بند کریں
بدھ جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کپتان کی نئی پارٹنر شپ
عمران خان اور ریحام خان ازدواجی بندھن میں بندھ گئے عمران خان اور ریحام خان کی شادی کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یہی نہیں سیاسی مخالفین اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کی زبان پر بھی عمران خان کی شادی کے چرچے تھے
ایان خان :
عمران خان ان خوش قسمت ترین شخصیت میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا کرشمہ وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا رہا ہے۔ اسی لئے جب انھوں نے تاریخ کے طویل ترین دھرنے اور تبدیلی کے نعروں کے دوران یہ جملہ کہا کہ ” نیا پاکستان جلد بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔تاکہ میں۔۔۔۔ شادی کر لوں۔“ تو اس کے ساتھ ہی ان کی دوسری شادی کے بارے میں چہ میگوئیاں اور خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔
اس کے کچھ عرصہ بعد میڈیا میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور خاتون صحافی واینکر پرسن ریحام خان کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں۔ پھر انگلینڈ کے معروف اخبار ڈیلی میل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ عمران خان نے دوسری شادی کر لی ہے اور وہ ”بی بی سی گرل “ ریحام خان سے شادی کر چکے ہیں۔
اسی دوران پشاور کے سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس وقت تک عمران خان اور ریحام خان کی شادی کی خبریں اس قدر زیادہ پھیل چکی تھیں کہ ہر کسی کی زبان پر یہی سوال تھا کہ کیا واقعی عمران خان نے دوسری شادی کر لی ہے؟ اس سوال کا جواب جمعرات 8 جنوری 2015 کو سب کے سامنے آگیا جب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ریحان خان بنی گالہ اسلام آباد میں ایک باقاعدہ تقریب نکاح کے بعد شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
دونوں کا نکاح مفتی سعید نے بنفسِ نفیس پڑھایا جس کے بعد یہ افوا ہیں اور شکوک وشبہات بہر حال ختم ہوجانی چاہئیں کہ دونوں کا نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا۔ عمران خان اور ریحام خان کی شادی کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں غیر معمولی پذیر ائی ملی۔ یہی نہیں سیاسی مخالفین اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کی زبان پر بھی عمران خان کی شادی کے چرچے تھے۔
شادی کے موقع پر عمران خان نے جامہ ور کی سنہری شیروانی پہن رکھی تھی جبکہ ریحام نے بھی میچنگ آف وائٹ رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی نکاح کی تقریب میں بہنوں سمیت کسی رشتہ دار نے شرکت نہیں کی۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی بہنیں اُن سے ناراض ہیں اور وہ ریحام کو بھابھی کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہتیں۔
62 سالہ عمران خان اور41 سالہ ریحام خان دونوں کی یہ دوسری شادی ہے ۔
عمران خان کی پہلی شادی 1995 میں جمائما خان سے ہوئی تھی۔ دونوں کے دو بیٹے سلیمان اور قاسم ہیں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے دوسری شادی کے پہلے لندن جا کر جمائما اور اپنے بیٹوں کے دوسری شادی کے بارے میں باقاعدہ مطلع کیا اور اس کے بعد جمائما نے انہیں مبارک باد دیتے ہوئے اپنے نام کے ساتھ ”خان“ کا لاحقہ ہٹا دیا۔
ریحام خان کا تعلق پاکستان کے علاقے سوات کے نغمانی قبیلہ سے ہے۔
وہ 1973 کے لیبیا میں پیدا ہوئیں۔ ریحام مانسہرہ کے ایک گاوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نیئر رمضان کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی لندن میں موسم کا حال بتانے سے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اسی لیے انہیں ”بی بی سی گرل“ بھی کہا جاتا ہے ۔ اُن کا پہلا نکاح 1992 میں ایبٹ آباد میں اعجاز رحمٰن سے ہوا تھا۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ریحام بی بی سی کی ملازمت چھوڑ کر 2013 میں پاکستان آئیں اور یہاں بطور اینکر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
انہوں نے ایجوکیشن اور عمرانیات میں گریجویشن جبکہ ” عمرانیات“ یعنی سوشیالوجی میں ماسٹرکی ڈگری شروع کی تاہم بعد ازاں جرنلزم میں ماسٹرز کیا۔ شادی اور عمران خان کے بارے میں ریحام کا کہنا ہے کہ شادی کی پیشکش عمران خان نے کی تھی میں انکار نہ کر سکی۔ عمران سے ملاقات سے پہلے پاکستانی مردوں کے بارے میں تاثر اچھا نہ تھا مگر عمران نے ی تاثر بدل کے رکھ دیا ہے ۔
عمران خان جیسے نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہیں وہ بہترین میں بھی بہتر ہیں۔ عمران کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ وہ اپنے بچوں ک بارے میں بے حد فکر مند رہتے ہیں اور بہت ہی خیال رکھنے والے باپ ہیں میری بھی پہلی ترجیح اپنے بچے ہیں اور عمران جیسا شخص ہی میرے بچوں کے لئے حقیقی رول ماڈل ہو سکتا ہے۔ ریحام خان کہتی ہیں کہ فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

دوسری طرف عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم کی دعاوں کا شکر گزار ہوں اور چاہتا ہوں کے لوگ مجھے تحائف دینے کی بجائے پشاور کے کینسر ہسپتال کے لئے عطیات دیں۔ اپنے اہلخانہ ، دوستوں اور پارٹی کے ساتھیوں کو بھی شادی میں بلانا چاہتا تھا مگر ملک کے حالات کی وجہ سے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریحام کی بطور ماں شاندار کردار اور ایمان کی قوت نے متاثر کیا۔
ریحام خان چونکہ خودسیاست کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اس میں دلچسپی بھی رکھتی ہیں نیز وہ پاکستانی کلچر اور لوگوں سے برطانوی ماحول میں ایک عرصہ گزارنے کے باوجود اجنبی نہیں ہیں اس لئے امید ہے کہ ریحام اور عمران خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کریں گے اور اُن کا یہ بندھن ہمیشہ مضبوط رہے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان