بند کریں
منگل جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جدید ٹیکنالوجی اور بے راہروی کے خاتمہ کے لیے مثبت اقدامات
آج کے ترقی یافتہ دور میں نئی تحقیق کے باوجود جرائم کی شرح میں بڑھوتی دکھائی دیتی ہے ۔ حضرت انسان جیسے علم و عقل کی بلندیوں کی طرف گامزن ہے معاشرے میں اخلاقی ،معاشرتی اور قانونی جرائم کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے
عبدالمجید منہاس:
دنیا کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھتی نظر آتی ہے۔انسان سے سائنس وٹیکنالوجی میں نئی نئی ایجادات کر کے سب کوحیران کر دیا ہے مگر اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اچھائی اور برائی میں جنگ جاری ہے۔ اخلاقی، سماجی اور معاشرتی رویوں میں مثبت اقدام سے انسان اچھااور منفی رویوں کی بنا پر برا کہلاتا ہے اوراس منفی رویوں کی بنا پر معاشرہ اسے مجرم قرار دیتا ہے۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں نئی تحقیق کے باوجود جرائم کی شرح میں بڑھوتی دکھائی دیتی ہے ۔ حضرت انسان جیسے علم و عقل کی بلندیوں کی طرف گامزن ہے معاشرے میں اخلاقی ،معاشرتی اور قانونی جرائم کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ غربت جہاں بہت کی برائیوں کی جڑی ہے وہاں کئی جرائم کو بھی جنم دیتی ہے مہنگائی کے اس دور میں لوگوں کی ضرورت بڑھ رہی ہیں۔
لیکن وقت خرید کم ہوتی چلی جا رہی ہے مگر ایسے میں ناجائز ذرائع سے دولت حاصل کرنے کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ جدید دورمیں سینماوٴں کی جگہ چھوٹی سکرین نے لی اور پھر موبائل نے سب کو مات دیدی موبائل فون بیک وقت ایک نعمت بھی ہے اور زحمت بھی ہے۔ جدید دور کی اس جدید ڈیوائس سے جہاں ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں وہاں ہم اس آلے سے نہ صرف خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی قریب رہنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں موبائل فون اچھی بری اطلاع اور خبردینے کے دوسرے سے باخبر رہنے کے لئے مفید ترین ہے لیکن نوجوان نسل نے اسے چیٹنگ کا ذریعہ بنا لیا ۔
چیٹنگ درحقیقت چیٹنگ ہے جو ہر صاحب موبائل اپنے آپ سے اور دوسروں سے کرتا ۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو مثبت استعمال کرنا چاہیے۔ آج ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل ہے اور لا تعداد لوگوں کے پاس اس سے زائد ہیں۔ اسی سہولت نے اخلاقی جرائم کی شرح بھی بڑھا دی کہ پوش علاقوں میں اسکی بدولت بلیک میلنگ جیسے گھناوٴنے کام بھی نظر آتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے رئیس زادوں کے بگڑے نوجوانوں کے اخلاق کوبھی اپنی گرفت میں لے لیا، جنسی بے راہ روی کے واقعات آئے روز الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے سامنے آرہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل قصور کے نواحی دیہات میں ایک ایسا گروہ بھی قانون کے شکنجے میں جکڑا آیا اور جو کافی عرصہ سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھناوٴنا کام کر رہا تھا اور ان کے ہاتھ اتنے لمبے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے یا تو خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے یا ان کے زیر اثر تھے۔ بھلا ہو میڈیا کا جنہوں نے ایسے عناصر کو بے نقاب کیا اور عرصہ سے جاری شیطانی کھیل کھیلنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا۔
لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سب کا فرض ہے کہ اہم بھی معاشرے کی اصلاح کیلئے آنکھیں کھول کر ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ گھر کے سربراہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسکے بچوں کا ملنا جلنا کن دوستوں سے ہے، وہ کیاکام کرتے ہیں ان کی تعلیم وتربیت کیسی ہے ؟ اگرگھر کا بڑا پنے گھر کے بچوں کی اخلاقی تربیت کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاشرہ صاف ستھرا نہ ہو۔
ایک گھر ہو یا محلہ سب کو مل کر ماحول کو بہتر بنانے اور سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کے لیے مل جل کر اقدام کرنے ہونگے اور قانون نافذ کرنے والوں کو بھی اس اہم کردار اداکرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا تو آئندہ سے کسی کو قصور کے نواح میں ہونے والے شرمناک واقعات کو دہرانے کی ہمت نہیں ہوگی۔ اور من حیث القوم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان