بند کریں
منگل فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
واقعی تبدیلی یا روایتی سیاست، افتخار چودھری کا امتحان!
بلاشبہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی گنتی ایک اور اضافہ ہے جو ”جسٹس اینڈڈیمو کریٹک“ پارٹی کے نام سے ہوا ہے ایک پارٹی کا اضافہ ڈاکٹر عبدالقایر خان نے بھی ”تحریک تحفظِ پاکستان پارٹی“ کے نام سے کیا تھا لیکن اس پارٹی کو
اسرار بخاری:
بلاشبہ ملک میں سیاسی جماعتوں کی گنتی ایک اور اضافہ ہے جو ”جسٹس اینڈڈیمو کریٹک“ پارٹی کے نام سے ہوا ہے ایک پارٹی کا اضافہ ڈاکٹر عبدالقایر خان نے بھی ”تحریک تحفظِ پاکستان پارٹی“ کے نام سے کیا تھا لیکن اس پارٹی کو عوامی سطح پر پذیرائی نہ مل سکی اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ عوام میں ان کی مقبولیت یا اہمیت نہیں تھی بلکہ کراچی سے پشاور تک لوگ اس خواہش کے اسیر تھے کہ ان جیسی محترم شخصیت کو متنازعہ نہیں بننا چاہیے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی پارٹی کو خود ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس کا پارٹی کے قیام سے زیادہ خیر مقدم کیا گیا تھا ۔
سیاست میں حصہ لینا، سیاسی پارٹی بنانا کوئی رسوا کن قدم نہیں ہے ۔ بلکہ نہ صرف ہر شہری کا آئینی وقانونی حق ہے اور ملک و قوم کی خدمات، ترقی، خوشحالی کا فریضہ انجام دینے کا پُروقار ذریعہ بھی ہے لیکن وطن عزیز میں سیاست کی جو تصویر آغاشورش کا شمیری نے پیش کی ہے:
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
جائزہ لیا جائے تو آج کی سیاست کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔
بادی النظر میں بڑے قدآور سیاستدان کرپشن اور دیگر غیر اخلاقی کاموں اور بے اصولیوں کا شکار ہو کر سیاسی بونے نظر آتے ہیں ، دوسرے آج کی سیاست میں دشنام تراشی، الزامات اور کردار کشی نے غلبہ حاصل کر لیا ہے جس کے باعث اس کی یہ شناخت بن گئی ہے۔
یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں
اس لیے لوگوں کی قدرتی طور پر خواہش ہوتی ہے کہ قابل احترام افراد اس میخانہ سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے۔
بہر حال جہاں تک سابق چیف جسٹس افتخار چوددھری کا تعلق ہے وہ وکلا تحریک کی سربراہی کے انداز میں باقاعدہ ایک تحریک چلا چکے ہیں اور یہ تحریک آمریت کے خلاف جمہوریت اور آئینی وقانونی سربلندی کے لیے تھی اس میں اگرچہ ملک کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ ڈالا لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سب سے زیادہ قربانیاں وکلا نے دیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کر دیا۔
جسٹس (ر) افتخار چودھری کی پارٹی کے اولین شرکاء میں بھی وکلا کی اکثریت ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کا اعلان 25 دسمبر کو کیاجب یوم قائداعظم کے باعث اخبارات کی بھی تعطیل تھی اگرچہ ٹیلی ویژن چینلوں نے اس کی کوریج کی مگر عوامی حلقوں میں زیادہ نہ پھیل سکی۔ انہوں نے پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے پروگرام کی بنیاد تین اصولوں پر رکھی ہے وہ ہیں عدل، احتساب اور مساوات اور یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان کی پارٹی جمہوری جدوجہد کے لیے صدارتی نظام کو ذریعہ بنائے گی۔
قائداعظم نے پاکستان کے لیے صدارتی نظام کو موزوں قرار دیا تھا تاہم انہوں نے پارٹی نظام کی مخالفت نہیں کی تھی، ورنہ ان کی حیات میں ملک میں پارلیمانی نظام کا نفاذ نہ ہو سکتا البتہ اپنی ایک تحریر میں قائد نے صرف برطانیہ میں ہی اس نظام کے کامیابی سے چلنے کی بات کی ہے، اتفاق سے چند روز قبل ایک تحریک نظر سے گزری کسی نے مولانا ادریس کاندحلوی سے سوال کیا کہ ”مروجہ نظاموں میں اسلام کے نزدیک کون سانظام ہے۔
“تو ان کا جواب تھا ” صدارتی نظام کو اسلام کے قریب سمجھا جا سکتا ہے۔“ ویسے نظام کوئی بھی ہو چلانے والے صحیح ہوں تو نظام بھی صحیح چلتا ہے۔ مثلاََ برطانیہ میں پارلیمانی اور امریکہ میں صدارتی نظام بہت بہتر انداز میں چل رہاہے۔ جسٹس افتخار چودھری نے ریٹائر منٹ کے بعد آرام سکون سے زندگی بسر کرنے کی بجائے خاردار سیاست میںآ بلہ پائی کاجو راستہ اختیار کیا ہے ان کے اس دعویٰ کو جھٹلانے کے لیے فی الحال کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ ظلم کی چکی میں پسنے والے عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کے لیے میدان سیاست میںآ ئے ہیں انکا 25 نکاتی ایجنڈ تادم تحریک تفصیل سے سامنے نہیں آسکا البتہ صحت ، تعلیم، اراضی کی اصلاحیت اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی اہم نکات ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کے عوام روایتی سیاست اور روایتی سیاستدانوں سے تنگ آچکے ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں تبدیلی کی اس خواہش نے ہی عام لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں عمران خان کے لیے کشش پیدا ہوئی تھی مگر وہ تبدیلی کا نعرہ لے کر اٹھے اور روایتی سیادستدانوں کے حصار میں چلے گے 2013 کے انتخابات میں اگر وہ روایتی سیاستدانوں کی بجائے گلی کوچوں کے عام پڑھے لکھے افراد کو امیدوار بنانے کا حوصلہ کر لیتے تو ان کی پارٹی تیسری نہیں بلکہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی پارٹی ہوتی ۔
بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ افتخار چودھری ملک میں تبدیلی کا ذریعہ بنیں گے یا قتدار کی منزل تک پہنچنے کے لیے روایتی سیاستدانوں اور الیکٹ اببل(جو خود الیکشن جیت سکیں)کا عمران خان ہی کی طرح محتاج ہو کررہ جائیں گے۔ بہرحال اس نئی پارٹی کے مستقبل کے خدوخال کا اندازہ اس بات سے ہو جائے گا کہ کون کون سے ”سیاسی ہیرے موتی“ اس کا جھومر نہیں بنیں گے۔ پاکستان کے عوام کا سب سے اہم ترین بے شک روزگار ہے کہ زندگی کا مداراس پر ہے مگر صحت، تعلیم، پینے کا صاف پانی کم اہم نہیں بدقسمتی سے ان تینوں کوہر دور میں بری طرح نظر انداز کیا گیا۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-30

(0) ووٹ وصول ہوئے