بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مولانا ظفر علی خان
بابائے قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دنوں میں فرمایا تھا اگر ہمیں مولانا ظفر علی خان جیسے چار مجاہد مل جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔
بابائے قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دنوں میں فرمایا تھا اگر ہمیں مولانا ظفر علی خان جیسے چار مجاہد مل جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔
مولانا ظفر علی خان ہنگامہ پرور سیاسی رہنما ، صاحب ِطرز انشاء پرداز ، بے باک صحافی، شعلہ بیان مقرر، بے مثل نقاد، اعلیٰ درجے کے مترجم اورقادرالکلام شاعر تھے۔
زبان وبیان ، فصاحت و بلاغت ،خطابت و صحافت ، بذلہ سنجی ، بدیہہ گوئی، شعلہ نوائی اور سخن گوئی کے حوالے سے اْن کی متذکرہ تمام صفات کا ایک عالم معترف تھا اور ہے۔ وہ ایک جامع الصفات شخصیت تھے۔ ظفرعلی خان، گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ کے سنگم پر واقع موضع کوٹ میرتھ(مہرتھ) میں 1874ء کو پیدا ہوئے۔ اْنھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیر آباد سے حاصل کی۔
اْن کے پھوپھا مولوی عبداللہ خان، مہندر سنگھ کالج پٹیالہ میں عربی کے پروفیسر تھے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد اپنے پھوپھا کے پاس پٹیالہ چلے گئے۔مہندر سنگھ کالج پٹیالہ سے اْنھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر تحصیل ِعلم کے لیے علی گڑھ چلے گئے، جہاں وہ سر سیّد احمد خان اورسیّد جمال الدین افغانی کے مذہبی اور سیاسی نظریات سے بہت متاثر ہوئے جب کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ بہت جلد علی گڑھ کے علمی و ادبی حلقوں میں مشہور ہو گئے۔
مولاناظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین احمد جب ملازمت سے سبکدوش ہوئے ،تو اْنھوں نے اپنے آبائی گاؤں کرم آباد سے ”زمیندار“ اخبار کی اشاعت کا آغاز کیا۔ آغاز میں یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا اور اس کا مقصد زمینداروں اور کسانوں کی فلاح و بہبود تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب ”زمیندار“ مولانا کی زیر ادارت آیا، تو اس نے انگریز کے خرمن اقتدار میں آگ لگا دی۔
مولانا نے ”زمیندار“ کی اشاعت لاہور سے شروع کی، تو لاہور سے شائع ہونے والے بڑے بڑے اْردو اخبارات کے چراغ ٹمٹمانے لگے اور ”زمیندار“ کی شہرت کا ستارہ آسمانِ صحافت پر جگمگانے لگا۔”زمیندار“ کو اْس وقت برعظیم پاک و ہند میں غیر معمولی شہرت ملی جب 1911ء میں اٹلی نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی اور طرابلس پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد جنگ ِبلقان چھڑ گئی ، مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند اخوت ِاسلامی کے جذبے سے تڑپ اْٹھے۔
مولانا ظفر علی خان نے ”زمیندار“ کے ذریعے اس سلسلے میں جو خدمات سرانجام دیں، وہ تاریخ کے چہرے پر آنکھوں کے مصداق بن چکیں۔ مولانا عبدالمجید سالک اس ضمن میں رقم طراز ہیں: ”زمیندار“ نے مسلمانانِ برصغیر کے سامنے رنگا رنگ نعمتوں کا ایک خوان چْن دیا اور مولانا ظفر علی خان نے اپنی پرْزور خطابت سے اخبارکو تقویت دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیاٹوٹ پڑی اور ہر طرف (زمیندار)اور اس کے مدیرکے کمالات کے غلغلہ بلند ہوگیا۔
طرابلس و بلقان کی لڑائیوں کی آگ مولانا ظفر علی خان کے دل میں بجلی بن کر گری، تو اْنھوں نے جرات اور مردانگی کا اظہار کرتے ہوئے ،ہندوستان میں سب سے پہلے انگریزی حکومت کے اقتدار کو چیلنج دے کر مسلمانوں کے دلوں میں حیاتِ اسلامی کی زبردست لہر دوڑا دی“۔ اس لہر نے ہمہ گیر انگریز دشمنی کی صورت اختیار کر لی ، سوائے مسلمانوں کے ایک مفاد پرست ، مختصر طبقے کے ،باقی سب عوام و خواص اس لہر میں بہنے لگے۔
مسلمانوں میں انگریز دشمنی کا یہ جذباتی طوفان دراصل ردِ عمل تھا، اْن بے پناہ مظالم اور مسلسل فریب کاریوں کا، جو گزشتہ دو صدیوں سے انگریز اسلامی ملکوں کے ساتھ کررہے تھے۔ مولانا ظفر علی خان کی عملی و ادبی زندگی کو ایک خاص رْخ پر ڈالنے میں مذکور واقعات کا بہت بڑا حصہ ہے۔ وہ نہ صرف ان سے متاثر ہوئے اور سرتاپا انگریز دشمنی کا پیکر بن گئے بل کہ اْنھوں نے اپنی زبان و قلم دونوں سے اسے بالخصوص پنجاب میں عام کیا اور لاہور کی فضا تو بالکل اسی رنگ میں رنگی گئی۔
”زمیندار“ ہر دَور کے ابتلا میں ثابت قدم رہا، حکومت نے 15مرتبہ اس کی ضمانتیں ضبط کیں ،جو ہمیشہ ادا کر دی گئیں اور ”زمیندار“ اعلیٰ صحافتی اقدار کے پیش نظر مسلمانانِ برعظیم پاک و ہند کی نمایندگی کرتا رہا۔ ”زمیندار“کی اس کامیابی کا راز مولانا کی حق گوئی و بے باکی کے علاوہ یہ بھی تھا کہ اْن کے عملے میں ہمیشہ لائق ترین، صحافی ، ادیب اور شعرا شامل رہے، مثلاً :مولانا وجاہت حسین جھنجانوی، مولوی عبداللہ عمادی، وحید الدین سلیم، چراغ حسن حسرت،عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، نیاز فتح پوری، حفیظ جالندھری، مرتضیٰ احمد، کان مکیش اور حاجی لق لق اس اخبارکے جھومر تھے۔
1934ء میں جب حکومت نے ” زمیندار“ پر پابندی عائدکر دی، تو مولانا ظفر علی خان ،جوبے پناہ جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے ،اْنھوں نے حکومت پر مقدمہ کردیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن اْنھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی ، جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں: یہ کل عرش اعظم سے تار آ گیا ”زمیندار“ ہو گا نہ تا حشر بند تری قدرت کاملہ کا یقین مجھے میرے پروردگار آ گیا مولانا ظفر علی خان اخبار کی کتابت، طباعت اور عبارت کی طرف خاص توجہ دیتے تھے۔
چراغ حسن حسرت کے بقول”اصل میں مولانا کو اخبار کی زبان اور کتابت کی صحت کا بڑا خیال رہتا تھا۔ کاتبوں کی جان الگ آفت میں، ایڈیٹر مصیبت میں مبتلا، جب تک مولانا دفتر میں ہیں دفتر عملی صحافت کا منہ بولتا ثبوت بن جاتا تھا۔ جونہی کاپی پر مولانا کی نظر پڑی شور مچ گیا۔ ارے! یہ کیا کر دیا؟ یہ عبارت تو بالکل مہمل ہے۔اس مراسل کی تصحیح نہیں ہوئی یونہی کاتب کو دے دیا گیا ہے خبروں کی عبارت چست نہیں کتابت کی غلطیاں تو دیکھوایک ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی ہوئی ہے؟ کوئی دائرہ بھی تو صحیح نہیں غضب خدا کا قرآن کی آیت غلط لکھ دی اتنا خیال نہ آیا کہ کلامِ الٰہی ہے ستیاناس کر دیااخبار کاان تمام کاپیوں کو جلا دو۔
ازسرنو اخبار مرتب کروکیا کہا :اب اخبار مرتب نہیں ہو سکتا اعلان کر دو کہ کل اخبار نہیں نکلے گابلاؤ !اختر کو اختر اختر اختر کہاں ہے، اختر؟قاضی بند کرو، جی اخبارکو ، بند کردو، میں یوں اخبار نہیں نکالنا چاہتا“۔ مولانا ظفر علی خان، صحافت ، خطابت اور شاعری کے علاوہ ترجمے میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ حیدر آباد میں قیام کے دوران مولانا نے ”لارڈ کرزن“ کے انگریزی سفرنامہ ایران کا ترجمہ ”خیابانِ فارس“ کے نام سے شائع کیا، تو پنجاب یونی ورسٹی نے آپ کو پانچ صد روپے انعام دیا۔
”لارڈ کرزن“ نے سونے کے دستے والی چھڑی آپ کو پیش کی۔ اس کے علاوہ مولانا ظفر علی خان کے تراجم میں: فسان لندن، سیر ِظلمات اور معرک مذہب و سائنس بہت معروف ہوئے۔ اْنھوں نے ایک ڈراما ”جنگ روس و جاپان“بھی لکھاجب کہ شہر آفاق تخلیقات میں ”جسیات“ اور” بہارستان“نظموں کے مجموعے ہیں،بہارستان کے تین حصے ہیں : ”خیالستان“، ”چمنستان“ اور ”نگارستان“۔
مولاناظفر علی خاں کا اْسلوب منفرد تھا اوراْن کی تحریریں نثری ہو یا شعری دونوں ہی ملّی اْمنگوں کی ترجمان ہیں۔ علاوہ ازیں عشق رسول ان کا سرمای حیات تھا۔ ان کی نعتیں اس جذبے کی بھر پور ترجمان ہیں۔چند اشعار پیش ِ خدمت ہیں: دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھی تو ہو ہم جس میں بس رہے ہیں وہ د نیا تمھی تو ہو اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب صبحِ ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں اک روز جھلکنے والی تھی سب دْنیا کے درباروں میں جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں ہوتا ہے جن میں نامِ رسولِ خدا بلند ان محفلوں کا مجھ کو نمایندہ کر دیا سردار دوجہاں کا بنا کر مجھے غلام میرا بھی نام تابہ ابد زندہ کر دیا ترکی کی امداد کے لیے سرمایہ اکٹھا کر نے کیلئے 30 نومبر 1912ء کو باغ بیرون موچی گیٹ میں ایک جلسہ عام ہوا، جس میں علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم ”جواب شکوہ “ پڑھی۔
اشرف عطا لکھتے ہیں : ” علامہ اقبال کے نظم پڑھنے سے قبل مولانا ظفرعلی خاں نے کہا : ہم لوگ بھی نظمیں کہتے ہیں مگر ڈاکٹراقبال کی اور ہی بات ہے۔ وہ کبھی کبھی نظم کہتے ہیں، مگر اس میں جبرائیل کی پرواز کا رنگ ہوتا ہے “۔ 1912ء میں ہی مولاناظفر علی خان نے ایک نظم کہی، جس کا ایک شعر یہ ہے : حاسدان تیرہ باطن کو جلانے کے لیے تجھ میں اے پنجاب اقبال و ظفر پیدا ہوئے 1920ء میں جب انجمن حمایت اسلام کے حالات ٹھیک نہ رہے تو مولانا ظفر علی خاں اور دیگر اصحاب کی خواہش پر علامہ اقبال کو اس کا سیکریٹری چن لیا گیا۔
اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لئے مولانا نے نظم ”حمایت اسلام لاہور “ لکھی ،اس نظم کے چند اشعار درج ذیل ہیں : پھر یک بیک ہوا گئی پنجاب کی پلٹ گردش میں آخر آ ہی گیا چرغ جبری رجعت پسند ہو گئے ملت کے سنگ راہ اسلام کی اْجڑ گئی کھیتی ہری بھری اِس وقت ہم کو کوئی سلیمان چاہیے باطل اگر ہے دیو تو ہے انجمن پری اے قوم مثردہ ہو کہ سلیماں بھی آ گیا باطل ہوا اجنہ کا دعوائے خود سری وقت آ گیا کہ ہو علم اسلام کا بلند اقبال اِس انجمن کے بنے ہیں سیکریٹری یہ بات قا بل ذکر ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا، جس نے اْردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔
پنجابی کا اصل رسم الخط گورمکھی کو مسلمانوں نے اس لیے نہیں اپنایا کہ یہ سکھ مذہب سے جڑا ہوا تھا۔ اس طرح اْردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریبا ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ پنجاب کے دانشوروں ، لکھاریوں ، شاعروں اور صحافیوں نے ، جن میں سر فہرست علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان تھے ، اْردو کی زلف گرہ گیر کو محبت اور توجہ سے اس طرح سنوارا کہ وہ صوبے کی لاڈلی زبان بن گئی۔
دلّی اور لکھنو کے بعد پنجاب(لاہور) نے اْردو کی ترقی و ترویج میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔مولانا ظفر علی خان کی ساری زندگی انگریز سامراج سے قلمی جہاد کرتے ہوئے گزر گئی۔ اوسطاً ان کو زندگی کے ہر تیسرے روز پابند سلاسل ہونا پڑا۔ ان کی صحت قابلِ رشک تھی، لیکن پاکستان بننے کے دو سال بعد ان پر ضعف کا اعصابی حملہ ہوااور آخر کار 27نومبر 1956ء کو دن کے گیارہ بجے ،وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-28

(0) ووٹ وصول ہوئے