بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاک چین اقتصادی راہداری کیخلاف سازشیں شروع
صوبائی حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیلئے تیار؟۔۔۔۔۔ کوئٹہ ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کی زدمیں ہزارہ کمیونٹی کی بس پرفائرنگ سے خوف وہراس میں اضافہ
عدن جی:
کوئٹہ میں ایک بار پھر زائرین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔بس اڈے پرنا معلوم افراد نے تفتان جانے والے ہزارہ کمیونٹی کے لوگ پر فائرنگ شروع کردی جس سے دو افراد موقع پراور تیسرا ہسپتال میں چل بسادیگرنے بھاگ کر جان بچائی اور پھر شہر میں خوف وہر اس عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا۔یہ الگ بات ہے ڈائرین پر حملے بھی مسلسل ہوتے ہیں اور زائرین بھی اپنا مسلم مقدس سفر جاری رکھتے ہوئے ہیں ۔
کوئٹہ میں اس واقعہ نے حکومت کی سکیورٹی فراہم کرنے کا پول کھول دیا۔بات پنجابیوں یا ہزارہ کمیونٹی پر فائرنگ یا ٹارگٹ کلنگ کی نہیں بات یہ ہے کہ تعصب کی آگ کیسے بجھے گی؟ یا صرف غیر ملکی ہاتھ کہہ کر بات ختم کر دی جائے گی ۔البتہ بلوچستان میں بھی سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردگرفتار ہورہے ہیں۔اور بھاری اسلحہ بھی برامدہو رہا ہے۔مگر حیرت ہے کہ کوئٹہ میں ہر جگہ ایف سی راج کے باوجود یہ واقعات کیوں ہوتے ہیں؟
وزیراعلیٰ ملک بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی صوبائی حکومتیں اور عسکری قیادت ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لئے تیار ہے۔

ایسا پہلی بار کہا گیا کہ عسکری قیادت بھی ناراض بلوچوں سے مذکرات کے لئے تیار ہے۔مگر سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے ان بلوچوں کو کب تک ناراض کیا جا تا ہے گا کیونکہ یہ بلوچ صوبے میں کشت وخون اور دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔دوسرے یہ اگر یہ بلوچ مذکرات کے لئے تیار ہو بھی جاتے ہیں تو کیا وہ کسی بااختیار جرگے سے بات کررہے ہیں ۔
جو اپنی بات حکومت سے منواسکیں اور پھر مذکرات کی ایسی ہر دعوت کو بیرون ملک موجود پیر بہارمری براہمداغ بگٹی نے ہمیشہ مستر دکیا ہے۔لہٰذا اگر ان سے بات کرنی ہے تو قبائلی جرگے کے ذریعے کی جاسکتی ہے یا وہ لوگ بیرون ملک کیسی کیسی غیر ملکی قوت کے ہاتھوں سب کھیل رہے ہیں اس کا جائزہ لیا جائے۔البتہ یہ طے ہے کہ بلوچستان میں پاک چین اکنامک کو ریڈور کے خلاف لابیاں سر گرم ہو چکی ہیں کیو نکہ امریکہ اور بھارت اس روٹ کو تعمیر ہو تا نہیں دیکھ سکتے۔
لہٰذ اس کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہر حربہ آزمانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اس کیلئے بلوچستان کے کون کون سے چہرے استعمال کرے ہیں جو پاک چین گوادر تا کا شغر روٹ کی مخالفت کریں گے۔احتجاج دھرنا اور جلسہ جلوس کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔مگر حکومت نے ایوان میں اس روٹ کا نقشہ پیش کر دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ اس میں ایک اٹچ تبدیلی نہیں ہوگی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی وضاحت کے بعد بلوچستان کی ان قوتوں کا ردعمل کیا ہو گا۔

بلوچستان اسمبلی میں واپڈا کے خلاف خاصی گرم گرم بحث ہوئی۔اس کے خلاف کریشن کی بات ہوئی ۔بات دراصل واپڈا اور زمیندار کی تھی واپڈا زمینداروں پر ظلم کر رہا ہے۔صرف 4گھنٹے بجلی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے جبکہ ان کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ زمیندارروزاحتجاج کررہے ہیں ۔عبدالرحیم زیار توال نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے کیسکو کو اپنے معاملات درست رکھنے کو کہا تھا۔
”کیسکو“ اپنی کریشن روکے اور زمینداروں کو یہاں 10گھنٹہ بجلی فراہم کر تو ان کے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔قائد ایوان ملک بلوچ نے بتایا کہ زمینداروں کے معاملات پر کیسکو“ حکام سے ہماری تفصیلی بات چیت ہوئی تھی ۔بہت سے معاملات تھے2010ء سے 2012ء کے درمیان ختم ہونے والی سبسڈی کے بقایاجات بھی تھے اور 15ہزار غیر قانونی ٹیوب ویلز کا معاملہ بھی تھا کہ انہیں قانونی بنایا تھا ہم پہلے بھی اسلام آبادگئے تھے پہلے 1/2 چارارب سبسڈی دی جارہی تھی اب ہمیں ا س حوالے سے مرکزی حکومت سے جوبات کریں گے ۔
بلوچستان حکومت کوئٹہ کے شہریوں کے مسائل کرنے میں ناکام ہے؟ یہ سوال صرف زمینداروں اور واپڈا کے حوالے سے نہیں بلکہ واسا کے حوالے سے ہے۔گرمی میں کوئٹہ کے عوام پانی کو ترس رہے ہیں کئی ہفتے پانی نہ ملے تو لوگوں کا احتجاج بڑھ جاتا ہے جبکہ وہ ٹریفک کے مسائل بھگت رہے ہیں تو جو نہی بس اڈاشہر سے دور ہزار گنجی جانے کا معاملہ سنگین ہوا تو ٹرانسپوٹرز نے ہڑتال شروع کردی اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جانے آنے کے لئے بہت اہم ہو گیا ہے اور میئر کو ئٹہ کی کارگردگی بہت واضح طور پر نظرآرہی ہے۔
کوئٹہ میں وہ پلازے جن کی پارکنگ نہیں تھی اور سڑک کو پارکنگ بنا رکھا تھا انہیں سیل کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور کئی منزلہ عمارتوں کے خلاف بھی کاروائی شروع کردی گئی کیو نکہ کوئٹہ زلزلہ زون میں ہے لہٰذا یہاں تو دومنزلہ عمارتیں بھی تعمیر کرنا خلاف قانون ہے لیکن حکومت کی عدم تو جہی سے یہاں کئی منزلہ کئی پلازے بن چکے ہیں ۔میئر کے لئے یہ مسئلہ خاصااہم ہے۔تاہم اطلاع یہی ہے کہ آئندہ دومنزلہ عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔قائم شدہ عمارتوں کے لیے لائحہ عمل تیارکیا جارہا ہے۔کوئٹہ میں برسوں بعد عوام بلدیاتی نظام سے مستفید ہورہے ہیں جبکہ مری معاہدے کے تحت مالک بلوچ حکومت کے ڈھائی سال ختم ہونے کے بعد جانے کے امکان کم ہوگئے ہیں ؟
تاریخ اشاعت: 2015-05-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان