بند کریں
اتوار جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاک چائنہ اکنامک کوریڈور
پاکستان کی اقتصادی شہ رگ۔۔۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ سی پیک صرف 46 ارب ڈالر کا پیکیج نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کاآئینہ دار ہے اور چینی قیادت کی پاکستان کیساتھ مخلصانہ محبت اور ایثار کا بین ثبوت ہے۔ چینی قیادت نے یہ عظیم تحفہ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے دیا ہے
محمد عمران اسلم
چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور ہماری خوشحالی اور ترقی کا ضامن ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور چین کی قیادت اورعوام کا پاکستان کیلئے ایک ایسا عظیم اور شاندار تحفہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ سی پیک پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کا عکاس ہے۔ 46ارب ڈالر کے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج میں صرف 36ارب روپے کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں کی جاری ہے۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے نیشنل گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ سی پیک صرف 46 ارب ڈالر کا پیکیج نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کاآئینہ دار ہے اور چینی قیادت کی پاکستان کیساتھ مخلصانہ محبت اور ایثار کا بین ثبوت ہے۔ چینی قیادت نے یہ عظیم تحفہ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے دیا ہے۔ 2017-18 ء تک سی پیک کے منصوبوں سے 6سے 7ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی جس سے توانائی بحران میں کمی آئے گی۔

لیکن کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض عناصر اسے گوادر پورٹ سے جوڑنے اور اس بارے میں غلط فہمیاں اور افواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ایسے عناصرکو یہ بات ذہین میں رکھنی چاہیے گوادر پورٹ کی اپنی اہمیت ہے اور یہ منصوبہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات پر مبنی ہے جبکہ سی پیک، چینی قیادت عوام اورحکومت کا پاکستان کے عوام کیلئے بے مثال تحفہ ہے۔
سی پیک کے حقیقی ڈئزاین میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے تاہم چین اورتمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور ہم چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ترقی کرسکتے ہیں۔ آئندہ برس فروری میں پنجاب سے 300 طلباء و طالبات کو چینی زبان سکھانے کیلئے چین بھجوایا جائے گااوراس دوسالہ کورس کرنیوالے طلباء و طالبات کے تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کریگی۔
چینی زبان سیکھانے کیلئے طلباء و طالبات کو چین بھجوانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ چین میں چینی زبان سیکھنے کیلئے جانیوالے طلباء و طالبات پر پنجاب حکومت 70کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اوریہ رقم اخراجات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل پر سود مند سرمایہ کاری ہے۔ چین جانیوالے طلبا و طالبات کے انتخاب کاتمام عمل شفاف طریقے سے میرٹ پرکیا جائیگا۔
پاکستان کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں با اختیار بناکرملک و قوم کی حالت بدلی جاسکتی ہے۔پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی اورانہیں بااختیار بنانے کیلئے سکل ڈویلپمنٹ کا شا ندار پروگرام شروع کررکھا ہے جسکے تحت بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پاکستان کے تاریخی اور معتبر ترین تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی، لاہور میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی اورپاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے بارے میں حکومت کے موقف کو کامیابی سے پیش کیا۔
کانفرنس میں وزراء، ملکی و غیر ملکی مندوبین، پروفیسرز، اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ جی سی یونیورسٹی میں دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دلائل اور حقائق کے ذریعے پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کی افادیت کو ثابت کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے جان لڑادینگے اوراسکی اس طرح حفاظت کرینگے جس طرح ماں اپنے بچوں کی کرتی ہے، سی پیک کا بچہ جب بڑا ہوگا تو وہ سب سے کامیاب اورطاقتور بچہ بن کر سامنے آئیگا۔
سی پیک کے تحت پنجاب سمیت پاکستان بھر میں توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر منصوبوں پر کام کا ا?غاز ہو چکا ہے، ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلے گی۔ وزیراعلیٰ نے پاک چائینہ کوریڈورکی تکمیل کے بارے میں اپنے عزم صمیم کا بھرپور اظہار کیا۔
جی سی یونیورسٹی میں تقریب کے دوران سینٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر خالد منظور بٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سنٹر آف ایکسیلنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
انہوں نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی۔ ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا اور اس منصوبے سے پاکستان کے مشرق وسطیٰ، یورپ، افریقہ کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات میں وسعت آئیگی۔ وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسن عامر شاہ نے سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے قیام میں وزیراعلیٰ کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹر حقیقی تھنک ٹینک میں بدلے گا۔
سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر اکرم شیخ نے اپنے کلیدی خطاب میں سی پیک کے خدوخال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اورنوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے پنجاب میں ووکیشنل ٹریننگ میں لیڈ لی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریکٹیکل آدمی ہیں جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سی پیک اورپاک چین تعلقات بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر اکرم شیخ کو سونیئر دیا جبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ کو سونیئر پیش کیا۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کا قیام خوش آئند ہے اور یہ شعبہ پاکستانی طلباء کو چینی زبان سے آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے ادارے پنجاب کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بنائے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی زبان سیکھ سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان