بند کریں
پیر جنوری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین -
حنظلہ شاہد کا خصوصی انٹرویو
انٹرویو: وہاب ملک ویسے تو ملک بھر میں جہاں بڑوں ،عورتوں اور نوجوانوں میں ہر قسم کا ٹیلنٹ موجودہے وہاں بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں کھیل کا میدان ہو فلم یا ڈرامے بچے ان سب میں پیش پیش ہیں۔اسلام آباد،لاہور،کو ئیٹہ کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے خطرناک اور دہشت گردی میں گھرے بچے بھی چھپے رستم نکلے ہیں۔
انٹرویو: وہاب ملک
ویسے تو ملک بھر میں جہاں بڑوں ،عورتوں اور نوجوانوں میں ہر قسم کا ٹیلنٹ موجودہے وہاں بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں کھیل کا میدان ہو فلم یا ڈرامے بچے ان سب میں پیش پیش ہیں۔اسلام آباد،لاہور،کو ئیٹہ کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے خطرناک اور دہشت گردی میں گھرے بچے بھی چھپے رستم نکلے ہیں۔ حنظلہ شاہد نے کم عمری میں اپنے کردار سے ثابت کردیا ہے کہ اس کے اندر ایک بڑا فنکار چھپا ہوا ہے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے باوجود کم عمری میں ہی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی غیر معمولی صلاحیتو ں کے سبب عوام کو حیران کرنے والے اس شہزادے کا نام حنظلہ شاہد ہے جوکہ ایک نیول آفیسر کا بیٹا ہے کراچی شہر میں رہائش پذیر ہے جب ہم نے اسکے ماضی کے متعلق سوالات کیے تو حیران ہوگے ۔
بچپن سے ہی غیر معمولی صلاحیتوں نے نہ صرف اسے اچھا سٹار بنایابلکہ ایک ہمددر دل رکھنے والاانسان بھی بنا دیا ۔ کم عمر حنظلہ ابھی آٹھ سال کا ہے اور 20 ڈراموں میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکا ہے ننھا حنظلہ ابھی تیسری جماعت کا طالب علم ہے تعلیم کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سکول میں بھی پہلی پوزیشن آتی ہے ۔ کردارسازی کے جوہر دکھانے والا جملوں کی ادائیگی میں کسی بھی اچھے سٹار سے کم نہیں ہے نہ ہی اسکی اداکاری میں ہمیں جھول نظر آتاہے ایسا لگتا ہے کہ یہ ننھا فنکار اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑاہے۔
محنت لگن اور خداداد صلاحیت نے اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہے اب تک متعد د ڈراموں ، کمرشلز میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکا ہے جوں جوں ہی وہ عمرکی منزلیں طے کررہا ہے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر اسے مزید آفرز مل رہی ہیں جب ہم اس سے انٹرویو کرنے کیلئے اسکے گھرپر پہنچے تو دروازے پر کھڑا ننھا ایکٹر ہمیں خوش آمدید کہنے کے لئے پہلے ہی موجود تھا۔
8سالہ حنظلہ نے اپنے ماضی کے متعلق بتایا کی بچپن سے ہی اسے مذہب سے لگاؤ ہے اور ماں باپ سے دوستی ہے ۔ ماں باپ کی دعاؤں کے سبسب کسی کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ابتک 20ڈراموں گوہرِنایاب(اے پلس ٹی وی)، دو قدم دور تھے ہم(جیو ٹی وی)،میرے دوست میرے ہم دم(ہم ٹی وی)نیا گھر (ایکسپریس انٹر ٹینمنٹ)میر ے ہم دم وغیرہ متعدد کمرشلز، اور لائیو شوز میں کام بھی کرچکا ہے اس نے کہاکہ میں اپنی صحت کا خیال بھی رکھتا ہوں ۔
وقت کے ساتھ ساتھ میرے کمرشلز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
کمرشل ، ڈارمے ۔ اور فلم میں بدلتے دور کے ساتھ جدت آگئی ہے۔ اب ریموٹ کا بٹن عام ڈارمے پر نہیں ٹھہرتا بلکہ جدت اور محنت سے کیا ہوا کام ہی دیکھنے والے کو اس پر ٹھہر نے پر مجبور کرتا ہے اچھے کام کی پذیرائی پر دل خوش ہونے کے ساتھ ساتھ مزید حوصلہ ملتا ہے ۔دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم میں بھی ننھا ایکٹر کسی سے پیچھے نہیں ہے ۔
انکے والد نے بتایا کہ میرا بیٹا میرا مان ہے اور مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے صبح وقت پر اٹھنا اور تمام کاموں کو شیڈول کے مطا بق کرنا میرے بیٹے کی روٹین ہے ۔حنظلہ شاہد سے پوچھا کہ آپ نے کتنی عمر میں کام شروع کیا۔ تو انھوں نے بتایا۔سات سال کی عمر میں کام شروع کیا تھا ۔کمرشلز اور ڈرامے میں کام کرنا زندگی کا مشن نہیں بس شوق کی حد تک ہے میں بڑ ا ہوکر ایک پاک آرمی یا پھر نیوی جوائین کروں گا اور کمانڈر بننے کی خواہش ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کراچی روشنیوں کا شہر ہے اور اسے جگمگا تا ہوا رہنا چاہیے ۔ شہریوں کی زندگیوں کو محفو ظ بنانے کیلے ضروری ہے کہ تمام اہلیان کراچی متحد ہوں اور پاکستان آرمی کراچی میں امن کے قیام کیلئے آپریشن کرے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پہلالائیو شو عمر شریف کے ساتھ کیا۔ پھر مختلف ڈرامہ سیریز میں سمیع خان۔ آ ئیزہ ۔
عدنان صدیقی ۔ احسن خان۔ عائشہ گل، ماہین رضوی۔ قوی خان۔ ثنا خان۔ افشان قریشی ۔محسن گیلانی وغیرہ ان ایکٹرز کے ساتھ کام کرچکا ہوں ۔ انھوں نے ملکی سیاست کے متعلق بات کرتے ہوئے کہاکہ سیاست میں پی ٹی آئی کو پسند کرتا ہوں اور عمران خان کا فین ہوں جو ملک میں تبدیلی لائیں گے۔ اور ملک کامال لوٹنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ڈراموں کے سکرپٹ بیس منٹ میں یاد کرلیتا ہوں۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان سے محبت ہے اسی لیے اپنے ملک کے ڈراموں کام کو پسند کرتا ہوں بھارت میں کام کی خواہش نہیں ہے انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان میں میعاری ڈراموں اور فلموں کا فقدان ہے ہمیں انڈین ڈراموں اور فلموں کی تقلید نہیں کرنی چاہیے ۔ انڈین فلموں ، ڈراموں کی نقالی سے ہمارا امیج بہتر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ انڈیا ہمارا دشمن ہے ہمیں انکی ثقافت کو اجاگر کرنے سے گریز کرنا چاہیے انڈیاپاکستان کی شاہ رگ پر برسوں سے قابض ہے اگر ہمارا کوئی فنکار انکے ڈراموں اور فلموں میں کام کرتا ہے تو اسکا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے ۔
اوراپنے ملک میں ایسی فلمز اور ڈرامے پروڈیوس کریں جن کو دیکھا کر سبق ملے نہ کہ غنڈی گردی اور دہشت گردی کو فروغ ملے ہمارا پڑوسی ملک اپنی ثقافت کو ہر جگہ اجا گر کر رہا ہے ہمیں چائیے کہ ہم اپنی افواج کی بہادری پرڈرامے بنائیں اور مختلف جنگوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے ہیروز کو سامنے لائیں تاکہ نئی نسل کو بھی ان کی بہادری کے متعلق علم ہو سکے ۔
سب سے پہلے نشان حیدر حاصل کرنے والے بہادر فوجی افسران اورسپاہیو ں پر مزید ڈرامے بنائے جائیں ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان میں ایسے پروڈیوسر ز بھی ہیں جو معیاری اور ذہنی قابلیت سے کام لیتے ہوے فلمیں ڈارمے بناتے ہیں جو عوام میں بے حد مقبول ہوتے ہیں اوراندورن و بیرون ملک کے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔حنظلہ نے مزید بتایاکہ ڈراموں اور فلموں کے موجودہ دور میں فحاشی کو بھی فروغ مل رہا ہے سنسر بورڈاس سلسلہ میں کاروائی کرے اور خصوصاپشتو فلمیں اور ڈارموں پر خصوصی توجہ دے۔
تاکہ فحش فلموں اور ڈارموں کو آن ایر کرنے کی اجازت نہ مل سکے انھوں نے بتایاکہ پاکستانی ڈاموں کی کامیابی اس انڈسٹری کے روشن مستقبل کی نوید ہے نوجوان نسل اور بے روزگارٹیلنٹ والے نوجوان سرکاری ملازمتوں کی بجائے ڈراموں کی طرف آئیں تاکہ ان پربہتر روزگار کے دروازے کھل سکیں۔حنظلہ نے کہا کہ حکومت اپنی خدمات ڈراموں کی نظرکرنے والے سینےئراور بیمار فنکاروں پر کوئی توجہ نہیں دیتی اورایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں ان کو دئیے گئے سرکاری اعزازات کس کام کے ہوتے ہیں جبکہ ان کا سرکاری سطح پر علاج بھی نہ ہوسکے اور دوسرں کے سہارے پر ہوں ایسے فنکاروں کے لئے حکومتی سطح پر ٹرسٹ بنائے جائیں جن کے زریعے سے ان کی مدد اور علاج ممکن ہوسکے۔
ہمارے سامنے کئی سینےئر اداکار اسی طرح فوت ہو چکے ہیں ۔ انھوں نے بتایاکہ معیاری اور جاندار سکرپٹ پر چھوٹا رول ملا تو فلموں میں بھی کام کرسکتا ہوں ڈراموں کے علاوہ تھیٹر نے بھی عوام کی تفریح کیلے رونقیں بحال کی ہوئی ہیں۔ حکومت اگر توجہ دے تو ڈارمہ انڈسٹری کو بلند مقام مل سکتا ہے ۔ انھوں نے بتایاکہ کرکٹ اور ہاکی کا شوق ہے فٹبال کو پسند کرتا ہوں ۔
انھو ں نے کہاکہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے بلکہ اچھے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ضروری ہے ۔ جوکہ حکومت نہیں کررہی۔ انھوں نے بتایا کہ فیس بک پر میرے دوستوں کی تعداد4000سے تجاوز کرگئی ہے میرے کام کو پسند کرنے والے فیس بک پرمیری حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کام میں مزید بہتری آئی ہے اورتوجہ سے کام کرنے کو دل چاہتا ہے والدین مجھے کمپیوٹر سے دور رہنے کوکہتے ہیں لیکن فیس بک میری فیورٹ ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-03

(0) ووٹ وصول ہوئے