بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کشمیریوں کاحق خودار ادیت اور پاک بھارت تعلقات
کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیز کارروائیوں پر اقوام متحدہ خاموش کیوں۔۔۔ خطے میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پاکستان نے ہمیشہ فرنٹ لائن کاکردار ادا کیا
چودھری امجد علی جاوید:
پاکستان میں بھارتی مداخلت،سرحد پر اشتعال انگیزی اورمسئلہ کشمیر کوالگ الگ تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا۔مسئلہ کشمیر حل ہوجائے توصرف پاکستان بھارت تعلقات معمول پر آسکتے ہیں بلکہ خطے میں مثالی امن قائم ہوسکتا ہے مگر جس طرح بھارت کشمیر کواپنا اٹوٹ انگ قرار رہاہے اس لئے یہ مسئلہ عالمی کوفعال ہونا اور سفار تکاری کومتحرک کرنا اور اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ پوری قوت اوت شدت سے اٹھانا ہو گا۔
مسئلہ کشمیر کوپس پشت ڈال کرخطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے اس دیرینہ مسئلے کوکشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قرارداروں کی روشنی میں حل کرنے کاوقت آگیاہے،کشمیر کامسئلہ برصغیر کی تقسیم کانا مکمل ایجنڈاہے اور یہ بات واضح طور پر ذہن نشین کی جانے چاہئے کہ اس تنازعہ کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کاقیام ناممکن ہے۔
کشمیری عوام گزشتہ دہائیوں سے ظلم وبربریت اور ناانصافیاں برداشت کررہے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قرار داد کی روشنی میں حل کیاجائے۔بھارت کشمیریوں کو ان کااقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودار ادیت دے دے تو کشمیر بھارت کی طرف پیدا کیاگیا ہے اور کے حل کی راہ میں بھارت ہی بہت بڑی رکاوٹ بناہوا ہے اس مسئلہ کی موجودگی میں بھارت کی طرف سے مذکرات اور ملاقاتوں میں کی گئی یقین دہانیاں منافقت کے سوا کچھ نہیں۔
بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اس کیخلاف ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں،یہ ثبوت اقوام متحدہ میں پیش کئے جائیں گے۔قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پاکستانی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کے ذریعے مقبوضہ وادی میں ہوتی ہے۔
کشمیریوں کاقصور یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی حریت جدوجہد کی سیاسی اور اخلاقی طور پر مدد کرتا ہیلیکنبھارت اس جدوجہد کودہشت گردی قراردیتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج دہشت گردی کی مرتکب ہورہی ہے۔جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پرپاکستان کی طرف سے کئی باراقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کامطالبہ کیا گیا اس کو بھارت نے کبھی قبول نہیں کیا ب مشترکہ تحقیقات پر اتفاق رائے ہوا ہے اس پر بھارت سے اس حوالے سے تعاون کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے جورینجرز کی ٹیم کوبلا کر گولیوں کانشانہ بنادیتا ہے۔
متحارب گروپ مل کر کسی نتیجے پر کم ہی پہنچتے ہیں۔
دنیا سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے شروع ہونیوالی جنگ میں پاکستان نے ہمیشہ فرنٹ لائن کاکردار ادا کیا ہے لیکن بھارت کی طرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے حالات مسلسل ابتری کاشکار ہورہے ہیں۔پاکستان کی سٹرٹیجک پالیسی واضح اور شفاف ہے اور اس امر کاپوری دنیا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کو فروغ دینے کیلئے جدوجہد کی اور کررہاہے۔
پاکستان نے ہمیشہ بھارت کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایا ہے اور پاکستان بھارت سے لڑائی نہیں چاہتا لیکن بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو مسلسل فروغ دے رہاہے۔بھارت میں نریندرمودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔پاکستان بھارت کشیدگی آخری حدود کوچھورہی ہے مگر بھارت کے ساتھ خبارے کی تجارت جاری ہے۔
آج پاک چین راہداری اور گواد رپورٹ کے آپریشنل ہونے کے منصوبے پاکستان مخالف عناسر کے سینے پر سانپ بن کرلوٹ رہے ہیں جس کا غصہ وہ کنٹرول لائن پر اشتعال انگیز کاروروائیوں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دے کر نکال رہے ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔بھارت کو چاہئے کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگانے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے لوگوں کا عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے۔
کشمیرایک بنیادی تنازع ہے جس کا حل دونوں پڑوسی ممالک کے مفاد میں ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جتنی جلد کوششیں شروع کی جائیں وہ خطے کے امن کے مفاد میں ہیں۔پاکستان خطے میں بدامنی نہیں چاہتا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کی بنیادی وجہ سے مسئلہ کشمیر ہے،اس لئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے جتنا جلد دونوں ملک مسئلہ کشمیر حل کریں گے اتنی ہی جلدی دونوں ممالک ترقی کی منازل طے کریں گے۔
کشمیر کاجلد میں دنیا خطے دونوں ممالک کیلئے ناگزیر ہے۔پاکستانی قیادت دانشمندی سے معاملات کو آگے بڑھارہی ہے۔خارجہ پالیسی میں تبدیلی کیا چھے نتائج نکلیں گے۔پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جس کایجنڈاترقی اور خوشحالی ہے قیام امن کیلئے پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔دہشت گردی کیخلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہورہے ہیں۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مسئلہ کشمیر پر واقعی ووٹوک مئوقف اختیار کیاہے۔سیاسی اور سفارتی سطح پر معاملہ تو حکومت نے اٹھانا ہے مگر جس زور اور جذبے سے یہ معاملہ اٹھانے کی ضرورت ہے اس برح سے نہیں اٹھایا جارہا۔1965ء کے بعد سے ملک میں بہت اتار چڑھاؤ آئے ہیں لیکن ملک اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوم پرعزم ہے۔
پاکستانی فوج بیرونی جارحیت کامنہ توڑ مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے،دشمن نے جارحیت کی کوشش کی تواسے ناقابل برداشت نقصان اٹھانا پڑے گا۔
جنگ چاہے روایتی ہو یاغیر روایتی شردعات کسی طرح کی جنگ کیلئے تیارہے اور اگر دشمن سے کوئی غلطی سرزدہوئی تواسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔پاکستان اور بھارت کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے اور کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مشتر کہ تحقیقات کرنے پر جو اتفاق کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے اس بات پر پہلے بھی اتفاق ہوچکا ہے کہ سرحد پرکسی جانب سے فائرنگ کی صورت میں دوسری جانب سے فوری طورپر جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی اور پہلے فائرنگ کرنے والے فریق سے رابطہ کیا جائے گا۔
دہشت گردی کے خلاف مل کرلڑنے کا بھارتی وزیر داخلہ کاحال ہی میں جاری ہونیوالابیان بظاہر براخوشنما ہے مگر عملی طور ہر ایسا ممکن اس لئے نہیں کہ پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے اسے اس دہشت گردی خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر لڑنے کے دعوے یااعلان کی نہیں بلکہ دہشت گردی کی پشت پناہی سے دستبرداری کی ضرورت ہے۔ بہر حال وقتی اور عارضی طور پر سرحدی سکیورٹی سربراہوں کی ملاقاتوں سے کشیدگی کم ہوسکتی ہے مگر ماضی کے تلخ تجربات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو بھارت اپنی فطرت کے مطابق اشتعال انگیزی سے باز نہیں آئے گا اسے اول تو پاکستان کاوجود ہی برداشت نہیں ہے۔
پاکستان میں خوشحالی اور ترقی کی راہیں۔کھلتی ہیں تو شر پسند عناصر کویہ ترقی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی تجارت کامسئلہ بہت طویل عرصہ سے زیربحث ہے اور اس کے حق اور مخالفت میں مختلف حلقے دلائل پیش کرتے ہوئے ہمیں اپنا مفاد ضرورمدنظر رکھناچاہئے۔ بھارت اپنے مفاد میں تجارت کرنے کیلئے ساری دنیا کے ذریعے ہم ہردباؤ ڈلوارہا ہے جسے ہر گز قبول نہیں کرناچاہئے،اگر ہم عالمی رحجان پر ایک نظر دوڑائیں تو معاشی استحکام میں علاقائی تجارت کاکردار بہت اہم دکھائی دیتاہے۔
یہاں تک کہ بہت سے ایسے ممالک بھی باہمی تجارت کررہے ہیں جن کی ویسے آپس میں بالکل نہیں بنتی لہٰذا پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ضرور ہونے چاہئے لیکن برابری کی بنیاد پر یہ نہیں کہ پاکستان کو بھارتی مصنوعات کیلئے کھپت کی جگہ بنادیا جائے اور پاکستان کی بھارت کو برآمدت نہ ہونے کے برابر ہوں صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کو آپس میں تجارت کرنی چاہئے جس سے سب کویکساں فائدے کے مواقع حاصل ہوں۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان