بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نابینا موٹر مکینک
اُس نے معذوری کو مجبوری نہیں بنایا
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی معذوری کے شکار افراد کو معاشرے پر بوجھ قرار دے کر اُن کو انتہائی بے دردی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی صلاحیت سے محروم ہے تو اس میں اُس کا کیا قصور ہے ؟ یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ وہ جِسے جیسا چاہے بنادیتا ہے ۔ خدا معذور افراد کو بھی بہت سی غیر معمولی صلاحیتوں ست نوازتا ہے ایسے ہی خصوصی افراد میں کراچی سے تعلق رکھنے والا نابینا شخص محمد آصف بھی شامل ہے جو موٹر گاڑیوں کا مکینک ہے اور لسبیلہ میں اپنی ورکشاپ چلا رہا ہے ۔
44سالہ آصف پٹیل گاڑیوں کا نقص معلوم کرکے گاڑی ٹھیک کرنے کا ماہر ہے ۔
محمد آصف کا کہنا ہے کہ بچپن میں اُس کے والد اُس کے لئے جو بھی کھلونے لے کر آتے تھے وہ اُن کو کھول کر اُن کے پرزے الگ الگ کر دیتا تھا اور بعد ازاں کھولے ہوئے پُرزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ کھلونے کو اُس کی اصل حالت میں واپس لاتا تھا ۔ یہ اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اُسے گھر والوں سے شاباش بھی ملتی تھی جس سے اُس کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔
آصف کاکہنا ہے کہ وہ پندرہ سال کی عمر میں ایک ورکشاپ پر کام کرنے کی غرض سے جانے لگا شروع میں اسے کلچ پلیٹ کھولنے کے لئے دی گئی یہ اُس کا متحان تھا جو ورکشاپ پر اُس کے اُستاد نے اُس سے لیا ۔ جب اُس نے کلچ پلیٹ کھول دی تو ورکشاپ والوں کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ اس طرح اُسے ورکشاپ پر کام ملنے لگا ۔ اُس کے بعد اُسے گئیر بکس کاکام دیا جانے لگا ۔
اُس کاکہنا ہے کہااُس نے اپنے ذہن میں گئیر کاخاکہ بنایا اور گاڑی کے نیچے لیٹ کر صرف پندرہ منٹ کے اندر گئیر نکال دیا ۔ اس طرح ورکشاپ والوں کا اُس پر اعتماد بڑھتاگیا ۔ آصف پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اُسے چھونے کی غیرمعمولی قوت دی ہوئی ہے وہ چیزوں کو چھو کر اندازہ لگالیتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے ؟
کس قدر حیران کن بات ہے کہ آصف بچپن سے ہی اپنی اس خداداد صلاحیت سے واقف تھا اور اُسے کھلونوں کے بارے میں بہت زیادہ تجسس رہتا تھا کہ یہ کس طرح بنائے گئے ہیں ۔
اس لئے وہ اُن کو کھول کر الگ کرتا تھا اور بعد میں اُن کو دوبارہ جوڑ کر ان کی اصلی شکل میں واپس لے آتا تھا ۔ وہ بچپن میں کھلونوں پر تجربے کرکے اس کام میں کافی مہارت حاصل کرچکا تھا ۔ اس لئے تو اُس نے ورکشاپ والوں کو کلچ پلیٹ بالکل درست انداز میں کھول کر دکھا دی اور وہ اُس کے اس عمل پر حیران وپریشان ہو گئے ۔ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آصف کی عمر کا کوئی دوسرا بچہ جو کسی بھی جسمانی معذوری میں مبتلانہ ہو وہ اس قد کامیابی کے ساتھ کھلونے کو الگ کرنے کے بعد دوبارہ اُسی حالت میں جوڑ نہیں سکتا ۔
کیونکہ یہ انتہائی حساس نوعیت کاکام ہے کہ ایک نابینا شخص کس طرح سے گاڑیاں ٹھیک کرنے والا مکینک بن گیا اور کوئی شخص بنا دیکھے کسے پرزوں کوکھول کر گاڑیاں ٹھیک کر دیتا ہے ۔
نابینا موٹر مکینک محمد آصف پر لوگوں کا اعتماد قائم ہوچکا ہے اور وہ اُس پر بھروسہ کرکے اپنی گاڑیاں اُس سے ٹھیک کرواتے ہیں ۔ آصف نے ثابت کیا ہے کہ انسان میں محنت اور لگن ہواور اگر وہ وکوئی کام کرنے کی ٹھان لے تو پھر اُس کی جسمانی معذوری اور نابینا پن بھی اُس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے ۔
معاشرے کے افراد کو چاہئے کہ وہ جسمانی لحاظ سے کسی بھی صلاحیت سے محروم افراد کو حقیر جان کر اُن کی دل آزاری نہ کریں بلکہ اُن کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے میں اُن کی مدد کریں ۔ اُ ن کو ایسے کام سکھائے جائیں جن کو کرنے میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ حکومت کو ان افراد کو سرکاری اداروں میں ملازمتیں دینی چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ اُن کو خصوصی مہارتیں سکھانے کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-19

(0) ووٹ وصول ہوئے