بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملک حالت جنگ میں
یمن میں لگی آگ سے بچنے کی ضرورت۔۔۔۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں وز یر دفاع نے بتایا ہے کہ یمن میں خانہ جنگی کی صورتحال اور سعودی عرب فوج بھجوانے کے حوالے سے حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ عوامی خواہشات کے مطابق ہوگا
نواز رضا:
بالآخر پاکستان تحریک انصاف جوڈیشل کمشن کے قیام کی ا?ڑ میں7ماہ بعد پارلیمنٹ میں واپس آگئی ہے لیکن اسے پارلیمنٹ میں واپسی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو پارلیمنٹ کو’ صبح شام ’ جعلی “ ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں اور ان کے ارکان کو استعفے ٰ دینے کے باوجود پارلیمنٹ میں آ بیٹھنے پر ” ہزیمت“ کا سامنا کرنا پڑا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی واپسی سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا‘ کانوں پڑے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا مسلم لیگی ارکان نے ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘ لوٹ کے گھر کوئی آئی پی ٹی آئی‘ یوٹرن لے کر آئی‘ پی ٹی آئی اور شرم کروڈوب مرو کے نعروں سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا اس تقبال کیا۔
ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے ارکان نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی پر” شیم شیم “کے نعرے لگا کر سواگت کیا ‘ عمران خان جو اپنے سیاسی مخالفین کی پگڑی اچھالنے میں شہرت رکھتے ہیں انہیں اپنی سیاسی زندگی میں پہلی بار پارلیمنٹ میں اس قدر ہزیمت اٹھانا پڑی کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب بھی نہ دے سکے خواجہ آصف نے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت پارلیمنٹ کو جعلی قرا دینے پر عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا وفاقی حکومت نے مشر ق وسطیٰ کے بحران پر غور کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایاتوعمران خان جب اپنی جماعت کے ارکان کے ہمراہ ایوان میں آئے تو انہیں غیر متوقع طور پر مسلم لیگ(ن) ،جمعیت علما ء اسلام (ف) اور ایم کیو ایم کی جانب سے ”غیر دوستانہ“ سلوک کا سامنا کرنا پڑا ایسا دکھائی دیتا ہے پاکستان مسلم لیگ(ن) نے پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی ’‘’عزت افزائی “ کا پروگرام بنا رکھا تھا خواجہ آصف نے اپنے ”مخصوص انداز “میں جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کو ”غیرت اورحمیت “ کا احساس دلاتے رہے ،پاکستان تحریک انصاف کے کسی رکن نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر ان سے متعلق اٹھائے گئے ”سوالات“ کا جواب دینے کی جراء ت نہیں کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو قومی اسمبلی کے مسلم لیگی ارکان ڈاکٹر طارق فضل ،دانیال عزیز اور عمر فاروق کی قیادت میں خواتین ارکان پارلیمنٹ نے آسمان سر پر اٹھا لیا اگرچہ حکومت نے پارلیمنٹ کا اجلاس یمن کی صورت حال پر بحث کے لئے طلب کیا گیا تھا لیکن حکومتی اتحاد اور ایم کیو ایم کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف نعرے بازی کر کے ”سیاست “ کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی البتہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کو اس کے ایجنڈے کے مطابق چلانے کے لئے قدرے سخت گیر ی کی عمران خان جو ڈی چوک میں ”کنٹینر “پر کھڑے ہو وزیر اعظم محمد نواز شریف سمیت ہر سیاسی مخالف کو للکارتے تھے پیر ان کی سیاسی زندگی میں بھاری دن تھا ان کو وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہاتھوں جو ہزیمت اٹھانا پڑی وہ اسے سالہا سال بھلا نہیں پائیں گے عمران زخم خوردہ حالت میں خواجہ آصف کے” طنز و تشنیع “ کو برداشت کرتے رہے ایوان میں عمران خان کی” بے بسی“ دیکھی نہیں جا تی تھی اگر وہ اپنی نشست پر کھڑے ہو کر استعفے دینے کی تصدیق کردیتے کہ انہوں نے استعفے دئیے ہیں تو وہ رکنیت سے محروم ہو سکتے تھے لہذا انہوں نے ایوان میں مصلحتاً خاموشی اختیار کر لی عمران خان جو خوشی خوشی پارلیمنٹ آئے تھے پشیمانی کے عالم میں واپس گئے اور مسلم لیگ(ن) کو اخلاقیات کا درس دیتے رہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سوال اٹھایا کیا خواجہ آصف میاں نواز شریف کی اجازت سے بولے ہیں انہوں مجھے ذلیل نہیں کیا اپنی اوقات بتائی ہے ایسی زبان تو ”تلنگا“ بھی استعمال نہیں کرتا پیپلز پارٹی کے سوا کسی جماعت نے پاکستان تحریک انصاف پر حملوں کا دفاع نہیں کیا البتہ سید خورشید شاہ اور چوہدری اعتزاز احسن ”ڈھال بنے رہے جب کہ چوہدری اعتزاز احسن نے تو خواجہ آصف کے طرز کلام کو پورس کے ہاتھی سے تعبیر کیا عمران خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایک بار پھر پارلیمنٹ کو ”جعلی“ ہونے کا طعنہ دیا تو خواجہ آصف ان پر ایسے حملہ آور ہوئے ”الاماں الاماں “ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی دوسری نشست میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی آمد پر مسلم لیگی ارکان نے ”عمران دیکھو کون آیا، شیر آیا، شیر آیا کے نعرے لگا کر ان کا منہ چڑھایا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جن کے بارے کچھ دنوں سے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے اختلافات کی خبریں گشت کر رہی ہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کے ساتھ نشست پر خاموشی سے بیٹھے رہے لیکن ان کی وزیر اعظم سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی چوہدری نثار علی خان ایک محتاط شخصیت ہیں وہ پارٹی امور پر کوئی بات نہیں کرتے لیکن یہ بات خاص طور نوٹ کی گئی ہے چوہدری نثار علی خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ارکان کی توجہ کا مرکز بنے رہے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی پہلی نشست کا وقفہ ہوا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو گھیر لیا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ارکان میں کس حد تک وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کے ”مبینہ اختلافات “ تشویش پائی جاتی ہے ہے جب وفاقی و زیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایوان پہنچے تووفاقی و زراء پرویز رشید اور برجیس طاہر اور متعدد ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا اسی طرح جب سپیکر نے اجلاس ملتوی کیا تو 20 منٹ تک پچاس سے زائد ارکان نے ایوان میں ان کو گھیرے رکھا اپوزیشن کے متعدد ارکان نے بھی وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سری سینا کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے ایوان میں موجود نہ تھے لیکن اپوزیشن نے دباؤ ڈال کر وزیر اعظم محمد نواز شریف کو شام کے اجلاس میں ایوان میں آنے پر مجبور کر دیا اس کے لئے سپیکر کو 4گھنٹے تک اجلاس ملتوی کرنا پڑا گا پارلیمنٹ کے اجلاس میں وز یر دفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا ہے کہ یمن میں خانہ جنگی کی صورتحال اور سعودی عرب فوج بھجوانے کے حوالے سے حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ عوامی خواہشات کے مطابق ہوگا‘ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے کی صورت میں سخت ردعمل دینگے‘ سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کے تحفظ کا وعدہ ہر صورت پورا کرینگے‘ سعودی عرب نے اپنے تحفظ کے لئے زمینی فوج لڑاکا طیارے اور بحری جہاز مانگے ہیں ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ” پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور کسی دوسرے ملک میں جاکر پرائی جنگ کا حصہ بننے کی گنجائش نہیں ، یمن کی صورتحال پر پاکستان کو ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے “۔
اپوزیشن جماعتوں کا غیر معمولی اجلاس بھی سید خورشید شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت اور پاکستان کی طرف سے یمن میں فوج بھیجنے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے حکومت پہلے اپنی پوزیشن واضح کرے اور سعودی عرب کے ساتھ طے ہونیوالے معاملات پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے پالیسی بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر واضح اور مبہم قرار دیا ہے۔ منگل کو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک با ر پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا دفاع کرے گا۔
حکومت نے اس حوالے سے فوجی قیادت سے بھی مشاورت کی ہے، دفتر خارجہ میں بھی اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوا اس پر من و عن عمل کیا جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ” ایران کو یمن کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے “ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ترکی کے صدر سعودی وزیر داخلہ اور ایرانی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ہمیں کچھ بتائیں گے اس کے بعد ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں یمن کی صور ت حال پر تیسرے روز بھی بحث جاری رہی بیشتر ارکان پارلیمنٹ نے یمن کی صورت حال پر اظہار خیا ل کیا ہے پارلیمنٹ میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو یمن کی جنگ میں نہیں کودنا چاہیے لیکن اگر سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے خطرات لاحق ہوں تو پاکستان کو سعودی عرب کی بھرپور امداد کرنی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی و یک جہتی کو کوئی خطرہ لا حق ہوا تو اس پر پاکستان کا شدید رد عمل کا اظہار کرے گا اب دیکھنا یہ ہے پارلیمنٹ یمن کی صورت حال کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے ،اس فیصلے کا آج یا کل اعلان ہو نا باقی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان