بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لاہور کے ماتھے کا جُھومر۔۔۔
ڈبل ڈیکر بس ٹورسٹ
پاکستان میں بھی ڈبل ڈیکر بسیں 50 سے لے کر 70 کی دہائی تک لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں چلتی رہیں۔ ہمارے بزرگ شہری ابھی تک ن اچھے دنوں کو یاد کرتے اور اپنے بچوں کو بتاتے ہیں۔لاہور میں لاہور اومنی بس سروس LOS کی ڈبل ڈیکر بسیں لوگوں کو ابھی تک نہیں بھولیں
ذوالفقارعلی:
چند ماہ قبل بنکاک جانے کاموقع ملا ۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک جسے سیاح لینڈ آف سمائل پکارتے ہیں میں ہم پاکستانیوں کے متاثر ہونے کا بہت سامان تھا۔ مثلاََ شہر کی مصروف شاہراہوں پر یہ منظر ہم نے بار ہا دیکھا کہ زیبرا کراسنگ کے سامنے کھڑے سڑک پار کرنے کے منتظر لوگوں کو دیکھ کر ٹریفک خود بخود رک جاتی تھی حالانکہ وہاں کسی قسم کا ٹریفک سگنل بھی نہ تھا۔
لیکن اس سے اگلا منظر ہم سب کے لیے زیادہ متاثرہ کن تھا اور وہ یہ تھا کہ سڑک کراس کرنے والے تمام مرد وخواتین مقامی انداز میں بار بار سر کو جھکاتے ہوئے یعنی شکریہ ادا کرتے ہوئے سڑک پار کرتے تھے ۔بنکاک شہر کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو یہاں پوری دنیا سے آئے ہوئے سیاحوں کا بے تہاشا رش تھا۔ سارے شہر میں چینی، یورپی، ایشیائی اور امریکی سیاح جوق درجوق آسودہ چہرے لیے گھوم پھر رہے تھے اوراپنی چھٹیوں کے لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
بنکاک شہر پر کسی کثیر قومی اجتماع گاہ کا گمان ہو رہا تھا۔ہم حیران تھے کہ ان سیاحوں کو کون سی کشش بنکاک کھینچ لائی ہے ۔ایک ہفتہ بعدہمیں اپنے سوال کا جواب مل گیا جو یہ تھا کہ تھائی حکومت نے سیاحت کو اپنی سب سے بڑی صنعت قراد دے کر سیاحوں کو ایسی شاندار سہولت فراہم کر رکھی ہیں کہ یہ شہر بے فکرے سیلانیوں کی جنت بن گیا ہے۔صبح ہوتے ہی ہوٹلوں سے ٹورسٹوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ برآمد ہوتے اور اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو اجاتے۔
قارئین یہ جان کر حیران ہو گے کہ دنیا میں سب سے پہلے بننے والی ڈبل ڈیکر بس کو 4 طاقتورتوانا گھوڑے کھینچتے تھے۔ فرانس میں دنیا کی یہ سب سے پہلی ڈبل ڈیکر بس 1853 بنی تھی۔ 1906 تک یورپ کے کئی شہروں میں گھوڑے ہی ڈبل ڈیکر کوکھینچ کر مسافروں کی آمدروفت میں مدد دیتے تھے۔ تاآنکہ فرانس میں ہی1906 میں شنائڈر نامی پہلی موٹر انجن والی ڈبل ڈیکر بنائی گئی۔
1925 میں لندن میں پہلی ڈبل ڈیکر بس چلی اور اس بس سروس نے اتنی ترقی کی کہ آج لندن جانے والے جب تک وہاں کی لال روٹ ماسٹر ڈبل ڈیکر کی سواری نہ کر لیں ان کا دورا ادھورہ رہتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے لاہور آکر شہر کی سیاحت کرنے والے اپنے دورے کو ادھورا محسوس کریں گے اگر وہ انار کلی نہ جائیں۔ آج لندن کی سرخ رنگ کی ڈبل ڈیکر بسیں انگلینڈ کا قومی نشان اور لندن کی پہنچان بن چکی ہیں۔
آپ یہ جان کر حیران ہو ں گے پاکستان کے اردگرد کے کئی ممالک میں ڈبل ڈیکر بسیں عرصے سے چل رہی ہیں۔ جنوبی ایشیائی ملکوں میں سری لنکا، بنگادیش، اور بھارت میں یہ بسیں عام ہیں جبکہ ملائشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، فلپائن، جاپان، چین اور ساونتھ کوریا میں لوگ بڑے شوق سے ان بسوں میں سفر کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ڈبل ڈیکر بسیں 50 سے لے کر 70 کی دہائی تک لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں چلتی رہیں۔
ہمارے بزرگ شہری ابھی تک ن اچھے دنوں کو یاد کرتے اور اپنے بچوں کو بتاتے ہیں۔لاہور میں لاہور اومنی بس سروس LOS کی ڈبل ڈیکر بسیں لوگوں کو ابھی تک نہیں بھولیں۔لیکن بھٹو دور کے خاتمے کا وقت آتے آتے ڈبل ڈیکرز بھی قصہ ماضی بن گئیں۔ پھر 27 برس کے بعد لاہور می مونولائٹ بس سروس کی طرف سے اگست 2003 میں ایک بار پھر ڈبل ڈیکر بسیں چلائی گئیں۔ یہ 12بسیں تھیں جن کا نیچے والا ڈیک صرف خواتین کیلئے مخصوص تھا اس بس میں کل 67 مسافروں کے لیے نشستیں تھی۔
جبکہ بس پر سفر کرنے کی مجموعی طور پر 107 افراد کی گنجائش تھی۔ لاہوریوں کے لیے ایک خوشگوار اور مزیدار سفرکا یہ دور مختصر اور عارضی ثابت ہوااور ایک ڈیڑھ سال میں طلبہ کے ہاتھوں توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر ڈبل ڈیکر بسوں کی یہ شاندار روایت تاریخ کا حصہ بن گئی۔ لاہوریوں کو موجودہ پنجاب حکومت کی وساطت سے اس سال نئی ڈبل ڈیکر سیاحتی بسون پر سفر کرنے کا ایک موقع مل رہا ہے اور یہ تحفہ اب پنجاب کے محکمہ ٹورازم کی وساطت سے شہریوں اور سیاحوں کو نصیب ہو رہا ہے ۔
یہ پاکستان کا سب سے پہلا سائٹ سینگ بس پراجیکٹ ہے۔سنگھائی کی چن ون کمیٹی سے 3کروڑ روپے لاگت کی 2ٹورسٹ ڈبل ڈیکر بسیں خریدلی گئی ہیں۔ آٹھ ایسی بسیں مزیدی منگوائی جا رہی ہیں ان بسوں میں 67 جبکہ لوئر ڈیک جوائرکنڈیشنڈ ہو گا پر 18مسافر سفر کر سکیں گے۔ ان دنوں ان بسوں کو چلانے والے ڈرائیور ٹریننگ اور روٹ پر یکٹس میں مصروف ہیں۔اس بس کے چلن سے لاہور شہر کے تاریخی ،مذہبی اور ثقافتی ورثے کو دیکھنے کیلئے آنے والے ملکی سیاحوں کو ایک دلکش ،پرکشش اور انتہائی آرام دہ سہولت میسر آجائے گی اوریہ اقدام شہر کی سیاحت کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر چلنے والی دونوں ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹ کا تعین کر لیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے بس کی روانگی کے مقام قذافی سٹیڈیم کے احاطے میں واقع فٹ بال سٹیڈیم کے باہر ایک باسہولت ٹرمینل بنایا گیا ہے اس ٹرمینل میں انفارمیشن ڈیسک ، ٹکٹ گھر، گائیڈ سروس، سونئیر شاپ، ریسٹ روم ، اے ٹی ایم، پارکنگ، لاہور کے نقشے ، وائی فائی کینٹین اور فرسٹ ایڈ سمیٹ تمام جدید اورضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔
ایسا ہی ایک ٹرمینل اندرون شہر میں واقع فوڈ سٹریٹ کے مقام پر فورٹ روڈ پرتعمیر کیا گیاہے ۔ سیاحوں کے لیے لذت کام و وہن کا اہتمام ڈبل ڈیکر ٹورسٹ بس کے روٹ کے ابتدائی اور اختتامی مقامات پر شہر کے روایتی کھانوں اور کھابوں کی صورت میں موجود ہے۔ یعنی قذافی سٹیڈیم کے اردگردموجود شہر کے بہترین کھانوں کی دکانیں اورفوڈ سٹریٹ فورٹ روڈ پر بھی طعام کا شاندار انتظام ہے اس انتظام کی اضافی خصوصیت بادشاہی مسجد، قلعہ اور مینار پاکستان جیسی تاریخی عمارتوں کے سنگم میں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کا وہ لطف بھی ہے جو سیاحوں کو فورٹ روڈ ٹرمینل پر میسر ہوگا۔
محکمہ ٹورازم ٹورسٹوں کے لیے پرکشش سامان ٹورسٹ رکشا جنہیں رنگیلا رکشا بھی کہتے ہیں اور رکشہ تانگہ کی صورت فراہم کر رہا ہے۔ اس موقع پر پروفیشنل ٹورسٹ گائیڈ بھی میسر ہوں گے۔ ٹورسٹ ڈبل ڈیکر بسوں کا بادردی سٹاف اور ڈرائیورز تعلیم یافتہ، مہذب اور تجربہ کار ہونے کے علاوہ مقرر کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کے بھی پابند ہوں گے۔ ان بسوں پر سفر کیلئے دس سال سے کم عمر ک بچوں اور بزرگ شہریوں کو مفت سفر کی سہولت دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کے بچے کارڈ دکھا کر محض 150 روپے جبکہ عام سیاحوں کے لیے کرایہ 300 روپے رکھنے کی تجویز پر غور کیا جار ہاہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان