بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اورنج لائن میٹروٹرین
کیا یہ ”ٹریفک جام“ ختم کردے گی
لاہور مین زیر تکمیل اورنج لائن میٹروٹرین کامنصوبہ ایک بار پھر ملک بھر میں موضوع بحث بناہوا ہے۔ اس سے قبل لاہور میٹروبس کامنصوبہ بھی ملکی منظر نامے پر چھاپا رہااور اس پرتنقیدوتعریف کا سلسلہ ملک بھرمیں جاری رہا یہاں تک ک ہ یہ منصوبہ خبروں سے نکل کرکالم، تجزیے اور ٹاک شوسے ہوتا ہوا دی چوک کے دھرنے تک جاپہنچا۔ کوئی اسے جنگلا بس کہتا رہا، کوئی اپنے دورحکومت کامنصوبہ قرار دیتا رہا وزیراعلیٰ پنجاب نے البتہ تمام ترتنقید کے باوجود ان میٹرومنصوبوں کوجاری رکھنے کافیصلہ کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ابتداء میں میٹرومنصوبوں کے تین روٹ تھے اور لاہور کے تین بڑے راستوں پر میٹرو ٹریک بنایاجاناتھا۔ اس منصوبے کاپہلا ٹریک توشاہدرہ سے گجومتہ تک کامیابی سے بن گیاجس پر میٹروبس سروس جاری ہے ،دوسرا ٹریک اور اورنج لائن میٹروٹرین کاتھا جبکہ تیسرے ٹریک کے بارے میں ذرائع کاکہنا ہے کہ بعض وجوہات کی بناپراسے محدود کردیا گیا ہے۔

اورنج لائن میٹروٹرین کے مجوزہ ٹریک پر اکثر جگہ تعمیراتی سامان اور بھاری مشنری پہنچائی جاچکی ہے جبکہ کھدائی کی جگہ کوبھی عوام کیلئے بند کردیاگیا ہے۔ اس منصوبہ کی ضرورت ، اہمیت یانقصانات کاجائزہ لینے سے قبل اس بات کابھی جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس منصوبے کے روٹ، لاگت اور سرمایہ کاری کاکیا تخمینہ لگایاگیا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق اس منصوبے پرلاگت کا تخمینہ ایک کھرب 65ارب روپے ہے تاہم اس کے مزید بڑھنے کے امکانات موجودہیں۔
اورنج ٹرین کے ٹریک کی کل لمبائی27.1کلومیٹر ہے۔ اس حوالے سے اعتراضات کیے جارہے ہیں اور اس منصوبے پرتنقید کرنے والوں کاایک بڑا اعتراض یہی ہے کہ ایک کھرب65ارب روپے محض27کلومیٹر کے علاقے میں لگادیے گئے ہیں۔ اس ٹرین کانہ تومکمل ٹریک میٹروبس لاہور کی طرح زمین کے اوپر ہے اور نہ ہی یہ مکمل طور پر زیر زمین ٹرین ہے۔ اس کی بجائے ضرورت کے مطابق کہیں یہ ٹریک زیرزمین ہے اور کہیں یہ زمین سے بلند ہے۔
اس بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 27.1کلومیٹر طویل اس ٹریک کا25.4 کلومیٹر حصہ زمین سے 6میٹر بلندی پر تعمیر کیاجائے گا جبکہ 1.7کلومیٹر حصہ زیرزمین ہوگا اور یہ ٹریک علی ٹاؤن سے ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روذ، کینال ویو، ہنجروال،و حدت روڈ، اعوان ٹاؤن، سبزہ زار شاہ نور اسٹوڈیو، بندروڈ، سمن آباد، گلشن راوی، چوبرجی، لیک روڈ، جی پی او، لکشمی، میکلوڈروڈ، ریلوے اسٹیشن، سلطان پورہ، یوای ٹی، باغبانپورہ، شالامار باغ، پاکستان منٹ، محمودبوٹی، سلامت پورہ، اسلام پارک سے ہوتا ہو ڈیرہ گجراں تک تعمیر کیاجائے گا، یادرہے کہ منصوبے میں دکھائے گئے بعض علاقوں کے ناموں سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ جیسے میٹروٹرین اس علاقے کے لوگوں کی براہ راست رسائی میں ہوگی جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
ان علاقوں کے رہائشی افراد کولنک روڈ کے ذریعے میٹروٹرین تک پہنچاہوگا۔ مثال کے طور پر اگر وحدت روڈسے مرادوحدت کالونی اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقے لئے جائیں تو میٹروٹرین ان علاقوں سے نہیں گزرے گی البتہ یہ ملتان روڈ پر وحدت روڈ کی طرف جانے والے راستے یاسٹاپ سے ضرور گزرے گی۔
اورنج لائن میٹروٹرین کیلئے تمام ترسرمایہ کاری، ڈیزائننگ، تعمیر اور نگرانی چینی حکومت کرے گی۔
یادرہے کہ اس منصوبے کوحتمی شکل بھی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دورہ چین کے دوران دی گئی تھی۔ اسی طرح یہ بھی کہا جارہاہے کہ مکمل طور پر چینی حکومت کی نگرانی میں ہونے کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل بھی چینی معیار کے مطابق کی جائے گی۔ اگرواقعی ایسا ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ اس میں کرپشن کے امکانات کم ہوگئے ہیں اور یہ منصوبہ چینی حکومت کی روایت کے مطابق بروقت مکمل ہو سکتا ہے۔
اس ٹرین کی افادیت کااندازہ لگاتے ہوئے کہا جارہاہے کہ ٹرین سروس کے آغاز میں ہی روزانہ تقریباََ اڑھائی لاکھ مسافر اس سے مستفید ہوں گے اور بعدازاں یہ تعداد5لاکھ افراد یومیہ تک بڑھ جائے گی۔
اورنج لائن میٹروٹرین پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ محض ایک منصوبے پر اتنی بڑی رقم خرچ کر دینا درست نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے فی زمانہ تعلیم، صحت، روزگار سمیت دیگر اہم مسائل کی بجائے میٹروبس اور میٹروٹرین کی جانب جانا درست فیصلہ نہیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ تویہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ ہم بھوک اور ننگ توختم نہیں کرپائے لیکن میٹروبنا رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر منصوبہ کسی ایک علاقے کیلئے بھی بنایا جاتا ہے اور ایک تعمیراتی منصوبہ مکمل ہونے پر دوسری جگہ کا منصوبہ شروع ہوتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مثال کے طور پر لاہور کی آبادی دوکروڑ سے زائد ہے۔ لاہور کے گردونواح میں بھی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز بنتی جارہی ہیں اور صوبائی دارالحکومت پھیلتا چلاجارہاہے۔ اسی طرح حالیہ چند برسوں میں نجی گاڑیوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ہردوسرے گھر میں گاڑی نظر آتی ہے تو پوش علاقوں میں ایک ہی گھرمیں ہرفرد کے پاس اپنی اپنی گاڑی بھی ہے۔
نجی ٹریفک کایہ ہجوم اپنی سڑکوں پر امڈآتا ہے جوایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے ایسے شہر کیلئے بنائی گئی تھیں جہاں یاتو پبلک ٹرانسپورٹ ذریعہ سفر تھی یا سائیکل اور موٹر سائیکلوں ہر سفر کرنے کارجحان تھا۔ میٹروبس کے بننے سے قبل لاہور کی اہم شاہراہوں مال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ اور ملتان روڈ پر اکثر ٹریفک جام رہتا تھا اسلئے یہ ضروری تھا کہ اس مسئلہ سے نجات حاصل کی جائے۔
ترقی یافتہ ممالک میں اس مسئلہ کے حل کے کئی طریقے ہیں، وہاں پبلک ٹرانسپورٹ انڈر پاسز اور ایک ہی جگہ پرتہہ درتہہ پلوں کے ذریعے اس مسئلہ سے نجات حاصل کی گئی ہے۔ لندن کی زیرزمین ٹرین سے لے کر تیز رفتار بلٹ ٹرین تک ترقی یافتہ ممالک کاایک بھرپور سفر ہمارے سامنے ہے۔ اس لئے یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کے تمام شہروں میں انڈرپاسز، پل اور دیگر ایسے ذرائع ضروری ہیں جوٹریفک جام کے مسئلہ کوحل کرسکیں یہاں تو ایمبولینس کے ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی ٹریفک جام کی وجہ سے سڑک پر ہی مریضوں کی وفات اور بچوں کی پیدائش کے لاتعداد واقعات ریکارڈ پر آچکے ہیں لہٰذا یہ طے ہے کہ سڑکوں کوکشادگی نجی گاڑیوں کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی ، انڈرپاسز اورپل ہماری اہم ضروری ہیں۔
البتہ ان کے طریقہ کاراور منصوبوں پر بحث ممکن ہے اگر حکومتی دعوؤں کے مطابق میٹروٹروین کیلئے تمام سرمایہ چین فراہم کررہاہے اور اس سے واقعی قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑرہا اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ دوسری جانب اورنج لائن میٹروٹرین کے حوالے سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ دیگر منصوبوں کیلئے مختص رقم اب اس پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جس طرح میٹروبس عوام کیلئے سہولیات کاباعث بنے گی اسی طرح تعلیم ، صحت اور دیگر شعبہ جات کی ترقی بھی بہت ضروری ہے۔ ویسے یہاں ایسی خبروں کی صداقت پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ کیونکہ اگر میٹروٹرین کے منصوبے پر چین سرمایہ کاری کررہاہے تو اس پردیگرشعبوں کی رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
میٹروٹرین کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کے ٹریک کے راستے میں تاریخی حیثیت کی حامل عمارتیں بھی آرہی ہیں۔
مثال کے طور پر بتایا جارہاہے کہ میٹروٹریک کی زد میں چوبرجی کے چار برج والی عمارت اور جی پی او کی عمارت بھی آرہی ہے۔ تاریخی عمارتیں کسی بھی ملک کی ثقافت اور تاریخ کااہم حصہ ہوتی ہیں۔ انہیں محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ میٹروٹرین کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تاریخی نوعیت کی عمارتوں اوع ماحولیات کے مسائل کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر صورت ایسی تاریخی عمارات اور پرانے درختوں کی حفاظت کویقینی بنایا جائے۔
میٹروٹرین کے منصوبے کے ساتھ ہی ایک اہم مسئلہ یہ بھی اٹھ کھڑاہوا ہے کہ اس کی زد میں آنے والی نجی املاک کاکیا ہوگا؟ جن لوگوں کی املاک اس ٹریک کے راستے میں ہیں ان میں اس حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل میٹروبس منصوبت کی زدمین بھی بے شمار نجی املاک آئیں جن کے مالکان کو معاوضہ ادا کیا گیا لیکن سچ یہ ہے کہ لوگ اس مطمٴن نہیں ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ان منصوبوں کوبرانہیں کہا جاسکتا البتہ ان کی منصوبہ بندی فزیبلسٹی رپورٹس وغیرہ پر ضروربحث کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکثر سرکاری منصوبے مکمل ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لاگت فزیبلٹی رپورٹ سے کافی بڑھ چکی ہے۔ اس میں یقینا ایک بڑا فیکٹر ایسے منصوبوں میں ہونے والی تاخیر بھی ہے۔ ہمارے ہاں عدالتوں کی مددسے اسٹے آرڈر لینے کارواج بھی عروج پر ہے۔ جب تک کیس کافیصلہ ہوتب تک لاگت بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی منصوبہ بندی کی ضروری ہے۔ ایسے منصوبوں کاغیر جانبدار آڈٹ ہونا بھی ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-20

(0) ووٹ وصول ہوئے