بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماہ مبارک میں ٹوپیوں اور تسبیحات کی فروخت عروج پر
رمضان المبارک میں اسلامی کتابوں ‘قرآن مجید‘ تسبیحات‘عطر‘جائے نماز‘مسواک اور ٹوپیوں کا کاروبار زور پکڑ لیتا ہے۔رمضان المبارک کے اس ماہ میں تمام لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں جس کے باعث قرآن مجید ایک بڑی مقدار میں فروخت ہوتے ہیں
ربیعہ شاہد
رمضان المبارک میں اسلامی کتابوں ‘قرآن مجید‘ تسبیحات‘عطر‘جائے نماز‘مسواک اور ٹوپیوں کا کاروبار زور پکڑ لیتا ہے۔رمضان المبارک کے اس ماہ میں تمام لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں جس کے باعث قرآن مجید ایک بڑی مقدار میں فروخت ہوتے ہیں۔اس حوالے سے نوائے وقت نے داتا دربار کے قریب ایک دکان کے مالک ”سلطان احمد عطاری“ سے بات چیت کی جو قارئین کی نذر ہے۔

سلطان احمد عطاری کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ان اشیاء کی خرید و فروخت عام روٹین سے ڈبل ہو جاتی ہے۔عام دنوں میں جو لوگ ان اشیاء کے پاس بھی نہیں جاتے تھے رمضان المبارک میں وہ بھی یہ چیزیں خریدتے ہیں۔رمضان المبارک کے پاک مہینے میں داتا دربار آئے ہوئے لوگ یہاں سے کم از کم ایک نہ ایک چیز ضرور لے کر جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لوگ رمضان المبارک میں اسلامی کتابیں بہت حد تک خریدتے ہیں۔
ان میں زیادہ تر رمضان اور اس کے فضائل سے متعلق‘عبادات اور نعتیہ کلام قابل ذکر ہیں۔یہ کتابیں زیادہ تر وہ لوگ لے کر جاتے ہیں جو فارغ ہوں جیسا کہ بوڑھے افراد جو گھر میں ہی اپنے آستانے میں رہتے ہیں اور آرام سے ان کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان میں تراویح کے لیے بہت سے لوگ ٹوپیاں خریدتے ہیں۔زیادہ تر جالی والی ٹوپیاں خریدی جاتی ہیں کیونکہ گرمی کا موسم ہے اور لوگ پتلے کپڑوں کے ساتھ ساتھ جالی دار ٹوپیوں کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
بڑے بوڑھے کیا آج کل تو بچے بھی کسی سے کم نہیں۔بچے زیادہ شوق سے ٹوپیاں خریدتے ہیں کہ انہیں تراویح پڑھنے جانا ہے۔
کچھ ٹوپیاں کراچی سے بھی آتی ہیں جو سندھی طرز کی ہوتی ہیں۔لاہور میں جتنے بھی سندھی بھائی ہیں وہ ان سندھی ٹوپیوں کو خریدنا پسند کرتے ہیں۔کیونکہ وہ ان کی ثقافت کے مطابق ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے پرانے زمانے میں کاؤنٹر تسبیح نہیں ہوتی آجکل لوگ زیادہ تر کاؤنٹر تسبیح کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
کیونکہ کاؤنٹر تسبیح آج کل کے اس مصروف ترین دور میں زیادہ کار آمد ثابت ہوئی ہے۔دانوں والی تسبیح تو لوگ گھروں میں‘دفتروں میں یا کسی ایسی جگہ جہاں پر چلتے پھرتے یا ایک ہی جگہ بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے لیکن کاؤنٹر تسبیح لوگوں کو اس لیے آسان لگتی ہے کیونکہ وہ کہیں بھی کسی بھی حالت میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
قرآن پاک اور سورہ یسین بھی ایک بہت بڑی تعداد میں فروحت ہوتے ہیں۔
اکثر لوگ قرآن مجید لے کر غریبوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ مستحق لوگوں کو بطور تحفہ دے کر ان کی مدد کرتے ہیں۔اکثر لوگ ان قرآن مجید کو مدرسوں اور مسجدوں میں ان بچوں کے لیے رکھوا دیتے ہیں جنہوں نے قرآن پاک حفظ کیا ہو یا کر رہے ہوں۔مسجدوں میں لوگ ثواب دارین کے حصول کے لیے بہت سے قرآن پاک تراویح کے لیے بھی رکھوا دیتے ہیں۔
رمضان المبارک میں مسواک بھی زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔
مسواک کی اقسام میں زیتون اور پیلو کی مسواک قابل ذکر ہیں۔اسی طرح امامے بھی کافی فروخت ہوتے ہیں جیسے قادری بھورے رنگ کے امامے پہنتے ہیں‘داراسلامی والے سبز پہنتے ہیں‘کوئی کالا پہنتا ہے تو کوئی سفید پہنتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جائے نماز بھی بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔کچھ لوگ ثواب کمانے کے لیے مسجدوں میں رکھوا دیتے ہیں۔

جائے نماز کی خرید و فروخت اس وقت بھی زیادہ ہوتی ہے جب لوگ عمرہ کر کے واپس آتے ہیں۔وہ لوگ وہاں سے تو جائے نماز لے کر آتے ہیں لیکن اگر ان کو وہ جائے نماز کم پڑ جائیں تو وہ یہیں سے لے کر بانٹ دیتے ہیں۔بہت سے لوگ چمکیلی بھڑکیلی جائے نماز لینے کی بجائے سادی جائے نماز لینا پسند کرتے ہیں۔چمکیلی بھڑکیلی جائے نماز زیادہ تر خواتین جہیز میں دینے کے لیے خریدتی ہیں۔

سرمے بھی رمضان المبارک میں بہت حد تک بک جاتے ہیں۔یہ سرمے زیادہ تر مدینہ شریف کے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ لطیف سرمہ بھی خاصہ مشہور ہے۔خواتین اسے زیادہ خریدتی ہیں۔ سرمے آنکھوں کی بینائی ٹھیک کرنے کے لیے بھی کافی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ان تمام اشیاء کے علاوہ بہت سے عطر بھی ہوتے ہیں جنہیں لوگ سنت سمجھ کر لیتے ہیں۔ان عطروں میں غلا ف کعبہ ‘چیری‘ گلاب‘چمبیلی‘رومانس‘ڈنہل ڈیزائر‘سحرائے مدینہ ‘جنت الفردوس ‘موتیا‘گل لالہ‘سلطان اعظم‘حجر اسود وغیرہ شامل ہیں۔

ان کے علاوہ کچھ بہت اچھی قسم کے عطر بھی ہیں مثلا دانہ‘باغ حرم‘انڈین دربار ‘مسک الہند‘دین العود ‘حنا‘العود وغیرہ قابل ذکر ہیں۔یہ عطر 250قسم کے ہوتے ہیں۔کچھ لوگ مختلف کمپنیوں سے دے جاتے ہیں کچھ شاہ عالمی سے لا کر دیتے ہیں۔جو بہت اچھا عطر ہے وہ کراچی سے ہمارے پاس آتا ہے۔
اکثر لوگ عطر لگا کر نماز تراویح پڑھنے جاتے ہیں کہ یہ بڑے ثواب کا کام ہے۔
عطر کی خوشبو خاصی گہری ہوتی ہے جو تین یا چار بار کپڑا دھلنے پر جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک عطر جس کا نام جنت الفردوس ہے اسے لگا کر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم جنت کی خوشبو سونگھ رہے ہیں۔ یہ خوشبو دل و دماغ میں بس جانے والی خوشبو ہے۔
لوگ زیادہ تر یہ عطر رمضان المبارک میں یا خاص طور پر عام دنوں میں سے جمعے کے دن لگاتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ جمعے والے دن عطر لگانا سنت ہے۔کچھ لوگ سنت سمجھ کر لگاتے ہیں تو کچھ صرف تیز خوشبو کے لیے اسے لگانا پسند کرتے ہیں۔عطر کی خوشبو کچھ لوگوں کو بالکل نہیں بھاتی ۔ ان کے سروں کو چڑھتی ہے۔
اس کے علاوہ نعلین پاک بھی رمضان المبارک میں ملتا ہے لیکن اس کی مانگ ربیع الاول میں زیادہ ہوتی ہے۔رمضان المبارک میں بازاروں میں میٹھی پھلیاں‘پتاشے اور چھوہاروں کی بھی مانگ زیادہ ہو جاتی ہے۔
زیادہ تر بچے اپنے ماں باپ سے ان اشیاء کی خرید و فروخت کی فرمائش کرتے ہیں۔
کچھ لوگ جو داتا دربار آتے ہیں وہ اپنی ٹوپیاں اور تسبیحات گھروں میں ہی بھول جاتے ہیں ایسے میں وہ ان دکانوں سے ٹوپی تسبیح لینا پسند کرتے ہیں۔زیادہ تر مولوی حضرات ٹوپیوں اور تسبیحات کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
دین محبت کا نام ہے۔جس کے ساتھ وابستگی ہو اس کے حوالے سے چیزوں سے بھی رغبت ہوتی ہے۔
اللہ کے ساتھ قربت کے لیے انسان جن جن تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے۔ان کے حصول کے لیے تردد بھی کرتا ہے۔انسان خدا کے حضور حاضری کے میدان میں پرفضا اہتمام ماہ رمضان میں کرتا ہے۔وہی عام ایام میں بھی لازم ہے۔ضرورت اس امر کی ہے۔جس شدت سے ہم ماہ رمضان کے پاک لمحات کو خوبصورت بناتے ہیں۔ساراسال اسی مشق پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان