بند کریں
جمعرات فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غریب کا میٹر کاٹنے والے طاقت ور سے ڈرتے ہیں؟
سینیٹرز اور وفاقی وزراء سمیت 101اراکین اسمبلی نادہندہ ہیں
ہماری سرکار بجلی کے بل کی ادائیگی پر خاص زور دیتی ہے۔د وسری جانب بجلی کے محکمے بھی ”لائن لاسز“ کے نام پر عام شہریوں سے زیادہ بل وصول کرتے ہیں۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک عام پاکستانی شہری جتنے کی بجلی استعمال کرتا ہے لگ بھگ اتنے ہی اضافی پیسے ٹیکس اور لائن لاسز کی مد میں بھی ادا کرتا ہے۔ میٹر ریڈنگ کے حوالے سے بھی شہریوں کے تحفظات موجود ہیں ۔
دوسری جانب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہمارے چار وفاقی وزراء سمیت 101 اراکین پارلیمنٹ آئیکسوکے نادہندہ نکلے۔یہ وہ وزراء ہیں جنہوں نے اسلام آباد میں سرکاری رہائش کے مزے لیے لیکن بجلی کے بل ادا ہی نہیں کیے۔ ان میں سے کچھ نے چند ماہ کا بل ادا نہیں لیکن چند نے تو کچھ سالوں سے بل ادا کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ ڈیفالٹرز کی اس فہرست میں وفاقی وزراء کیساتھ ساتھ 20 سینیٹرز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے پائے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پرویز رشید 38ہزار 116 کے نادہندہ ہیں۔ وزیر عبدالقادر بلوچ 65ہزار 537 روپے، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن 43 ہزار 819 روپے، مولانا سمیع الحق 1لاکھ736 روپے اور ماروی میمن نے 1ہزار 698 روپے ادا نہیں کئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے 25ہزار 39روپے، سعید الاسلام 1لاکھ 92ہزار 301 روپے، جمشید دستی 2لاکھ 11 ہزار 764 روپے، سینیٹر طلحہ محمود 40ہزار 105روپے،وزیر ہاوٴسنگ اکرم درانی 25ہزار 309 روپے ، دانیال عزیز 68ہزار 400 روپے کے نادہندہ ٹھہرے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما خالد مقبول صدیقی 25ہزار 961 روپے ، عاجز دھامرا 72 ہزار 558 روپے جبکہ اسرار ترین 2لاکھ 17ہزار500 روپے کے نادہندہ ہیں۔ اس طرں نثار احمد نے 2لاکھ 14ہزار 516 روپے ، فتح محمد حسنی 2لاکھ 20ہزار 780 روپے، ہلال الرحمٰن 2لاکھ 63ہزار 279 روپے، عاصمہ ممدوٹ 24 ہزار 187 روپے ، شاہد رحمنٰ 10لاکھ 561 روپے ،شہاب الدین 2لاکھ 92ہزار 710 روپے، علی حسن گیلانی 2لاکھ 61ہزار 71روپے، احمد حسن 31ہزار 905 روپے ، کامران مائیکل 42ہزار 272 روپے، خورشید شاہ 27ہزار 777 روپے ، نعمان شیخ 60ہزار 597 روپے ، نسیمہ احسان 2لاکھ 71ہزار 764 ، اسرار اللہ زہری 1لاکھ 4ہزار 730، جبکہ رانا محمد حیات نے 1لاکھ 12ہزار 745 روپے بجلی کا بل ادا نہیں کیا۔
یہ وہ معزز راہنما ہیں جو پوری قوم کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف پارلیمنٹ کی اہمیت کا علم ہے بلکہ قانون کی اہمیت بھی ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ہماری پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث، مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس بھی انہی کے سامنے پیش ہوتی ہے۔ سرکار ی اداروں کے نظام سے بھی انہیں خوب واقفیت ہے اور یہی لوگ بہتر جانتے ہیں کہ محکموں کو اپنی بقا کے لیے واجبات کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک طرف یہ معزز اراکین اسمبلی قوم سے مہنگائی ختم کرنے کے وعدے کرتے ہیں۔ یہی رہنما دعویٰ کرتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا حل ان کے پاس ہے۔ دوسری جانب یہی معزز راہنما بجلی کے بل تک ادا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اگر ایک عام شہری بجلی کا بل ادا نہ کرے تو اسے نوٹس بھیجنے کے ساتھ ساتھ اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ سرکاری محکمے نے ان معزز راہنماوں کو کتنے نوٹس بھیجے اور کتنے راہنماوں کی بجلی عدم ادائیگی کی وجہ سے کاٹی؟ کیا آئیسکو کے ذمہ داران توہین کے مرتکب تو نہیں ہو گئے۔ اسی آئین کی توہین جو کہتا کہ تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-15

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان