بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغانستان،قندوز پر طالبان کا قبضہ
کیا الٹی گنتی شروع ہو گئی ؟۔۔۔ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی پیش قدمی کے حوالے سے متعدد جھوٹے بیان دیے تاہم وہ حقائق کو چھپانے میں کامیاب نہ ہوسکے جبکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ طالبان کی فتوحات کی خبریں نشر اور شائع کرتا رہا
مصنف : ذبیح اللہ بلگن
رواں سال کے ماہ جولائی میں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے حوالے سے جب انکشاف کیا تو بین الاقوامی دفاعی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ملا عمرکے انتقال کے بعد افغان طالبان مختلف دھڑوں میں منقسم ہو جائیں گے اور ان کی عسکری قوت میں کمی واقع ہوگی۔افغان طالبان کی جانب سے جب ملا عمر کی وفات کی تصدیق کر نے کے بعد ملا منصور اختر کو تحریک کا امیر منتخب کیا گیا تو یہ خیال اور بھی زیادہ مستحکم ہو گیا کہ اب افغان طالبان کا متحد رہنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے ۔
اگرچہ بعض طالبان رہنماؤں نے ابتدامیں ملا منصور اختر کو امیر بنائے جانے کے حوالے سے تعرض کیا تاہم افغان علماکی مداخلت سے یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو گیا ۔تاہم بعض طالبان رہنما ابھی بھی ملا منصور اختر کو امیر تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے موقف پرقائم ہیں کہ ملا منصور اختر کو امیر بنائے جانے کے حوالے سے انہیں مشورے میں شامل نہیں کیا گیا ۔
طالبان کی اندرونی کشمش ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی کہ ستمبرکے آخرے عشرے میں طالبان افغانستان کے شمال مشرق میں واقع اہم شہر قندوز پر حملہ کر کے اس پر قابض ہو گئے ۔ یہاں قابل زکر بات یہ ہے کہ قندوز وہ پہلا شہر تھا جس پر امریکہ نے ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سب سے پہلے قبضہ کیا تھا ۔طالبان کے اس حملے اور قبضے کے حوالے سے یہ سوال ابھر کے سامنے آیا ہے کہ کیا افغانستان میں الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے ؟۔
طالبان نے نہ صرف قندوز پر قبضہ کر لیا ہے بلکہ مقامی افراد نے انہیں خوش آمدید کہا ہے۔ عام شہریوں نے طالبان اہلکاروں کے ساتھ موبائل فون پر تصاویر بنا تے ہوئے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ انہیں افغان حکومت کے اثر رسوخ سے آزاد ہونے اور طالبان کے زیر تسلط آنے میں آسودگی محسوس ہوئی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 14 سال بعد میں قندوز پر طالبان کاقبضہ ہوناافغان حکومت کے لیے سب سے بڑا دھچکہ ہے تاہم طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج قندوز پر قبضے کو برقرار رکھنا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے قندوز پر طالبان قبضہ کے بعد کہا تھا کہ بہت جلد قندوز کو طالبان سے آزاد کروا لیا جائے گا جبکہ اس کے جواب میں طالبان کے امیر ملا منصور اختر کے جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ ”تم قندوز کو چھوڑو باقی افغانستان کی فکر کرو“۔ملا اختر کے حوالے سے قرار دیا جاتا ہے کہ وہ میڈیا کے استعمال کے نشیب و فراز سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ میڈیا کی افادیت اور طاقت پر یقین رکھتے ہوئے میڈیا کے بھر پوراستعمال کے حق میں ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ جماعتیں اپنے سربراہ کے مزاج پر ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ملا منصور جس طرح میڈیا کی افادیت اور اس کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں اسی طرح پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے قندوز پر قبضہ کے بعد مقامی افراد کے ساتھ موبائل فون پر سیلفی بنوا کر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا تاکہ طالبان کے سافٹ امیج کو سامنے لایا جا سکے ۔
ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ ملا منصور اختر کے پیش رو امیر ملا محمد عمر تصویر بنانے سے اجتناب کرتے تھے اور انہوں نے آخری دم تک اپنی تصویر نہیں بنوائی بلکہ وہ صحافی یا دیگر بعض افراد جو ملا عمر سے ملاقات کر چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میڈیا جس تصویر کو ملا عمر کی تصویر قرار دیتا ہے درحقیقت وہ ملا عمر کی تصویر نہیں ہے ۔ معروف صحافی حامد میر بھی اس بابت کہہ چکے ہیں کہ وہ تصویر جسے ملا محمد عمر کی تصویر قرار دیا جاتا ہے حقیقت میں ان کی نہیں ہے بلکہ ملا عمر حقیقت میں خوبصورت دراز قد اور بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔
قندوز پر قبضہ ہونے کے بعد جہاں کابل اور امریکہ کی نیندیں اڑ گئی ہیں وہیں یقینی طور پر داخلی سطح پر طالبان میں اتحاد و یگانگت کی فضا ہموار ہو گی اور وہ طالبان رہنما یا اہلکار جو ملا منصور اختر کو امیر تسلیم کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے تھے ممکن ہے وہ اب طالبان کی حالیہ فتوحات کی وجہ سے طالبان کے اتحاد کو ترجیح دیں اور ملا منصور اختر کو امیر تسلیم کر لیں ۔
یہاں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ طالبان نے پیش قدمی کا آغاز قندوز شہر سے ہی کیوں کیا؟۔دوئم طالبان نے اپنے مخصوص علاقوں سے باہر نکل کر جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیوں کیاہے؟۔ قندوز ہی کیوں؟ قندوز افغانستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور یہ عرصہ دراز سے ملک کے شمالی علاقوں کے لیے ذرائع آمدورفت کا ایک اہم مرکز ہے۔قندوز سڑکوں کے ذریعے جنوب میں کابل، مغرب میں مزار شریف اور شمال میں تاجکستان سے جڑا ہوا ہے۔
یہ شہر ہمیشہ سے طالبان کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سنہ 2001 سے پہلے یہ شمالی افغانستان میں طالبان کا اہم گڑھ تھا۔قندوز شمالی صوبوں تک رسائی کے لیے باب کی حیثیت رکھتا ہے اور افغانستان کے ہمسائے اور وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد بھی ملتی ہے۔تاجکستان کے ساتھ اس کی سرحد غیرمحفوظ ہے اور اسی راستے سے منشیات وسطی ایشیا کی ریاستوں میں سمگل کی جاتی ہیں جہاں سے انھیں آگے یورپ بھیجا جاتا ہے۔
جو کوئی بھی قندوز پر قابض ہوگا وہ نہ صرف آس پاس کے علاقوں کو کنٹرول کر سکے گا بلکہ خطے کے سمگلنگ کے ایک اہم راستے پر بھی اس کا کنٹرول ہوگا۔سنہ 2013 میں افغان فورسز کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی سنبھالنے سے قبل اس علاقے میں جرمن افواج تعینات تھیں۔قندوز کو بہت سے مشکلات کا سامنا تھا ان میں مقامی انتظامیہ کی نااہلی کے علاوہ بعض سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بھی صوبے کے عوام متنفر تھے۔
شہر پر قبضے کے لیے ایک عرصے سے طالبان کی جانب سے کوشش کی جا رہی تھی۔رواں سال مئی میں بھی قندوز پر قبضہ کیلئے طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہو ئی تھیں ۔ صوبے کے دیہی علاقے جہاں آبادی کی اکثریت آباد ہے وہاں پہلے ہی طالبان قابض ہیں۔طالبان گذشتہ دو برس میں صوبے میں اپنی جنگی مہم میں تیزی لائے ہیں۔قندوز شہر کی آبادی تقریبا تین لاکھ کے قریب ہے جس میں یقینا کمی ہوئی ہے کیونکہ رواں برس ہونے والی لڑائی کے بعد بہت سے لوگ یہاں سے منتقل ہو گئے تھے۔
اگرچہ سال کے اوائل میں ہونے والی لڑائی میں حکومتی افواج نے طالبان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ بڑی تعداد میں علاقے میں موجود تھے اور مبصرین کا خیال تھا کہ طالبان کی جانب سے شہر پر قبضے کے لیے کسی بھی وقت دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔ قندوز پر قبضے کی لڑائی مبصرین کی قیاس آرئیاں درست ثابت ہوئیں اور ستمبر کے آخری عشرے میں سینکڑوں طالبان جنگجوں نے سٹریٹیجک لحاظ سے اہم شہر قندوز پر کئی اطراف سے حملہ کر کے شہر کے نصف حصے پر قبضہ کر لیا۔
طالبان جنگجوؤں نے کچھ سرکاری عمارتوں پر بھی قبضہ کر لیااورشہر کے مرکزی علاقے میں اپنا پرچم لہرا دیا ۔ اسی طرح طالبان نے مقامی جیل پر حملہ کر کے پانچ سو کے قریب قیدیوں کو رہا کروالیا جن میں متعدد طالبان بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب شہر پر قبضے کو چھڑانے کیلئے اتحادی افواج اور افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ۔
اس دوران طالبان جنگجوں نے ایک فوجی چوٹی پر قبضہ کر لیا جس کے بعد شہر پر ان کا قبضہ مزید مضبوط ہو گیا۔افغان سکیورٹی فورسز نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی میں شدت پیدا کی جس میں اسے امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل رہی۔طالبان نے بالا حصار نامی قلعے کا اس وقت محاصرہ کر لیا تھا جب وہاں سینکڑوں افغان سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔
افغانستان کی سرکاری فوج ایئرپورٹ کی جانب بڑھنے والے طالبان جنگجوں کے خلاف منظم جوابی کارروائی کر تی رہی تاہم وہ طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔قندوز میں طالبان سے نبرد آزما افغان فوج کی مدد کے لیے نیٹو کی غیر ملکی افواج کے خصوصی دستے بھی شہر میں پہنچنا شروع ہو گئے ۔طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے مابین شدید لڑائی جاری تھی اس دوران افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی پیش قدمی کے حوالے سے متعدد جھوٹے بیان دیے تاہم وہ حقائق کو چھپانے میں کامیاب نہ ہوسکے جبکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ طالبان کی فتوحات کی خبریں نشر اور شائع کرتا رہا ۔
افغان پولیس کے سربراہ نے اس لڑائی میں 80طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی چند عمارتوں کو طالبان کے قبضہ سے چھڑا لیا گیا ہے ۔اسی طرح یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکہ کے جانب سے کئے گئے دو فضائی حملوں کی وجہ سے طالبان کی ائیر پورٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے ۔طالبان کے قندوز پر قبضہ نے جہاں افغان حکومت اور اتحادی افواج کو چکرا کر رکھ دیا تھا وہیں افغان سیکیورٹی فورسز بھی طالبان کی اس کامیابی پر بال نوچ رہی تھیں ۔
یہی وجہ ہے کہ جب سکیورٹی فورسز عملی طور پر کچھ نہ کر سکیں تو انہوں نے پراپیگنڈہ کا سہارا لیتے ہوئے افغان خفیہ ایجنسی کی جانب سے یہ اعلان کروایا کہ فضائی حملوں میں طالبان کے صوبائی سربراہ اور ان کے نائب کو ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ طالبان نے اس خبر کی تردید کی اور افغان خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ۔نیٹو فورسز نے افغان سیکورٹی فورسز کو حوصلہ دینے کی خاطر اپنے ترجمان سے بیان دلوایا کہ امریکی طیارے افغان سکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کر رہے ہیں اوروہ قندوز شہر کے گرد و نواح میں طالبان کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں عنقریب قندوز کو طالبان کے قبضہ سے چھڑا لیا جائے گا ۔
حقیقت یہ ہے کہ فی الحال طالبان قندوز شہر پر اپنے قبضے کو مستحکم کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ قندوز پر طالبان کا قبضہ افغان حکومت کے لیے بڑا دھچکہ ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی طالبان کی اس کارروائی کو سنہ 2001 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ قندوز ہسپتال پر فضائی حملہ تین اکتوبر کے روز امریکی طیاروں نے قندوز میں عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسن سانس فرنٹیئرز کے ہسپتال پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 9 ڈاکٹروں ،8 مریضوں سمیت 20 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے ۔
ہلاک ہونے والوں میں 3بچے بھی شامل تھے۔اتحادی طیاروں نے ہسپتال پر مسلسل بمباری کی جس سے ہسپتال کے عملے کے 19 ارکان زخمی ہوئے۔ بمباری کے بعد باقی مریضوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسن نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بمباری جنگی جرائم میں شامل ہو سکتی ہے۔ میڈیسنس سانس فرنٹیئرزکا کہنا ہے کہ افغان اور امریکی حکام کو خبردار کئے جانے کے بعد قندوز میں ان کے ہسپتال پر حملہ 100 منٹ تک جاری رہا۔
ایک بیان میں ایم ایس ایف نے اپنے ہسپتال پر خوفناک بمباری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایم ایس ایف کے مطابق بمباری کے وقت ہسپتال میں کم از کم 100 مریض موجود تھے لیکن حملے کے بعد ابھی تک مریضوں کی اکثریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کدھر گئے۔ دوسری جانب نیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
نیٹو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے قندوز شہر میں مقامی وقت کے مطابق سوا دو بجے صبح ان لوگوں کے خلاف حملے کئے جن سے انہیں خطرہ تھا اس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس حملے میں اس کے پاس قائم ایک طبی مرکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بیان میں کہا ہے کہ قندوز میں قائم ایم ایس ایف کے ٹراما سنٹر پر پے در پے کئی بار بمباری کی گئی جس سے سینٹر کو زبردست نقصان ہوا ۔
بمباری کے وقت اس جگہ 105 مریض اور انکی خدمت میں حاضر افراد کے علاوہ 80 سے زیادہ سٹاف موجود تھے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مرکز پر موجود زیادہ تر سٹاف افغان باشندے ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر آپریشنز پارٹ جانسینس نے کہا ہم ان حملوں پر بہت غمزدہ ہیں کیونکہ اس میں ہمارے سٹاف اور مریضوں کی موت ہوئی ہے اس سے ہمارے ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب ہسپتال پر کی جانے والی امریکی بمباری کو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مندوب نے المناک، ناقابلِ معافی اور ممکنہ طور پر مجرمانہ فعل قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب زید رعد نے واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔امریکہ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ہسپتال پر بمباری طالبان کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئی۔ ہسپتال پر حملے کے فوری بعد افغان صدر کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ افغانستان میں امریکی فورسز کے سربراہ جنرل جان کیمبل نے اس واقعہ پر افغان صدر اشرف غنی سے معافی مانگ لی ہے ۔
قندوز پر قبضہ کے اثرات اتحادی اور افغان فورسز پر حملہ آوار ہونے والے جنگجوؤں کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ شدت پسند باہم ایک دوسرے کے خلاف بھی نبر د آزما ہیں ۔داعش یا دولت اسلامیہ نے جب سے افغانستان میں اپنی موجودگی ظاہر کی ہے تب سے افغان طالبان اور القاعدہ رہنما داعش کے خلاف بیان دے رہے ہیں اور داعش کو امت مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچا نے کا موجب قرار دے رہے ہیں ۔
ملا عمر کی وفات کے بعد افغان طالبان نے اپنی کاروائیوں کو وسعت دیتے ہوئے ان علاقوں پر چڑھائی شروع کر دی ہے جو افغان حکومت کے زیر کنٹرول ہیں ۔ ملا محمد عمر کی ہلاکت کے انکشاف اور تصدیق سے قبل داعش بڑی تیزی سے اپنے اثرو رسوخ میں اضافہ کر رہی تھی ۔ہم روزنامہ نئی بات کے انہی صفحات پر داعش کے حوالے سے تفصیل سے زکر کر چکے ہیں کہ کس طرح طالبان کمانڈروں نے شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کی اور پھر طالبان کے خلاف ہی عسکری کاروائیوں کا آغاز کیا ۔
ہمیں یا درہنا چاہئے کہ چند ماہ قبل داعش کے شدت پسندوں نے کمانڈر عبدلخالق کی کمان میں مشرقی افغانستان کے پانچ اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا۔ دراصل داعش کے پرچم تلے لڑنے والے یہ وہی شدت پسند ہیں جو اس سے قبل افغان طالبان میں شامل تھے اور ملا عمر کو اپنا امیر المومنین مانتے تھے ۔ تاہم ملا محمد عمر کو 2002 کے بعد سے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ اس سے تحریک کے اندر گوما گو کی کیفیت پیدا ہوگئی اور بہت سے لوگ جن میں ازبکستان اسلامی تنظیم بھی شامل ہے نے اسی کو وجہ بنا کر طالبان سے علیحدگی اورداعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
افغان طالبان نے ملا محمد عمر کی سوانح عمری جاری کر کے تحریک کے اندر بڑھتی ہوئی ناامیدی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنے جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ میں جانے سے روکنے کی کوشش کی مگروہ اس میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔افغانستان میں داعش کی سربراہی کمانڈر عبدلخالق کے پاس ہے ۔کمانڈر عبدلخالق کا تعلق ننگر ہارکے علاقے دیغ بالا سے ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ داعش نے دیغ بالاسے اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا اور اب داعش دیغ بالام، نازیان، اچین، اسپن غر اور بٹیکوٹ اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہے ۔ان اضلاع پر قبضے کیلئے لڑی جانے والی لڑائی میں دونوں اطراف سے درجنوں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت افغان طالبان کے حامیوں کی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ افغان طالبان میں شامل سینکڑوں شدت پسند داعش میں اس لیے شامل ہوئے کہ ایک تو ان لوگوں نے 2002کے بعد ملا عمر کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی ان کے سامنے ملا عمر کی کوئی ویڈیو سامنے آئی تھی ۔
جبکہ اس کے برعکس داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی آئے روز اپنا ویڈیو بیان جاری کرتے ہیں ۔افغان طالبان نے داعش کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کیلئے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں داعش کو افغانستان میں مداخلت سے باز رہنے کی اپیل کی گئی تھی ۔اگرچہ افغانستان میں داعش سے الحاق کرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد طالبان کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے تاہم جس رفتار سے شدت پسند افغان طالبان سے الگ ہو رہے تھے مستقبل میں داعش کا اثرو رسوخ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
تاہم امید کی جاسکتی ہے کہ قندوز پر طالبان کا قبضہ ناراض طالبان جنگجوؤں کو واپس ان کی جانب موڑنے کا سبب بنے گا ۔ وہ جنگجو جو دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کیلئے دلچسپی رکھتے تھے اب طالبان کو کمزور نہیں ہونے دیں گے اور عین ممکن ہے وہ طالبان کی قوت میں اضافہ کرنے کیلئے دوبارہ طالبان میں کی صفوں میں شامل ہو جائیں اور ملا منصور اختر کی بیعت کر کے انہیں اپنا امیر تسلیم کر لیں ۔
دوسری جانب شہر پر طالبان کے مکمل کنٹرول کا اعتراف کرتے ہوئے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی ایک خاتون تجزیہ نگارکا کہنا ہے کہ”قندوز شہر پر قبضہ طالبان کے لیے تشہیری اہمیت کا حامل ہے۔ شہر کے مختلف چوکوں اور مرکزی عمارتوں پر طالبان جنگجوں کی جانب سے سفید جھنڈے لہراتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔افغانستان کے سب سے اہم اور سٹریٹیجک شہر پر قبضے سے نہ صرف طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کو مضبوط کرے گا بلکہ طالبان کی ہمت بھی بڑھائے گا۔
طالبان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج شہر کو اپنے قبضے میں رکھنا ہے۔ وہ شہر کو کیسے چلاتے ہیں اور کیسا برتاؤ رکھتے ہیں، چاہے کچھ دنوں کے لیے ہی سہی پر اس سے ظاہر ہو جائے گا کہ سنہ 2001 ایک میں ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد اس گروہ میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔اسی دوران طالبان اپنے کنٹرول کو دوسرے صوبوں تک بڑھانے کی کوشش بھی کریں گے جہاں پہلے ہی بہت سے حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں“۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-06

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان