بند کریں
جمعہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور …سود خوروں کے نرغے میں
سود خوری ایسی معاشرتی برائی اور قبیح فعل ہے۔جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔مگر وطن عزیز میں سود خور مافیا لوگوں کو لالچ دے کر اور سبز باغ دکھا کر شہریوں پر اپناشکنجہ کس رہا ہے اور لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے
احسان شوکت
سود خوری ایسی معاشرتی برائی اور قبیح فعل ہے۔جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔مگر وطن عزیز میں سود خور مافیا لوگوں کو لالچ دے کر اور سبز باغ دکھا کر شہریوں پر اپناشکنجہ کس رہا ہے اور لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔سود خور مافیا نے قرضوں کے علاوہ اقساط پر الیکٹرنکس سامان، سونا گروی رکھ کر قرضہ دینے اورکمیٹیوں کی آڑ میں شہر میں اپنے قدم جمالئے ہیں اورضرورت مند شہریوں کی مجبوریوں سے فائدہ اتھاتے ہوئے ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
انتہائی افسو سناک صورتحال یہ ہے کہ مجبور لوگ اپنی ضرورتوں کے علاوہ بیٹیوں کی شادی پر جہیز اور کھانے کے لئے رقم کے بندوبست کے علاوہ فوتیگی پر خرچے اور مختلف تہواروں پر بھی مجبوراََ سود خور مافیا کا خصوصی نشانہ بنتے ہیں اورچند گھنٹوں و دنوں کی خوشیاں اور جھوٹی شان و شوکت کی خاطر اپنی زندگی اجیرن کرلیتے ہیں۔ شہرمیں اچھرہ ،گڑھی شاہو،مغلپورہ، باغبانپورہ ،تاج پورہ،ٹاوٴن شپ،گرین ٹاوٴن ، کوٹ لکھپت ،فیکٹری ایریا،نشترکالونی،اقبال ٹاوٴن،ہنجروال ،اندرون شہرسمیت دیگر علاقوں میں سود کا کاروبار کرنے والے افراد پولیس کی ملی بھگت سے سرعام سودخوری کامکروہ دھندہ کر رہے ہیں۔
اچھرہ میں سنار کی دکان کی آڑ میں سونے کے زیورات گروی رکھ کر سود پر رقم دینے غیر قانونی کا روبار زورو شو ر سے جاری ہے جبکہ شہر کے پسماندہ علاقوں میں اقساط پر الیکٹرونکس سامان فروخت کرنے کی آڑ میں سودکا کاروبار کرنے والی کھمبیوں کی شکل میں اُگ آئے ہیں۔اس کے علاوہ متوسط اور پوش علاقوں میں کمیٹیوں کی آڑ میں سود کا کارروبار جاری ہے۔ذرائع کے مطابق سود خور مافیا مقامی پولیس سے مک مکاکر کے اور ان کو حصہ دے کرا پنا کاروبارجاری رکھے ہوئے ہے۔
شہریوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اور انہیں بدمعاشی و حراساں کر کے زبردستی و گارنٹی چیک وصول کر کے منہ مانگی رقم زبردستی وصول کی جاتی ہے۔سود خور مافیا لوگوں کو قرض دے کر ان سے بطور امانت لئے گئے طلائی زیورات،چیک و دیگر اشیاء ساری رقم قسطوں کی صورت میں وصول کرنے کے باوجود لوگوں کو واپس نہیں کرتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
سود خور مافیا نے مجبور و بے بس لوگوں سے کئی گنا ذیادہ رقوم بٹورنے کے لئے بدمعاش پالنے کے علاوہ غنڈہ عناصر کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔جو قرض دار کے گھروں میں دھاوابول دیتے ہیں اور زبردستی منہ مانگی رقم نکلوا کر ہی شریف شہریوں کی جان بخشتے ہیں۔سود خور مافیا کی جانب سے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گالم گلوچ و انسانیت کی تذلیل کے واقعات معمول بن چکے ہیں جبکہ پولیس بھی اس صورتحال میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہی ہے اور اپنا حصہ وصول کر کے چپ سادھے ہو ئے ہے۔
سود خوروں کے خلاف شکایات لے کر آنے ولاے سائلین کو بھگا دیا جاتا ہے اور ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی ہے۔جس پر متاثرہ شہری سر پیٹ کر رہ جاتا ہے اور اس کی سود خور مافیا کو اصل رقم سے کئی گنا زیادہ رقم بطور سود اداکر کے جان خلاصی کراناپڑتی ہے اور وہ اسی میں عافیت سمجھتاہے۔ اس صورتحال پر شہری حلقوں کی جانب سے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے کہ سودخور مجبور لوگوں کو لالچ دے کر لوٹ رہے ہیں۔
سود خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تمام ڈویڑنل ایس پیز کواپنے علاقوں میں سودخوروں کی فہرستیں بنانے اور ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ سود خوروں کی فہرستیں مکمل کر کے شہر میں موجود تما م سود خوروں کے خلاف گرینڈ کریک ڈاوٴن کریں گے اور شہریوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔اقبال ٹاوٴن پولیس نے سود کا کاروبار کرنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاوٴن کرتے ہوئے 4ملزمان کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ملزمان میں نعیم عرف کمانڈو ،عالی محمد ناصر خان، کاظم رضا اور فضل شاہ شامل ہیں۔جن میں ملزم نعیم عرف کمانڈو شہریوں سے سونا و دیگر اشیاء اپنے پاس رکھ کر، عالی محمد ناصر خان انسٹالمنٹ کی دوکان کی آڑ میں،کاظم رضا سنار کی دکان کی آڑ میں زیورات گروی رکھ کر جبکہ فضل شاہ انسٹالمنٹ کے کاروبارکے نام پر لوگوں کو قرض دے کر ان سے امانت کے طور پر طلائی زیورات و دیگر اشیاء بطور امانت رکھ لیتے اور جب قرض دار اپنی ساری رقم قسطوں کی صورت میں ان سود خوروں کو ادا کر دیتا تو ملزمان قرض کی تمام رقم وصول کرنے کے باوجود لوگوں کے زیورات و دیگر اشیاء ان کو واپس نہ کرتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے کہ ابھی تو آپ نے صرف سود کی رقم ادا کی ہے جبکہ اصل قرض کی رقم تو باقی ہے۔
ملزمان کی جانب سے شہریوں سے کئی گنا ذیادہ رقم زبردستی وصول کی جارہی تھی۔خصوصی پولیس ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اصل رقم سے سوگنا سود لینے کا انکشاف کیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے کہا ہے کہ سود خوروں کی فہرستیں مکمل کر کے شہر میں موجود تما م سود خوروں کیخلاف گرینڈ کریک ڈاوٴن کریں گے اور شہریوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔
سود حرام ہے اور اس لعنت کو ہمارے معاشرے سے ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہیے۔
غرض ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس و قانون نافذ کرنے والے ادارے سود کی لعنت پر قابو پانے اور مجبور شہریوں کی سود خورمافیا سے جان چھڑوانے کے لئے عملاََاقدامات کریں۔ سود خوروں کے خلاف کاغذی کارروائی کی بجائے ان کے خلاف حقیقی معنوں میں سخت کارروائی کی جائے اور شہر بھر میں کریک ڈاوٴن کرتے ہوئے بلاتخصیص ہر سود خورکو قانون کی گرفت میں لا کر سخت سے سخت سزاء دلوائی جائے،تاکہ ہمارامعاشرہ سود خوری جیسی برائی سے پاک ہو سکے اورمعصوم شہری اس مافیا کے ہاتھوں لٹنے سے بچ سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان