بند کریں
جمعرات جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ
لاہور کو تقریبا 1000 سال سے شیخ علی ہجویری داتا گنج بخش کے نام سے جانے جانے والے کا میزبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ شیخ علی ہجویری اپنے مرشد کے حکم پر لاہور پہنچے اور پھر جو یہاں سے اسلام کی روشنی پھیلنے کا سلسلہ جاری ہوا
لاہور کو تقریبا 1000 سال سے شیخ علی ہجویری داتا گنج بخش کے نام سے جانے جانے والے کا میزبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ شیخ علی ہجویری اپنے مرشد کے حکم پر لاہور پہنچے اور پھر جو یہاں سے اسلام کی روشنی پھیلنے کا سلسلہ جاری ہوا تو اِس کی کرنوں نے ایک عالم کو منور کردیا۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے 972 سال گزر چکے لیکن ان کا فیض آج بھی جاری ہے۔
اپنے دور کے بے شمار علمائے کرام سے علم کی جو دولت حاصل کی اسے درس و تدریس اور اپنی تصانیف کے ذریعے بھرپور طور پر تقسیم کیا۔ جن کی لکھی ہوئی کتاب کشف المجوب کو تصوف کی کتب کا سردار قرار دیا جاتا ہے۔ دنیائے تصوف میں مقام کا یہ عالم کہ خواجہ معین الدین اجمیری نے 1639ء اور پھر بابا فرید الدین گنج شکر جیسے بزرگوں نے کسب فیض کے لیے آپ کے مزار پر چلہ کشی کی۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری 400ھ یا 401 ھ میں پیدا ہوئے۔ اسم گرامی ”علی“ ہے اور کنیت ”ابوالحسن“۔آپ کے بقول آپ کا نام علی بن عثمان بن علی الجلالی الغزنوی ثم الہجویری ہے ۔ آپ غزنی کے رہنے والے تھے۔ جلاب اور ہجویر غزنی کے محلوں کے سے دو محلے ہیں۔ پہلے جلاب میں قیام پذیر تھے پر ہجویر منتقل ہو گئے تھے۔ آ پ کے والد ماجد کا مزار غزنی میں ہے۔
آپ کے خاندان کے تمام افراد صاحب زہدو تقویٰ تھے ۔ آپ برصغیر پاک و ہند کے اولین مبلغین اسلام میں سے ہیں۔آپ کا مزار پر انوار تقریباََ ایک ہزار سال سے مرجع خلائق ہے جہاں سے عوام وخواص فیضیاب ہو رہے ہیں۔ مخدوم الاولیاء سلطان الاصفیاء حضرت شیخ علی ہجویری اس قدسی گروہ کے سربراہ ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی متابعت اور محبت سے ولایت کے ارفع واعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔
آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام کا جھنڈا لہرایا۔
حضرت داتا گنج بخش فرماتے ہیں: کشف المحجوب، تصوف کی کتابوں کی سردار ہے جو شخص اسے توجہ سے پڑھے، اس کی دنیا وآخرت سنور جاتی ہے۔ آپ نے بے شمار حجابات کوا س میں کھولا ہے۔ کتاب کے شروع میں آپ نے علم کی اہمیت کو خوب بیان کیا ہے اورنماز، جیسے عبادات میں مرکزی اہمیت حاصل ہے اُسے بھی بڑے حسین پیرائے میں بیان کیا گیا ہے جس کے بغیر کلمہ گوانسان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔

علم کے بارے میں ارشاد الہٰی ہے ۔ تمہیں تھوڑا ہی علم دیا گیا ہے“ اور علم کی نہایت عمدہ تعریف یہ ہے کہ :”علم ایک صفت ہے جس سے جاہل عالم ہو جاتا ہے“ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے جو نفع نہ دے۔“ پس تھوڑے سے علم کی مدد سے بہت ساعمل بھی ہو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ”عابد علم دین کے جانے بغیر خراس کے گدھے جیسا ہے کہ وہ کتنا ہی گھومے اپنے پہلے ہی قدم پر رہتا ہے اور آگے راستہ طے نہیں کر سکتا۔

ایک واقعہ یوں ہے کہ حضرت ابراہیم ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے راستہ میں ایک پتھر دیکھا اس کو پلٹا اس پر لکھا ہوا تھا ”توجانی ہوئی چیز پر تو عمل نہیں کرتا۔ پس کیسے اس چیز کو تلاش کرتا ہے جس کو تو نہیں جانتا؟“
فرماتے ہیں : جو لوگ علم سے مرتبہ اور دنیا کی عزت طلب کرتے ہیں وہ عالم نہیں ہوتے کیونکہ مرتبہ اوردنیا کی عزت جہالت کے لوازم میں سے ہے اور کوئی درجہ علم درجے سے بلند نہیں ۔وجہ یہ ہے کہ اگر علم نہ ہو تو انسان کسی بھی لطیفہ رحمانی کو پہنچان نہیں سکتا۔ اس علم کی بدولت طالب حق سب اعمال ایسے طور رپ کرے گا گویا خدا اس کو اور اس کے افعال کو دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ جانتا ہے کہ خدا سے افعال پوشیدہ نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان