بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جنوبی ایشیاء میں ایٹمی جنگ کے خطرات
اسکی ذامہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بھارتی قیمت چکانے کے باوجود سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر دنیا کے کسی ملک نے اس جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔
شیخ عثمان یوسف قصوری:
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بھارتی قیمت چکانے کے باوجود سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر دنیا کے کسی ملک نے اس جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ دہشتگردی کا عفریت اب تک 60 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو نگل چکا ہے جبکہ100ارب ڈالرز سے زائد مالی نقصان ہو چکاہے۔
اس سے پاکستان معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہوا اور اس کا فائدہ ملک کے دشمنوں کو ہوا جن کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا تھا۔ مغربی ممالک کے دانشور اور سیاستدان اسلام دشمنی میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ ان کو اس جنگ میں پاکستان کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں اور دہشت گردوں کو نیست ونابود کرنے کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیاں نظر نہیں آرہیں۔
امریکہ کے ایٹمی ماہر مائیکل کریپن نے اپنے ایک حالیہ مضمون، جس کا عنوان ”اگلی اور آخری جنگ جنوبی ایشیا میں ہو گا“ تھا، میں انہوں نے امریکی انتظامیہ اور صدر اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ سے بچاوٴ اور دنیا کے امن کی خاطر آرمی چیف جنرل راحیل شریف پر یہ دباوٴ ڈالیں کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔
مسٹر کریپن نے زہریلا پروپیگنڈا کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دیا جس کے متعلق پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی اور یہ دوبارہ ممبئی حملوں جیسا اقدام کر سکتا ہے۔ اس سے بھارت اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرے گا اور را سکے نتیجے میں ایٹمی جنگ لگنے کا اندیشہ ہے ۔ اس لئے اوبامہ انتظامیہ کو اس سلسلے میں اپنا موٴثر کردار ادا کرنا ہوگا۔“ مائیکل کریپن پاکستان کے خلاف تعصب کی عینک اُتار کر دیکھیں تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ پاکستان شروع دن سے ہی ممبئی حملوں کی مذمت کرتا چلا آرہاہے اور بھارت آج تک ان کے متعلق پاکستان کے خلاف ثبوت دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ جو مائیکل کریپن جیسے نام نہاد دانشوروں کو دکھائی نہیں دیتی۔کراچی، بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں ہونے والی منظم دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے خلاف ثبوت گردی کے واقعات میں بھارت کے خلاف ثبوت منظر عام پر آچکے ہیں۔ گرفتار ہونے والے دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ بھارت سے ٹریننگ حاصل کر کے آئے تھے اور بھارت ہی سے اُن کو اسلحہ اور پیسہ مہیا کیاجاتا ہے۔
سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت 1971ء میں مشرق پاکستان میں پیدا کی جانے والی شورش کی صورت دی جا سکتی ہے۔ بھارت نے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مشرقی پاکستان میں بغاوت شروع کرائی تھی جس کے نتیجے میں مشرق پاکستان بنگلہ دیش بنا تھا۔ خود بھارتی وزیراعظم مودی اسے اپنا اہم کارنامہ قرار دیتے ہیں۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس عرصے میں اس نے ممبئی حملوں سے کئی گنا بڑے سانحات کا دکھ درد اور غم برداشت کیا ہے۔ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب میں سینکڑوں دہشت گردوں کو واصلِ جنم کر کے اُن کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ماضی قریب میں القاعدہ، طالبان اور ان جیسی دیگر کالعدم تنظیموں کے نمایاں دہشت گردوں کو ختم کیا جاچکاہے لیکن آج بھی عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مغربی میڈیا، دانشور اور سیاستدان پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ ، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، امریکہ اور یواین و کو بھارت کی جانب سے پاکستانی سرزمین پر کی جانے والی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کر چکی ہیں۔ بی بی سی بھی یہ رپورٹ منظر عام پر لاچکا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افرا کی سر پرستی کر کے ان کو منڈز مہیا کرتا ہے۔ امریکہ کے سابق سیکرٹری دفاع چک ہیگل بھی یہ کہ چکے ہیں کہ بھارت پاکستان میں مداخلت کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہاہے۔
برازیل میں پاکستان کے آرمی چیف کی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جانے والی کوششوں کے اعتراف میں انہیں برازیل کا اہم ترین اعزاز ”آرڈرآف میرٹ“ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ برازیل نے یہ درخواست کی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے برازیل کی کاوٴنٹر ٹیررازم فورسز کو ٹریننگ دے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ پر محیط اس جنگ میں پاکستانی فوج کو بہت زیادہ تجربہ حاصل ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف دیگر ممالک کی فورسز کو تربیت دے۔
اس صورتحال سے یہ بات روز روش کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی جڑیں اکھاڑنے میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان بھارت میں نہیں بلکہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ اس لیے ایٹمی جنگ کا خطرہ بھارت کے اقدامات کی وجہ سے پیدا ہو رہاہے۔ عالمی دانشوروں اور سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے امن اور سکیورٹی کی خاطر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت پر دباوٴ بڑھائیں کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنا بند کرے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان