بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خوفزدہ بھارت
پاکستانی میزائل اس کے سر پر سوار ہیں!۔۔۔۔ پاکستان کی سالمیت کو ہمیشہ نقصان بھارت کی طرف سے پہنچا پاکستان کی طرف سے بھارت کو ہرگز نہیں ۔ اسکے باوجود بھارت کو خوف ہے
سکندر خان بلوچ:
خوف ایک ایسی بیماری ہے جس کا آج تک علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔خوف میں مبتلا شخص موت سے پہلے کئی بار مرتا ہے اور اپنے بچاؤ کیلئے عجیب عجیب طریقے استعمال کرتا ہے ۔بدقسمتی سے بھارت بھی ایسے ہی خوف میں مبتلا ہے۔حیران کن بات ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مانا جاتاہے۔آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور عسکری لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی طاقت ایٹمی طاقت ہے اور سکیورٹی کونسل میں مستقل ممبر شب کیلئے کوشاں ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے کا اعزاز بھی بھارت کو حاصل رہاہے۔معاشی لحاظ سے بھی ایک طاقت ہے اور اپنے ہمسایوں کو ہمیشہ دباؤ میں رکھ کر اپنی چود ھراہٹ کا رعب بھی جاری رکھتا ہے۔اتنی بڑی طاقت ہونے کے باوجود بھارت کو وہم ہو گیا ہے کہ پاکستان یا چین بھارت پرایٹمی حملہ کر کے اسکی سیست توڑ دینگے ۔چین کا خوف تو سمجھ میں آتا ہے ۔کیونکہ چین ایک ورلڈ پاور اور عظیم عسکری قوت ہے اور وہ یقینا بھارت کی سیست تباہ کر سکتا ہے لیکن چین ایک پر امن ہمسایہ ہے جس نے کسی پڑوسی ملک کیخلاف آج تک کسی قسم کی جارحیت کا انکاب نہیں کیا۔
بھارت کے ساتھ 1962میں سرحدی تنازعہ ہوا تھا مگ روہ بھی بھارت کی اپنی ہٹ دھری اور خود سری کی وجہ سے لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس سے خوف کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔پاکستان بھی چین کی طرح ایک پرامن ملک ہے اور ہمارے کسی ملک کیخلاف کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔پاکستان کی سالمیت کو ہمیشہ نقصان بھارت کی طرف سے پہنچا پاکستان کی طرف سے بھارت کو ہرگز نہیں ۔
اسکے باوجود بھارت کو خوف ہے کہ پاکستان ایٹمی حملہ کر کے اسے تباہ کر سکتا ہے۔لہٰذا اپنے بچاؤ کیلئے مختلف طریقے استعمال کر رہا ہے جس میں اسوقت جنگی تیاری کے علاوہ انٹی بیلسٹک میزائلز شیلڈ قائم کرنے کی کوشش ہے۔
بھارت کے خوف کی وجہ غالبا یہ ہے کہ 2010میں نیویارک تائمز میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستان پر بھارتی حملے کی صورت میں پاکستان ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔
بعد میں ہمارے کچھ سیاستدانوں اور جنر لزنے بھی ایسے بیانات دئیے جن سے بھارت کو خدشہ پیدا ہوا کہ پاکستان کا میزائلز پروگرام چو نکہ بھارت کی نسبت زیادہ ایڈونس ہے اسلئے پاکستان Nuclear Tipped میزائلز سے حملہ کر کے بھارت کے اہم شہر اور ٹارگٹ تباہ کر سکتا ہے۔لہٰذااس خوف کے مدنظر بھارت نے انٹی بیلسٹک میزائلز شیلڈ بلڈ کر نے کا پروگرام شروع کیا۔
بقول بھارتی میڈیا یہ گولی کو گولی سے روکنے کا پروگرام ہے۔بھارت کے ڈیفنس ریسرچ اور ڈویلپمنٹ آرگنا ئزیشن (Drdo) کے سابق سربراہ اویناش چندرنے 29اگست2011کو بیان دیا تھا کہ تین سال کے عرصہ میں بھارت انٹی میزائل شیلڈ کا تحفظ کیلئے کوشش کر رہا ہے جواب آکر کامیاب ہوئی ہے۔حال ہی میں بھارت نے چندی پور (اڑیسہ) رینج سے پر تھوی سیر یز کا میزائل فائر کر کے آتے ہوئے میزائل کو روکنے کا مظاہرہ کیا ہے جسکی مکمل تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

بھارتی انٹی بیلسٹک میزائلز(ABM) نظام تین حصوں پر مشتمل ہے۔سب سے پہلے توریڈ ارنیٹ ورک ہے جو دشمن کے علاقے سے فائر کئے گئے میزائل کا پتہ لگاتا ہے۔اسکی بلندی اور آتے ہوئے راستے کا تعین کرتا ہے ۔اس مقصد کیلئے دوقسم کے ریڈار پر تجربات کئے گئے ہیں ،اول زمینی اور دوم سیٹیلائیٹ۔امینی ریڈارمومڑتو ہے لیکن راستے مین پڑنے والی قدرتی رکاوٹوں جیسے پہاڑ وغیرہ اور پھر زمین کی اپنی گولائی کی وجہ سے زیادہ سے فائر کئے گئے میزائل کا سراغ نہیں لگا سکتا ۔
یہ ایک خاص حد تک ہی کار گر ہے۔سیٹیلائیٹ ریڈار بہر حال بہت موئثر ہے جو دشمن کے علاقے سے فائر کئے گئے میزائل کی جگہ اور پھر اس کی اڑان کے راستے کاآسانی سے تعین کر سکتا ہے۔سیٹیلائیٹ آتے ہوئے میزائل پر نظر رکھتا ہے اور کارروائی کیلئے دوسرے مرحلے کو متحرک کرتا ہے۔دوسرے مرحلے میں کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم ہے۔ریڈار سے آتے ہوئے میزائل کی اطلاع ملنے کے بعد یہ میزائل کے راستے سمت بلندی اور سپیڈ وغیرہ کا تعین کر کے جوابی میزائل فائر کیلئے تیار کرتا ہے جسے(Interceptor) یعنی روک دینے یا کاٹ دینے والے میزائل کا نام دیا گیا ہے ۔
جونہی دشمن کا میزائل مطلوبہ حد کے اندرآتا ہے AMB فائر کر دیا جاتا ہے۔تیسرے مرحلے میں ایسے ریڈار اور گا ئیڈ نگ آلات ہیں جوفائر کئے گئے میزائل کو صحیح نشانے پر لے جاتے ہیں اور آتے ہوئے میزائل کو تباہ کر دیا جاتا ہے۔اس میں دوقسم کے Interceptor میزائلز سسٹم میں شامل کئے گئے ہیں ۔اول بلندی خائی میزائلز جسے pradyumnaکا نام دیا گیا ہے۔یہ میزائلز فضا میں یعنی 50کلو میٹر یااس سے بھی بلند سفر کر کے ٹار گٹ کو نشانہ بناتے ہیں ۔
دوسرے نمبر پر Ashvinمیزائلز ہیں جو20سے 40کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔بہر حال یہ سسٹم تاحال تجربات کے مراحل میں ہے اور اس پر کام ہو رہاہے۔
اس حفاظتی شیلڈ کیساتھ ساتھ بھارت کی Drdoنے اسرائیل کی Eintکمپنی کے ساتھ مل کر دو قسم کے لانگ رینج ٹریکنگ ریڈار (Ltrs) بھی بنائے ہیں جنہیں پچھلے سال وہلی لایا گیا تھا۔ان ریڈار کی حد 800سے1000کلومیٹر تک ہے ۔
یہ ائیر فورس کودیئے گئے ہیں جو دشمن کے علاقے کی نگرانی کریں گے اور یہ AMBسسٹم کے ساتھ مل کر کام کرینگے ۔AMBشیلڈ کاسب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے ایٹمی ڈیٹر نس کا توازن خراب ہو جاتا ہے ۔جب ایک فریق یہ سمجھاتاہے کہ اسکے ٹارگٹ یاشہر حفاظتی شیلڈ کی وجہ سے محفوظ ہیں تودوسرے فریق آسانی سے حملہ آور ہو جاتا ہے۔دوسرافریق اس حفاظتی شیلڈ کو توڑ نے کیلئے زیادہ سے زیادہ حملے کرتا ہے ۔
اگر بھارت دہلی اورممبئی کے گرد حفاظتی شیلڈ قائم کرتا ہے تو پاکستان کو اسکار توڑ حاصل کرنا پڑ یگا۔بین الاقومی میڈیا کے مطابق پاکستان کے پاس 100 سے 120ایٹمی ہتھیار ہیں۔پاکستان انکی تعداد بڑھانے پر مجبور ہو جائیگا تاکہ میزائلز کی بارش کر کے نظام کو توڑاجا سکے گا۔اس نظام کی دوسری خرابی یہ ہے کہ دور سے فائر کئے گئے اور تیز رفتار میزائلز کی رینج 170سے2000کلومیٹر ہے اور یہ بہت تیز رفتار میزائلز ہیں۔
انہیں نہیں روکاجاسکے گا۔اسی طرح پاکستان کے شاہین تھری بہت بلندی پر پرواز کر نیوالے میزائلز ہیں جن کی رینج 2750کلومیٹر ہے۔یہ میزائلز بنیادی طور پر بھارت کے جزائر انڈیمان اور نکو بار کیلے بنائے گئے ہیں جہاں بھارت کت اٹمی اثاثے چھپے ہیں۔جہاں تک دہلی کا تعلق ہے یہ شخص700کلومیٹر کی دوری پر ہے۔یہاں پر لانگ رینج میزائلز فائر نہیں ہو سکتے۔ یہاں پر ابدالی ون یا شاہین ون فائر کرنے پڑیں گے جو شخص 5سے10منٹ میں اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ان کیخلاف بھی بھارتی کا روائی بہت مشکل ہوگی کیونکہ ردعمل کا وقت نہ ہونے کے برابر ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان