بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
میانمار․․․ایشیاء کااسرائیل
یہاں بسنے والے روہنگیاانصاف کے متلاشی ہیں
سلیمان رحیم:
میانمارکے سیاسی اُفق پراڑھائی دہائیوں کی طویل آمریت کے بعد جمہوری عمل کاآغاز ہوچکاہے اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت 80فیصدپارلیمانی نشستیں جیت کردوتہائی اکثریت حاصل کرچکی ہے مگرروہنگیاکے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ ہنوزلایخل ہے۔آنگ سان سوچی نے اپنی انتخابی مہم میں اس مسئلے کوحل کرنے کی طرف کسی قسم کااشارہ نہیں دیا۔
یوں دکھائی دیتاہے کہ میانمارکی فوجی حکومت نے روہنگیامسلمانوں کودبانے کافن اسرائیلوں سے سیکھا تھا۔آئندہ بھی اس پولیسی کے جاری رہنے کاامکان ہے کیونکہ آنگ سان سوچی نے بھی اس پر کوئی موثر کرداراداکرنے کاوعدہ نہیں کیا۔ ماضی میں جنوبی افریقہ کی فوجی آمریت نے بھی اسرائیل کی نسلی امتیاز کی پالیسی کے تحت سیاہ فام اقلیت کوئی دہائیوں تک دبائے رکھا۔
دونوں میں کئی معاملات پر گہری ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔اس دور کی جنوبی افریقہ کی علیحدگی پسندحکومت کے ساتھ اسرائیلوں نے انتہائی قربت کے ساتھ کام کیاتھا۔ اس میں حیرانی والی کوئی بات نہیں ہے کہ جنوبی افریقہ کی نسلی پرست حکومت اور اسرائیل حکومت کے درمیان کئی مشترکہ چیزیں پائی گئی تھیں مگرمیانماراسرائیل گٹھ جوڑشایدہی کبھی زیربحث آیا۔
سیاسی تجزیہ کارجیوفری مین نے ٹیبلو لائیڈ میں چھپنے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اسرائیل کے قیام کے ابتدائی دنوں میں اس کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے برماکادورہ کیاتھا۔ اعلیٰ اسرائیلی رہنماؤں بشمول سائمن پیرس موشے دیان،اضحاق بن زیوی،ڈیوڈبن گیوربن اور گولڈامائیربرماکے دورے پر آئے۔میانمارکی فوجی حکومت اس بات پرقائل تھی کہ”اسرائیل کی طرح کاسوشل اور اکنامک سسٹم اس کیلئے مددگار ہو سکتا ہے۔
یہ سچائی اس بات میں پنہاں ہے کہ دونوں ممالک کااپنی اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک رہاہے۔ ایکسوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کے اصلی باشندوں کی نسلی بنیادوں پر صفائی کی گئی فلسطینی کے اصل باشندوں پر زمین تنگ کرکے دنیا بھرکے یہودی کواسرائیل لاکرآبادکیاگیااور ان کاتاریخی اعتبار سے اسرائیل سے تعلق حقائق کے تحت فلسطینی ہی اس کے اصلی باشندے ہیں۔
میانمارکی فوجی جنتانے بھی اس قسم کی روش اختیارکی ۔1962ء میں میانمار(تب برما) میں فوجی بغاوت کے ذریعے فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا۔تب دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون ختم کردیاگیا حالانکہ یہ محض ایک میتھ تھی۔نئے آمرکواپنے پیشروکے مقابلے میں اسرائیل میں کم دلچسپی تھی حالانکہ دونوں میں فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کبھی بھی ختم نہیں ہوا۔
میانمارکے تازہ جمہوری انتخابات خوش کن ہیں۔نومبر کے آغاز میں ہونیوالے پارلیمانی انتخابات کوفیئراور شفاف قرار دیا گیا ہے حالانکہ ملک بھرمیں مسلمانوں کونہ صرف انتخابات میں حصہ لینے سے روکاگیا بلکہ کئی اہم شہروں میں ان کی نامزدگیاں مسترد کردی گئیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر بھی کسی سیاست جماعت نے لب کشائی نہیں کی۔آنگ سان سوچی جماعت بھی مہربلب رہی۔
میانمارکی سیاست میں ایک طرف روہنگیا مسلمانوں کے کردارکوتسلیم نہیں کیاگیاتو دوسری جانب بدھا کی قوت میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہواہے۔اس نے غیر مسلح روہنگیا مسلمانوں کیخلاف نسل کشی کوفروغ دینا شروع کررکھاہے۔یہ انتخابی نتائج ہزاروں افراد کی ہلاکت،کئی گاؤں کے جلاؤ اور روہنگیا مسلموں کے کیمپوں میں نسلی بنیاد پر صفائی کاباعث بنے۔
ہزاروں روہنگیا کوبدترین حالات میں نقل مکانی پرمجبور ہونا پڑا۔ان بے ریاست مظلوم روہنگیا مسلموں کودنیا بھر میں کوئی بھی ملک پناہ دینے کیلئے تیار نہیں۔روہنگیامسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے بجائے انہیں کریمنل قراردیاگیا۔یوں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی ان کے حق میں نمایاں آواز نہیں اٹھائی گئی۔ نیشنل لیگ فارڈیموکریسی کی آنگ سان سوچی کی قیادت میں میانمار کے منظرنامے میں تبدیلی آچکی ہے۔جمہوریت کی داعی سوچی رہنماکا میانمارکی سیاست پر اثرورسوخ ہے۔ روہنگیا اور دیگر ستم رسیدہ اقلیتوں بشمول عیسائیوں کے حقوق کے دفاع میں انہوں نے زبان بندکررکھی ہے۔ تازہ انتخابات نے روہنگیا مسلمانوں کومزید بے اثر اور تنہاکردیاہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-19

(0) ووٹ وصول ہوئے