بند کریں
جمعہ فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گوادر کو عالمی بندرگاہ میں تبدیل کرنے کی تیاریاں
45.69 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے چین امریکہ سے بازی لے گیا پاک چین تجارتی و اقتصادی تعاون گزشتہ کئی برسوں میں خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاک چین تعلقات اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد کے حوالے سے
سجادترین:
چیئرمین ماوٴ نے 1949ء میں چین کی آزادی کا اعلان کیا اور چینی قیادت اور عوام نے لگن اور سخت محنت کے ساتھ کام کر کے ثابت کیا کہ اچھی منصوبہ بندی سے ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری چین کی تاریخ میں کسی دوسرے ملک میں ہونے والی سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے اور یہ چین پاکستان تجارتی راہدا ری کے نئے عہدکا آغاز ہے۔
چیئرمین ماوٴ نے 1949ء میں چین کی آزادی کا اعلان کیا اور چینی قیادت اور عوام نے لگن اور سخت محنت کے ساتھ کام کر کے ثابت کیا کہ اچھی منصوبہ بندی سے تیز رفتار ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ چین اور پاکستان کی یہ شراکت داری بدلتے ہوئے حالات اور ملکی سیاست سے ماورا ہے اور ریاستی سطح پر نہایت مضبوط روابط کی عمدہ مثال ہے۔ چین مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے جس سے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

شاہراہ قراقرم کی تعمیر ماضی میں چین کی پاکستان کے ساتھ تعاون کی ایک یادگار مثال ہے اور اب وہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ اقتصادی راہداری کے سلسلے میں اسے اپ گریڈ کر کے گوادر پاک چین اقتصا دی منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔نیا تجارتی راہداری منصوبہ چینی تاجروں کو گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک اپنی مصنوعات پہنچانے کے لئے رابطہ فراہم کرے گا۔
اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے تحت قائم کی جا رہی ہے۔ مال برداری اور صنعتی پارکس کے مجوزہ مقامات میں سوست، گلگت، ایبٹ آباد، لورہ لائی، کوہلو، ڈی جی خان، بھکر، راجن پور، کشمور، جیکب آباد، خضدار، بسیمہ، پنجگور، تربت اور گوادر شامل ہیں۔
پاک چین تجارتی و اقتصادی تعاون گزشتہ کئی برسوں میں خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
پاک چین تعلقات اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امداد کے حوالے سے ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اس میدان میں چین سے پیچھے رہ گیا ہے، چین پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کار کر رہا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے 2009سے اب تک مختلف مد میں دی گئی کل امداد صرف 5ارب ڈالر ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی تاریخ میں کسی دوسرے ملک میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری 46ارب ڈالر کی ہے اور یہ چین پاکستان تجارتی راہداری حقیقت بننے کو تیار ہے۔
جس کے تحت اگلے 15سال میں 2000میل کا سڑکوں کا جال گوادر بندرگاہ تک بچھایا جائے گا،3 ارب لوگوں پر مشتمل آدھی دنیا ایک نئی معاشی قوت کے طور پر ابھرے گی۔ منصوبے میں 6600 میگا واٹ مزید بجلی بھی شامل ہے جس پر 18.3 ارب ڈالر لاگت آئے گی جبکہ اس پر اپنے رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان انفرا سٹرکچر، راہداری میں بہت زیادہ پوٹینشنل ہے۔
چائنہ پاکستان ایکسز، ایشیاز نیو پولیٹکس کے مصنف اینڈریو سمال نے کہا ہے کہ چین مغربی امداد کی فراہمی میں ناکامی کے اس معاملے پر رد عمل کا اظہار کر رہا ہے تا کہ مغربی ممالک اور چین کے درمیان امداد کے حوالے سے فرق سامنے آ سکے۔ چین کا موقف ہے کہ مغرب نے کم دیا تاہم ہم نے بڑے پیمانے پر سب کچھ کر دکھایا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کے مقابلے میں چین توانائی کے شعبے میں33.79ارب ڈالر شاہراں پر 5.90 ارب ڈالر، ریل پر 3.69، ماس ٹرانزٹ لاہور میں 1.60 ارب ڈالر، گوادر پورٹ پر 0.66ارب ڈالر، چائنہ پاکستان فائبر آپکٹس پر 0.04 ارب ڈالر خرچ کرے گا جو کہ مجموعی طور پر45.69 ارب ڈالر بنتا ہے۔
اس طرح چین امریکہ سے بازی لے گیا۔ اس کے ساتھ ہی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرے گا جو علاقائی اور عالمی معیشت کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاک چین تعلقات میں سٹریٹجک تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ، اس کا محض اقتصادی و سیاسی رشتوں سے تعلق نہیں۔

چین کی ترقی کا راز سائنسی منصوبہ بندی اور قدم بہ قدم حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے میں ہے جو 10 ہزار میل کا سفر بھی قدم بہ قدم طے کر لیتے ہیں ہمیں چین کی ترقی کے تجربہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ سخت محنت کے ساتھ کام کیا جائے۔ اچھی منصوبہ بندی سے ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں چین نے ثقافتی انقلاب میں اعلیٰ درس گاہیں قائم کیں، معاشی ترقی پر توجہ دی، 1978ء میں ماوٴ کے انتقال کے بعد چین کی نئی قیادت نے نئے سفر کا آغاز کیا اور اصلاحات لاتے ہوئے پورے چین کو ترقی سے ہمکنار کیا، آج چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت ہے کوریڈور میں 80 منصوبوں میں توجہ توانائی پر مرکوز کی گئی ہے، پاکستان چین کی مدد سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر لے گا اور ہم چین کی شراکت سے تھر کے کوئلے کو استعمال میں لاتے ہوئے آئندہ دس سالوں میں 6600 میگاواٹ کے پاور پلانٹس لگائے جائیں گے۔
کوریڈور کے تحت گوادر کی بندرگاہ کو عالمی بندرگاہ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری کا ایک اور اہم ستون علاقائی روابط کا فروغ ہے، پاکستان معیشت، تجارت اور توانائی کا پل بن جائے گا، خطہ کی 3 ارب کی آبادی کو اس کے زبردست فوائد حاصل ہوں گے جو اکیسویں صدی کی بڑی کامیابی ہوگی، اس کے اثرات پاکستان، چین، یورپ، مشرق وسطیٰ تک جائیں گے اور ہر خطہ اس منصوبہ سے فائدہ اٹھائے گا۔
اس منصوبے کی بدولت جاپان، امریکہ اور یورپ سے سرمایہ کار بھی پاکستان آئیں گے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نام سے شروع ہونے والے منصوبوں سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا، اقتصادی اور سیکیورٹی خدشات ختم ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو گااور یہ وسیع پالیسی کا منصوبہ ہے جسے ون بیلٹ ون روڈ کا نام دیا گیا ہے، یہ چین کو ایشیائی اور یورپی ممالک کی منڈیوں سے ملائے گا۔ رپورٹ کیمطابق چین کیلئے دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں بڑے منصوبوں کا آغاز ایک بڑا چیلنج ہے تاہم چینی کارکنوں اور انجینئرز کی پاکستان میں حفا ظت کیلئے اسپیشل سیکیورٹی فورسز کی تشکیل کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان