بند کریں
اتوار فروری

مزید خصوصی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فراڈ کے نئے انداز
غربت اور مہنگائی کے مارے لوگوں کو سبز باغ دکھا کر لوٹا جاتا ہے۔۔۔۔ آج موبائل نیٹ ورک کے ذریعے فراڈ کرنے والے نئے جال بچھاتے اور شکار پھنساتے نظر آتے ہیں
خالد یزدانی:
پرانی بات ہے فنانس کارپوریشنوں نے زیادہ منافع کا لالچ دے کر نہ صرف ان کو زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کردیا تھا بلکہ سینکڑوں لوگوں نے اپنا گھر بیچ کر بھی بھاری رقم ان فنانس کمپنیوں میں جمع کروادی جنہوں نے چند ماہ تومنافع کی رقوم عام بینکوں کے شرح منافع سے زیادہ ادائیگی کی دیکھتے ہی دیکھتے یہ سلسلہ طول پکڑ گیا اوعام لوگ جن کے بس میں رقم جمع کروانا ناممکن تھا انہوں نے بھی زیادہ منافع کے لالچ میں قرض لے کر یا اپنی جمع پونجی بیچ کر ان فنانس کمپنیوں میں رقم جمع کروا دی بس پھر کیا تھاجب کمپنیوں کا پیٹ بھر گیا اور زیادہ سے زیادہ لوگ لْٹ چکے ،ان کی سیاہ کاریوں کا پردہ چاک ہوا تو اس وقت پانی سر سے گزر چکا تھا، اسی صدمہ سے کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کئی آج بھی زندہ درگور ہیں۔

کل کی بات ہے ”ڈبل شاہ“ کے کارناموں سے کون واقف نہیں جس کا سارے ملک میں ”چرچا“ تھا اور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی ڈبل شاہ کے شکنجے میں آگئے ابتدا میں ڈبل شاہ نے ان کو بھاری رقوم ادا کی جس وجہ سے پولیس والوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ آج دنیا ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے چاند سے آگے سیاروں پر کمندیں ڈال رہی ہے اور الیکٹرانک میڈیا کی بدولت دنیا ”گلوبل ویلج“ کی شکل اختیار کر چکی ہے، مگر لالچ کی ترغیب دینے اور لالچ میں آنے والوں کی کمی نہیں۔
کل بنارسی ٹھگ اور دھوکہ منڈیوں والے ہی سادہ لوح مسافروں کو لالچ کے جال میں پھنسا کر ان کو لوٹتے تھے اور آج بھی سونا ڈبل کرنے یا روپے دگنے کرنے کا کرتب دکھا کر ہاتھ کی صفائی دکھائی جا رہی ہے۔ مگر آج موبائل، کمپیوٹر اور نیٹ کی بدولت فراد کرنے والے نئے جال بچھاتے اور شکار پھنساتے نظر آتے ہیں۔
چند روز قبل مجھے گوجرانوالہ سے ایک جاننے والے دکاندار کا فون آیا۔
اس کا کہنا تھا کہ مجھے کراچی کے فلاں نمبر سے فون آیا کہ آپ کو مبارک ہو، آپ کے نام کار نکلی ہے۔ میں نے کہا تو اس میں مجھے فون کرنے کی وجہ، آپ کی کسی قرعہ اندازی میں کار کسی کمپنی نے انعام میں نکال دی ہے تو جا کر لے آؤ۔ وہ بولا، بات یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ کار کو کراچی سے گوجرانوالہ بھجوانے کا خرچہ بیس ہزار روپے ہے۔ آپ آج شام تک یہ رقم ”ایزی پیسہ“ کے ذریعے بھجوا دو ورنہ کار کسی اور کو دے دی جائے گی۔

میں نے کہا کہ اب میں کیا کروں، وہ بولا آپ اخبار میں کام کرتے ہیں آپ اس نمبر پر فون کر کے مہلت ہی لے دیں، میرے پاس سردست پانچ ہزار ہیں اور پانچ ہزار میں ادھار پکڑ لوں گا۔ میں نے اسے کہا کہ عقل کے اندھے اگر تم نے اپنی رقم گنوانی ہے تو یہ شوق پورا کر لو یا پھر ایسا کرو اب کراچی سے فون آئے تو کہنا بھیا میرے پاس رقم کا بندوبست نہیں ہوا آپ کار کے چاروں ٹائر اتار کر اسے بیچ کر اپنی رقم پوری کر لیں اور بغیر پہیوں کار مجھے بھجوا دیں۔
خیر بڑی مشکل سے اسے راضی کیا اور آخر کار اگلے روز اس نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میری آنکھوں پر بندھی لالچ کی پٹی کھول دی ہے۔ میں نے توآج تک کسی سکیم میں حصّہ نہیں لیا۔ پھر وہ مجھے لاکھوں روپے کی نئی کار مفت دینے پر کیوں اصرار کر رہے تھے؟
قارئین! آج پاکستان میں لاکھوں نہیں مختلف کمپنیوں کے کروڑوں موبائل اور سم اعلیٰ سے ادنی کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، میری طرح آپ کے موبائل پر بھی کبھی نہ کبھی ایس ایم ایس آیا ہو گا کہ فلاں انکم سکیم پروگرام کے تحت آپ کو پچیس ہزار دو سو روپے آئے ہیں یہ میرا موبائل نمبر بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہے آپ اس نمبر پر کال کریں۔

اس طرح کے پیغامات اب نئی بات نہیں رہے، ایسے پیغامات پر کئی لالچ میں آکر ان کی ہدایات پر عمل کر کے ان کو کچھ نہ کچھ رقم بھجواتے ہوں گے یا موبائل میں موجود بیلنس سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہوں گے۔
فراڈ کی نت نئی سکیموں کے حوالے سے لاہور سے کامران نعیم صدیقی نے کچھ تفصیل لکھی ہیں:آج کل انٹرنیٹ پر بعض کمپنیاں کلک لوڈ جیسی کئی دیگر کمپنیاں اور ادارے غریب اور سادہ لوح افراد کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
ایسے ادارے دھوکہ دہی اور لوٹ مار کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں اپنی ویب سائٹ پر لکھی گئی تحریر سے یہ کمپنیاں غربت اور مہنگائی کے مارے افراد کو ایسا سبز باغ دکھاتے ہیں کہ حالات کے ستائے ہوئے افراد ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں اوران کے اکاؤنٹ میں 3 ہزار سے لے کر 15 ہزار روپے تک کی رقم جمع کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ آپ ہمارے اکاؤنٹ میں اتنی رقم بطور سکیورٹی جمع کروائیں۔
اپنی آئی ڈی بنائیں اور روزانہ 3 سو سے لے کر 500 روپے تک کی رقم بنا کسی مشقت کے گھر بیٹھے کمائیں۔ دیکھا گیا ہے کہ سادہ لوح افراد کے ساتھ ساتھ کئی پڑھے لکھے افراد بھی ان کے بچھائے گئے جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اب ان کے اکاؤنٹ میں خاصی بھاری رقم ٹرانسفر ہو گئی ہے تو وہ نودو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ فراڈ کا یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔
شروع شروع میں یہ ادارے اپنی ساکھ بنانے کے لئے لوگوں کو ہرہفتے رقم دیتے رہے ہیں لیکن اب ان میں سے کئی کمپنیاں لوگوں کو کروڑوں روپے کا ٹیکا لگا کر فرار ہو چکیں ہیں۔ غریب اور مجبور افراد کو انکی جمع پونجی سے محروم کرنے والے یہ ادارے کسی رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان کے خلاف فوری طور پر اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اوران پر پابندی لگائی جائے ان کی ویب سائیڈ بند کی جائیں۔ ارباب اختیار کو چاہیے کہ عوام میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کے لئے ان کے خلاف ٹی وی اور اخبارات میں باقاعدہ مہم چلائیں تا کہ ایسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-16

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان