بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
معرکہ6ستمبر 1965ء
جب فوج اور قوم دشمن پر مل کر ٹوٹ پڑے۔۔۔۔۔ پاک فوج کے کارنامے آج بھی قوم کیلئے قابل فخر ہیں
حافظ زاہد عارف
یوم دفاع ہر سال چھ ستمبر کوان شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے بھارت کے شب خون مارنے پر ارض وطن کادفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردی تھیں۔بھارت نے کشمیر سے جنگ کا آغاز کیا تھا اور جب پاکستان نے منہ توڑجواب دیا تو مکاردشمن نے تمام محاذوں پر جنگ چھیڑی دی۔ یوم دفاع پاکستان ہمیں اس جذبے کی بھی یاددلاتا ہے جب جب ضرورت پڑنے پر ہماری فوج اور قوم ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن گئی اوراتحاد اتفاق جیسی قوت سے اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے دشمن کے حملے کو ناکام بنا کر اس کی فوج کا لاہور جم خانہ کلب میں جشن فتح منانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔
اس جنگ میں جرات وشجاعت کے ساتھ جذبہ حب الوطنی قومی یکجہتی اور ایثارو قربانی کی جوداستانیں رقم ہوئیں وہ تاریخ کاحصہ ہیں۔
پاکستانی قوم کو مسلح افواج کے جانباز جوانوں کے جذبہ جب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ہمیشہ سے فخر رہاہے۔جب کبھی ارض پاکستان پر کوئی ناگہانی آفت آئی یا کسی نے پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا یاللکار اتو پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ غیور عوام کے ساتھ مل کر سرحدوں کی پاسبانی اور گرانی کے ایسے کارنامے انجام دئیے جو تاریخ کے اور اق میں زندہ جاویدہیں گے۔
پاکستانی تاریخ میں لڑی گئی تمام جنگوں میں پاکستان کے جواں ہمت بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ارض پاک کادفاع کیا اور دشمن کوناکوں چنے چبوائے اور شہداء اور غازی بن کر تاریخ کے اور اق میں سنہری حروف کے ساتھ اپنانام رقم کر گئے۔ستمبر 1965ء کی جنگ کے شہیدوں اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہر سال یوم دفاع منایا جاتا ہے اس لئے کہ ایک اندھیری رات میں دشمن نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارض پاک پراپنے ناپاک ارادوں سے حملہ کردیاتھا لیکن جو ملک اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا ہو اس کو رہتی دنیا تک کوئی مٹانہیں سکتا۔
یہ بات ہمارا دشمن سمجھنے سے قاصر تھا۔مشکل کی اس گھڑی میں مسلح افواج نے قوم کی توقعات سے بڑھ چڑھ کرہمت وقربانی ‘ بے مثال جرات اور بہادری کے عملی نمونے پیش کئے۔اس موقع پر افواج پاکستان اور عوام نے جذبہ جہاد سے سرشارہو کر جارح دشمن کو اس کی جارحیت کامزہ چکھا دیا۔
یہ ایک مسئلہ حقیقت ہے کہ قوم کے جذبہ ایمان ‘ کردار ہمت اور خلوص کا امتحان ہمیشہ جنگ ہوا کرتا ہے اور ستمبر کی یہ جنگ اس کی زندہ مثال ہے جس میں پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے ثابت کردیا کہ ان کا دل اللہ عزوجل ‘ اسکے حبیب پاک اور دین کی محبت سے آیا اور وطن کی آزادی وحرمت پر مرمٹنے کے جذبے سے سرشار ہے۔
یہی وہ سرمایہ تھا جس کے بل بوتے پر اس نے اپنے سے تعداد اور اسلحہ میں کئی گنا بڑی طاقت کے سارے خواب بکھیر دئیے اور سارے منصوبے اور غرورخاک میں ملادیئے۔افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے ستمبر1965ء میں دفاع وطن کے دوران فرض سے لگن کی انمول مثالیں قائم کیں۔یوم دفاع ان جری جوانوں کی قربانیوں کو یاد کرنے اور ان کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔
پاکستان کے جری سپوتوں نے اس مٹی کیلئے اپنے خون کا ندرانہ پیش کرکے دشمن کو باور کروایا کہ وسائل کی کمی بھرپور جذبے اور عزم سے پوری کی جاسکتی ہے۔
بھارتی فوج کے جرنیل اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اتنے مخمور اور اپنی کامیابی کے حصول میں اتنے پر امید کہ وہ لاہور کے جمخانہ کلب میں اپنے ناشتہ کرنے کا وقت بھی متعین کرچکے تھے۔پاک فضائیہ کے جہازلاہور کا ساؤنڈ بیرئیر توڑ کر اہل لاہور کو دشمن کے حملے سے الرٹ کرتے ہیں تودوسری جانب اس وقت کے صدر مملکت اور پاک فوج کے سربراہ جنرل محمدایوب خان جب اپنی ریڈیو تفریر میں قوم کو مخاطب کرکے یہ کہتے ہیں کہ”دشمن کو بتادو کہ اس نے کس قوم کوللکاراہے“ تاپاکستان کے ہرشہری کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔
افواج پاکستان کے افسراور جوانوں کو توکبھی کسی تقریر کا انتظار بھی نہیں ہوتا کہ یہ قوم کے وہ جانثار ہیں جو ہر لحظہ اور ہر آن وطن کی سا لمیت کیلئے مرمٹنے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔جذبوں کو لفظوں اور حرنوں کے استعمال سے نہیں جانچاجاتا بلکہ قوم کے سپوتوں کی عملی کارگردگی اس کے پیچھے یہاں جذبوں کی غمازی کرتی ہے۔بی آربی نہرپر جس طرح میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدراور میجر شفقت بلوچ ستارہ جرات اور پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دشمن کانہ صرف ڈٹ کرمقابلہ کیا بلکہ دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور قصورکے محاذپر ہمارے فوجی جوان ان کاپیچھا کرتے ہوئے کھیم کرن تک پہنچ گئے۔

6ستمبر کا دن ہمیں ہرسال دفاع پاکستان کی یاددلاتا ہے اور ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنے شیردل مجاہدوں‘ عالی ہمت غازیوں اور شہیدوں کے کارناموں اور قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں۔ انہوں نے اپنے مقدس خون سے جس زمین کی آبیاری کی ہے اس مقصد کو پیش نظررکھیں۔پاکستان کی علاقائی اور نظریاتی سیالمیت کا دفاع کریں اور اتحاد ‘بھائی چارے اور نظم وضبط کاقابل تقلید نقشہ پیش کریں اور دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں چاہے فوج ہویا عوام سب یک جان ہوکرملک کی سالمیت کیلئے ہر وقت کوشاں رہیں اور اس کو دنیا میں ایک اعلیٰ ورافع مقام دلانے میں اپنی کوشش کریں تاکہ ہماراملک اس دنیا کے نقشے پر ایک مستحکم‘فعال اور ناقابل تسخیر قوت بن کرابھرے۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اس مکار دشمن بھارت کے جنگی جنون کی اب بھی کوئی انتہا نظر آتی ۔وہ اس بات وقت بھی امریکہ کے علاوہ فرانس ‘ برطانیہ‘ جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کرچکاہے۔اسرئیل کے ساتھ تو اسکی باقاعدہ دفاعی شراکت داری ہے جبکہ نیٹوبھی بھارت کو میزائل ڈیفنس ٹیکنانجی فراہم کرنے کی پیشکش کرچکا ہے جس سے پاکستان کی سیاست کو لاحق خطرات مزید گھبیرہوسکتے ہیں۔
یقینا ہنودویہود اور نصاریٰ پر مبنی عالمی طاغوتی طاقتوں کے طے شدہ ایجنڈے کے تحت بھارت کو اس خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس لئے جس مکاردشمن نے شروع دن سے پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے طور پر قبول نہیں کیا وہ اپنے جنگی جنون کو موقع ملتے ہی ہم پر ہی آزمائے گا۔مسئلہ کشمیر بھی اسی مجرمانہ ذہنیت اور گندے چانکیائی ذہن کی پیداوار ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان