی لگائی، جس میں گورنرز،وفاقی وزرا 350پالیمنٹرین ،ء چیف سیکر ٹریز ،کور کمانڈرز،سروسز چیف شامل تھے شریک کاروں،معاونت کاروں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے۔
1956ء سے آئین توڑنے والے مارشل لاء لگانے والوں کا ٹرائل ہو نا چاہئے سب کو کٹہرے میں لایا جائے ،انہوں نے سابق گورنرز خالد مقبول اور عشرت العباد کے بیانات پر جراح کی،فروغ نسیم نے آئین کے آرٹیکل 25,10-A,9 ، سی آرپی سی کے سیکشن 351اور 361 کے تحت ایک نئی درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ دیگرحکومتی اور فوجی افسران کو شریک ملزم قرار دیتے ہوئے شامل تفتیش کیا جائے،عدالت کمپلین خارج کرے،کمپلین واپس کرے اور ترمیم کرنے کے بعد دوبارہ درج کی جائے پراسیکوٹر اکرام شیخ نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیاوہ کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں گے کیونکہ مستقبل میں یہ کیس بطور مثال پیش ہوگا۔
پانچ نکاتی فرد جر م پر ملزم پرویزمشرف نے صحت جرم سے انکارکیااورکہا کہ ان کیخلاف فرد جرم میں ہائی ٹریڑن کالفظ استعمال کیاگیاہے جس کامطلب اردومیں غداری ہوتاہے اورغدار وہ ہوتاہے جوقومی رازدوسروں کو فروخت کرے یادشمن کے سامنے ہتھیارڈالے، میں توکمانڈوتھا جوشہید یاغازی ہوتاہے ان کا موقف تھا کہ ان پرلگائے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں میں نے آئین کومعطل کیا نہ توڑا ہے میں نے اپنے آٹھ سالہ دورمیں ملک کوترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن کردیاتھا پرویزمشرف نے عدالت کوآگاہ کیاکہ انہوں نے ہمیشہ عدالتوں کااحترام کیاہے اوراب بھی کرتاہوں میں یہاں پہلے آناچاہتاتھا لیکن سیکورٹی وجوہات کے باعث پیش نہ ہوسکا مجھے اپنی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میں کسی سے نہیں ڈرتالیکن میرے اردگرد لوگوں کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور آج بھی میں عدالت میں اپنی ذاتی ذمہ داری کے سرٹیفیکیٹ پردستخط کرکے آیاہوں پرویزمشرف نے کہا کہ میں نے اپنے آٹھ سالہ دورمیں کشکول توڑتے ہوئے غیرملکی قرضہ کیااوراسے 40ارب ڈالرسے 37 ارب ڈالرپرلایا ،ڈالرکی قیمت 60روپے پربرقرارکھی معیشت کوفروغ دیاملک بھرمیں انفراسٹرکچر کاجال پھیلایا ڈیم بنائے انڈسٹری کوترقی دی ٹیلی کمیونکییشن ، آئی ٹی ،تعلیم وصحت اورانرجی سمیت تمام شعبوں میں منصوبے شروع کئے عوام کوخوشحالی دی افراط زر کوکم کیا وہ یہی توچاہتے ہیں کہ غربت کم کی جائے لوگوں کو روزگار دیاجائے قیمتوں پرکنٹرول ہویہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے جومیں نے اداکی اپنے دورمیں قومی دفاع کومضبوط کیاالخالد ٹینک کودیکھیں ،نیوی کے پاس جدید فریگیٹس ، پی اے ایف کے پاس جے ایف تھنڈر طیارے دیکھیں اورمیزائل سازی پرنظرڈالیں مجھ سے پہلے صرف دو غوری میزائل ٹیسٹ کئے گئے تھے لیکن آ ج اس شعبہ میں بہت ہم مستحکم ہیں،جس پرمجھے فخرہے میں نے اعلیٰ عدلیہ میں ہمیشہ بروقت اورمیرٹ پرتقرریاں کیں میں چیلنج کرتاہوں کہ میرے دورکی سماجی ترقی کاموازنہ کسی بھی دوسری حکومت سے کیا جائے میرادورپھر بھی بھاری ہوگا ، میں نے بلوچستان کوجوکچھ آٹھ سال میں دیااس کاموازنہ گزشتہ 60 سے کیاجائے پہلے اس صوبے کواپنے حصے کاپانی نہیں ملتاتھا میں نے تونسہ سے کچھی کینال نکال کران کوپانی پہنچایا میرانی ڈیم بنایاکوسٹل وے بناکر بلوچستان کوچاروں صوبوں سے لنک کردیاگوادرپورٹ بنایا صوبے میں 9یونیورسٹیاں بنائیں 7کالج بنائے لیکن پھربھی میراٹرائل ہورہاہے انہوں نے کہاکہ میراگناہ یہی ہے کہ میں عوام کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں غداروہ ہوتاہے جو ملک کی سماجی ترقی میں رکاوٹ ڈالے عوام کوترقی سے روکے وہ سب سے زیادہ سنگین غداری ہوگی اور2007ء میں میری نظر میں یہی صورتحال تھی لیکن پھر 2008ء کے بعد جوحالات بنے ہیں کہ ہم اوپرجارہے ہیں یاتنزلی کی جانب، سابق صدرنے کہا کہ 3نومبرکااقدام میں نے وزیراعظم ، وفاقی کابینہ اوردیگرتمام سٹیک ہولڈرکی مشاورت سے اٹھایاتھا جس دوران میں آئین توڑا نہ معطل کیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-03

(0) ووٹ وصول ہوئے